قومی اسمبلی اپوزیشن کا وزرا کی غیر حاضری پر 2 بار واک آؤٹ متوازی اجلاس کی دھمکی دیدی

5 ماہ ہوگئے، وزراعظم 2بارایوان آئے، وزرا نہیں، خالی ایوان سے بہترہےاجلاس ملتوی کیا جائے، خورشیدشاہ،شاہ محمود،شیخ رشید

وزیرداخلہ پیرکوبحث سمیٹیں گے، زاہد حامد،غیرجمہوری رویہ سے مداخلت کا موقع ملتا ہے، پیرزادہ، خورشید شاہ کا مجسمہ لگانے کی تجویز۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے وزرا کی عدم موجودگی پرشدید احتجاج کرتے ہوئے 2بار اجلاس سے واک آئوٹ کیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر پیر تک طالبان سے مذاکرات ، ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی پر حکومتی موقف واضح نہیں کیاگیا توایک اور ٹینٹ اجلاس بلانا پڑیگا۔

جمعے کواجلاس ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ عباسی کی صدارت میں ہوا۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پرکہا کہ وزیرداخلہ نے آج ڈرون حملوں پربحث سمیٹنا تھا مگرمتعلقہ وزیرنہ ہی حکومتی ممبران حاضر ہیں،ایوان میں اسکول کے بچے بھی بیٹھے ہیں، انھیں کیا پیغام جائیگا،حکومتی وزرا صرف اپنے دفاتر میں بیٹھنے کے شوقین ہیں، اگر حکومت ایوان نہیں چلاسکتی توپھرزاہد حامد نئی ترمیم لائیں اور130 دن کے بجائے 110 دن اجلاس کے رکھ دیں،خالی ایوان چلانے سے بہترہے کہ اجلاس ملتوی کیا جائے، اس سے بچت بھی ہو۔ شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم 5 ماہ سے اسمبلی یا سینیٹ تشریف نہیں لائے، 150روپے کلو ٹماٹر مل رہا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر حکومت نے اسی طرح عوامی خواہشات کی ترجمانی کرنی ہے تو پھر میری ساری اپوزیشن سے گزارش ہے کہ ہم سب لابی میں جاکربیٹھتے ہیں،جس کے بعد اپوزیشن واک آؤٹ کرگئی تاہم ایم کیوایم کے ارکان ایوان میں موجود رہے۔




وفاقی وزیرزاہد حامد نے وضاحت پیش کرتے ہوئے بہت سے ممبران قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ہیں، وزیر داخلہ پیرکوبحث سمیٹیں گے ۔ بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ اور سکندر حیات بوسن کو اپوزیشن ارکان کومنانے کے لیے بھیجا اور وہ انھیں واپس لے آئے۔ بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس پیر کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔ قبل ازیں ایوان میں قانون و انصاف کمیشن پاکستان (ترمیمی) بل 2013 پیش کردیا گیا۔لمز اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے طلبہ نے اجلاس کی کارروائی دیکھی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم صرف 2 بار اسمبلی میں آئے ہیں، حالانکہ روایت یہ رہی ہے کہ وزیراعظم غیرملکی دوروں پر ایوان کو اعتماد میں لیتے رہے ہیں، اگر پیر کو ایسا نہ ہوا تو پھر مجبوراً ایک نیا ٹینٹ لگانا پڑیگا ۔
Load Next Story