این آر او کیس حکومت نے بروقت کارروائی نہ کر کے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی سپریم کورٹ
سوئس خط غائب کرنے کی ذمے دار سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی ہیں، اٹارنی جنرل، حکومت نے کیا کارروائی کی؟چیف جسٹس
حکومت کو فری ہینڈ شفافیت لانے کیلیے دیا، بصورت دیگر ہمارے اور بھی آپشنز ہیں، عدالت۔ ۔فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے سوئس مقدمات ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ بروقت عدالتی کارروائی نہ کر کے حکومت نے بادی النظر میں این آر او کیس میں عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے، حکومت لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے میں سنجیدہ نہیں، غفلت برتنے والی سیکریٹری اب بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل کو 20نومبر تک مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں کہ کیس خراب کرنے کی مبینہ ذمے دار سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سوئس مقدمات میں اپیل زائد المیعاد ہونے کے باعث خارج ہو گئی، اس لیے سوئس مقدمات اب ختم ہو چکے ہیں، اپیل سوئس اٹارنی کا جوابی لیٹر بروقت نہ ملنے کی وجہ سے زائد المیعاد ہوئی اور انکوائری کمیٹی نے اس کی ذمے داری سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی پر عائد کی ہے۔
جمعے کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کی تو این آر او سے فائدہ اٹھانے والے احمد ریاض شیخ اور عدنان اے خواجہ کی جانب سے ڈاکٹر باسط پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلان کا معاملہ ختم ہو چکا ہے ان کو تعینات کرنے اور ترقی دینے والوں کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کردیا ہے۔ عدالت نے پراسکیوٹرجنرل نیب کے کے آغا سے کہا کہ وہ عدالت کی معاونت اور آسانی کیلیے ایک سمری بنائیں کہ کون سے معاملات ختم ہو چکے ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری کے حوالے سے عدالتی احکام کی تعمیل میں سوئس حکام کو لکھے گئے خط سے متعلق اٹارنی جنرل منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں کیس ری اوپن کرنے کیلیے سوئس حکام کو ایک خط لکھا گیا تاہم اس کے کچھ دنوں بعد دوسرا خط لکھ دیا گیا۔
اس پر سوئس حکام کا جوابی خط وزارت قانون کو موصول ہوا جس میں وضاحت مانگی گئی تھی اس جوابی خط کو خفیہ رکھا گیا اور اس وقت منظر عام پر آیا جب کیس ری اوپن کرنے کی مدت گزر چکی تھی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ موجودہ وزیر اعظم نے اس معاملے کی انکوائری کیلیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی جس نے ان خطوط کا ریکارڈ غائب کرنے یا خفیہ رکھنے کی ذمے دار سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی کو قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر حکومت نے اس کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ اب سیکریٹری قانون نہیں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ جرم کرنے والا اگر عہدے پر نہ رہے تو جرم ختم نہیں ہو جاتا، کارروائی اب بھی ہو سکتی ہے۔
کیا یہ رپورٹ بھی دبا دینی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر رپورٹ الماری میں رکھنے کیلیے بنائی تھی تو کمیٹی بنانے اور انکوائری کی کیا ضرورت تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سیکریٹری قانون کے خلاف کارروائی کیلیے آرڈر جاری کردے جس پرعدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت آخر اتنی کمزور کیوں ہے جو ایک سیکریٹری کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، یہ ادارہ جاتی بد انتظامی ہے اور حکومت کو اس پر کارروائی کرنا ہے عدالت نے سوئس حکام کو خفیہ خط لکھنے کے حوالے سے حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ اور ذمے داران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے جواب طلب کرتے ہوئے 20 نومبر تک سماعت ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل کو 20نومبر تک مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں کہ کیس خراب کرنے کی مبینہ ذمے دار سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سوئس مقدمات میں اپیل زائد المیعاد ہونے کے باعث خارج ہو گئی، اس لیے سوئس مقدمات اب ختم ہو چکے ہیں، اپیل سوئس اٹارنی کا جوابی لیٹر بروقت نہ ملنے کی وجہ سے زائد المیعاد ہوئی اور انکوائری کمیٹی نے اس کی ذمے داری سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی پر عائد کی ہے۔
جمعے کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کی تو این آر او سے فائدہ اٹھانے والے احمد ریاض شیخ اور عدنان اے خواجہ کی جانب سے ڈاکٹر باسط پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلان کا معاملہ ختم ہو چکا ہے ان کو تعینات کرنے اور ترقی دینے والوں کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کردیا ہے۔ عدالت نے پراسکیوٹرجنرل نیب کے کے آغا سے کہا کہ وہ عدالت کی معاونت اور آسانی کیلیے ایک سمری بنائیں کہ کون سے معاملات ختم ہو چکے ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری کے حوالے سے عدالتی احکام کی تعمیل میں سوئس حکام کو لکھے گئے خط سے متعلق اٹارنی جنرل منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں کیس ری اوپن کرنے کیلیے سوئس حکام کو ایک خط لکھا گیا تاہم اس کے کچھ دنوں بعد دوسرا خط لکھ دیا گیا۔
اس پر سوئس حکام کا جوابی خط وزارت قانون کو موصول ہوا جس میں وضاحت مانگی گئی تھی اس جوابی خط کو خفیہ رکھا گیا اور اس وقت منظر عام پر آیا جب کیس ری اوپن کرنے کی مدت گزر چکی تھی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ موجودہ وزیر اعظم نے اس معاملے کی انکوائری کیلیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی جس نے ان خطوط کا ریکارڈ غائب کرنے یا خفیہ رکھنے کی ذمے دار سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی کو قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر حکومت نے اس کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ اب سیکریٹری قانون نہیں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ جرم کرنے والا اگر عہدے پر نہ رہے تو جرم ختم نہیں ہو جاتا، کارروائی اب بھی ہو سکتی ہے۔
کیا یہ رپورٹ بھی دبا دینی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر رپورٹ الماری میں رکھنے کیلیے بنائی تھی تو کمیٹی بنانے اور انکوائری کی کیا ضرورت تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سیکریٹری قانون کے خلاف کارروائی کیلیے آرڈر جاری کردے جس پرعدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت آخر اتنی کمزور کیوں ہے جو ایک سیکریٹری کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، یہ ادارہ جاتی بد انتظامی ہے اور حکومت کو اس پر کارروائی کرنا ہے عدالت نے سوئس حکام کو خفیہ خط لکھنے کے حوالے سے حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ اور ذمے داران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے جواب طلب کرتے ہوئے 20 نومبر تک سماعت ملتوی کر دی۔