کراچی آپریشن آخری مجرم کی گرفتاری تک جاری رہے گا نواز شریف
سیاسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، دہشت گرد اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ آپریشن4یا6ماہ میں ختم ہوجائیگا، وزیراعظم
رینجرز ہیڈکوارٹر کراچی کے دورے کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران پکڑا جانے والا اسلحہ دکھایاجارہا ہے ۔ فوٹو : آن لائن
وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ کراچی میں اہداف کے حصول،قیام امن اورآخری مجرم کی گرفتاری تک بلاامتیاز ٹارگٹڈآپریشن جاری رہے گا۔
آپریشن کے باعث شہرمیں امن قائم ہورہاہے اوراس کامیابی میں پولیس خصوصاً رینجرزکااہم کردارہے،کراچی میں قیام امن کیلیے وفاق حکومت سندھ کوہرممکن تعاون اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گا،کراچی آپریشن کے دوران کسی بے گناہ شخص کوگرفتارنہ کیاجائے۔ان خیالات کااظہارانھوں نے رینجرز ہیڈکوارٹرکراچی میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں گورنرعشرت العباد ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار،ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل رضوان اختر اوردیگرانٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نوازشریف ملک کے واحدوزیرا عظم ہیں جنھوں نے رینجرز ہیڈکوارٹرسندھ کادورہ کیاہے ۔رینجرز ہیڈکوارٹر پہنچنے پر ڈی جی رینجرزنے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔
اجلاس میں ڈی جی رینجرزنے وزیر اعظم کوکراچی میں امن و امان کی موجودہ صورتحال،جرائم پیشہ عناصرکے خلاف جاری ٹارگٹڈآپریشن پرتفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعظم نے کراچی آپریشن میں رینجرزکے کردار کوسراہتے ہوئے کہاکہ کراچی کی رونقیں بحال کرنے اورکامیاب ٹارگٹڈآپریشن میں رینجرزکااہم کردارہے اوررینجرز کی کارکردگی کے باعث کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے کراچی کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کاشہر بنائیں گے۔وزیر اعظم نے وفاقی وزیرداخلہ کوہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن کے لیے وزارت داخلہ،سندھ حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے اور انھیں تمام وسائل مہیاکیے جائیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن کے لیے تمام ادارے رابطے کے نظام کومربوط بنائیں۔
وزیر اعظم نے مزیدہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اوررینجرزجرائم پیشہ عناصرکیخلاف سیاسی وابستگیوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے کارروائی جاری رکھیں۔وزیر اعظم نے ڈی جی رینجرز کی بریفنگ پراطمینان کااظہار کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کورینجرزہیڈکوارٹرکے دورے کے موقع پرڈی جی رینجرزنے دو ماہ کے دوران ٹارگٹڈ آپریشن میں پکڑاجانے والا اسلحہ بھی دکھایا،وزیراعظم اسلحے کودیکھ کر حیران رہ گئے۔ڈی جی رینجرزنے وزیراعظم کو غیر قانونی موبائل سمزبندنہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کے بارے میں آگاہ کیاجس پر وزیراعظم نے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکوغیرقانونی سمزبندکرنے کی ہدایت کی ۔دریں اثنا گورنر ہائوس کراچی میں وزیراعظم سے شہرکے26تاجروں نے ملاقات کی۔
تاجربرادری نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے دوران شہرمیں جاری آپریشن کے گرتے ہوئے گراف کی شکایت کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن کومصلحتوں سے بالائے طاق رکھنے کامطالبہ کیا،تاجرنمائندوں شکوہ کیاکہ کراچی میں آپریشن کاآغازانتہائی بہترین تھالیکن بعدازاں مختلف مصلحتوں کی وجہ سے جاری آپریشن کاگراف گرتاچلاگیاہے اورمطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ملاقات میں کراچی چیمبرسے سراج قاسم تیلی،زبیرموتی والا اور صدرکراچی چیمبر عبداللہ ذکی کے علاوہ کراچی اسٹاک ایکس چینج کے سینیررکن اورممتازصنعتکارعقیل کریم ڈھیڈی،ایس ایم منیرودیگر شریک تھے۔ملاقات کے دوران کراچی چیمبرکے صدرعبداللہ ذکی نے وزیراعظم نوازشریف سے معیشت،تجارت وصنعت کے حوالے سے درپیش تاجربرادری کے مسائل پربھی بات چیت کی خواہش ظاہرکی جس پر وزیراعظم نے کہا کہ فی الوقت ان کی اولین ترجیح کراچی میں ٹھوس بنیادوں پرامن کاقیام ہے اوروہ صرف ایک ایجنڈے کے ساتھ کراچی آئے ہیں ۔
تاہم وزیراعظم نے کراچی چیمبرسے وعدہ کیاکہ وہ کراچی میں اگلااجلاس صرف معیشت،تجارت وصنعت پر طلب کریں گے یاپھر کراچی کے تاجروں کواسلام آباد طلب کیاجائے گا۔وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کی نگرانی کیلیے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مطالبے پرمانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دیدی،مانیٹرنگ کمیٹی سندھ حکومت اورقانون نافذکرنے والے اداروں کی مشاورت سے جلد قائم کردی جائے گی،انھوں نے کہاکہ کراچی میں جرائم پیشہ افراداوردہشت گرداس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ٹارگٹڈآپریشن 4یا6ماہ میں ختم ہوجائے گا،یہ آپریشن اس وقت تک چلتا رہے گاجب تک ایک ایک مجرم کو پکڑ نہیں لیاجائے گا،ہم اپنے گریبان کو جھانک کردیکھیں کہ کراچی سمیت پورے ملک میں خون خرابے اوربدامنی میں ہمارا اپنا کردار کیاہے۔
دہشت گرد عناصر کی کیوں پشت پناہی کی گئی،جن کی وجہ سے ہمارے اپنے گھر میں آگ لگ گئی،کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن پر کوئی سیاسی دبائوقبول نہیں کیا جائے گااورنہ ہی کسی سیاسی بلیک میلنگ میں آئیںگے،شہر میں جرائم کے خاتمے تک ٹارگٹڈآپریشن جاری رہے گا۔یہ بات انھوں نے ایم کیوایم کے وفدسے ملاقات،سینئر مدیران،سینئر صحافیوں، بزنس کمیونٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں سے ملاقات میں کیا۔ ایم کیو ایم کے وفدسے ملاقات میں وزیراعظم نے کہاکہ وفاقی حکومت ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کااحترام کرتی ہے،ٹارگٹڈآپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں کیاگیا،ملکی ترقی اور قیام امن کے لیے تمام سیاسی قوتیں ہماراساتھ دیں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق گورنرہائوس میں جمعے کومتحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔
وفد میں ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، بابر غوری،عادل صدیقی اور ڈاکٹر صغیراحمد شامل تھے۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے وفدنے وزیراعظم کو کراچی میں امن وامان کی صورتحال، ٹارگٹڈ آپریشن پر ایم کیو ایم کے تحفظات اور دیگر امور سے آگاہ کیا۔وفد نے وزیراعظم کو بتایاکہ آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیاہے ، جس کی وجہ سے ہمارے کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے،اس موقع پر ڈاکٹرفاروق ستار نے کہاکہ ایم کیو ایم کراچی میں قیام امن کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتی ہے اور قیام امن کے لیے کی جانے والی حکومتی کوششوں میں مکمل تعاون کرے گی۔مدیران اور سینئرصحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ہم کراچی آپریشن کومنطقی انجام تک پہنچائیں گے۔انھوں نے کہاکہ میں گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنھوں نے آپریشن میں بھرپور تعاون کیا۔وزیراعظم نے تاجروں سے ملاقات کے حوالے سے کہاکہ میں سہانے خواب دکھانے کے بجائے یہ کہہ سکتاہوں کہ ہم اپنی مدت میں معاشی مسائل پرقابوپانے میں کامیاب ہوجائیں گے،ہم نے بجلی کے نرخ شوق سے نہیں بڑھائے، پہلے 500 ارب روپے کے گردشی قرضے ادا کیے،اس کے بعداس مد میں 70 سے 80 ارب روپے مزید ادا کرچکے ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف سے گورنرہائوس میں مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے بھی ملاقات کی ۔ملاقات میں ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی،سلیم ضیا،اسماعیل رائو،عرفان اللہ مروت،ہمایوں خان اوردیگر موجودتھے۔ملاقات میں پارٹی رہنمائوں نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال خصوصاًسندھ میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نواوربلدیاتی انتخابات سمیت دیگرامورسے آگاہ کیا۔ بی بی سی کے مطابق کراچی میں سنیئر صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 40 ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔ میری کوشش اور خواہش ہے کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں تاکہ پاکستان میں امن قائم ہو اور میں پرامید ہوں کہ طالبان اس کا مثبت جواب دیں گے۔ انھوں نے طالبان کے علاوہ افغانستان اور بھارت سے بھی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہم جنگجو لوگ نہیں ہیں اور جنگوں سے معاملات حل کرنا نہیں چاہتے۔ کراچی آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو گرفتار ملزم رہا ہوجائیں اور دوبارہ اپنی صفوں میں گھس جائیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کاکسی سے بھی انتقام لینے کاارادہ نہیں،بھٹکے ہوئے لوگوں سے کہتاہوں کہ وہ ملکی قافلے میں شامل ہوجائیں،طالبان سے مذاکرات کی کوششیں جاری رکھیں گے،ناراض بلوچ بھی واپس آئیں اورملکی ترقی میں اپناکرداراداکریں،ضلع آواران کوماڈل ضلع بنائیں گے جوکسی بھی صورت لاہوراورکراچی سے کم نہیں ہوگا،ہم چاہتے ہیں کہ جو لوگ متاثرہوئے ہیں انھیں دوبارہ ان کے گھروں میں آبادکیاجائے،بحالی کاکام وزیراعلی بلوچستان کوسونپاہے اور چاہتے ہیں کہ متاثرین کے گھروں کی تکمیل جلدازجلدہو،آواران میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کی جائے گی،حکومت آواران کے عوام کے دردمیں برابرکی شریک ہے۔
وہ آواران میں انسانی جانوں کے ضیاع پرافسوس کا اظہاراورامدادی سرگرمیوں کاجائزہ لینے کے بعدمتاثرین اورعمائدین سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آواران میں حالیہ زلزلے سے جو تباہ کاریاں ہوئیں ہیں اس سے میں بہت دکھی ہوں،آواران سمیت تمام زلزلہ متاثرہ علاقوں کوماڈل سٹی بنائیں گے یہاں تباہ ہونے والے مکانات کودوبارہ اچھے معیارکے ساتھ تعمیر کیا جائے گا ہم عوام کے درد میں برابر کے شریک ہیں،بلوچ عوام محسوس کریں گے کہ پوراپاکستان ان کے ساتھ ہے۔انھوں نے زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلیے فی کس5لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کیلیے ڈیڑھ لاکھ روپے فی کس دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ آواران میں سولرسسٹم کے ذریعے6سے 8نہیں بلکہ پورے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی کویقینی بنایاجائے گا۔
نواز شریف نے کہاکہ جو لوگ راستے سے بھٹک چکے ہیں ان سے اپیل کرتاہوں کہ وہ پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلیے اپناکردارادا کریں اور قومی دھارے میں شریک ہوجائیں وہ ہمارے بھائی اوربچے ہیں اگروہ راستہ بھول گئے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،یہ حکومت ان کی ہے اوران سے ہمدردی رکھتی ہے وہ اپناراستہ چھوڑ دیں،موجودہ صورتحال میں ہمیں خدمت کے کام کو مزیدموثر بناناہے اور ہمیں مل کریہ سوچنا ہوگا کہ اپنے ملک کو ان مصیبتوں سے کیسے باہر نکالیں اور کس طرح ملکی معیشت کو مستحکم کریں ۔اس موقع پروزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیراعظم پاکستان کادورہ آواران پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم آواران کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور جب تک ان کو ان کے پیروں پرکھڑا نہیں کردیتے ہماری جدوجہدجاری رہے گی۔
آپریشن کے باعث شہرمیں امن قائم ہورہاہے اوراس کامیابی میں پولیس خصوصاً رینجرزکااہم کردارہے،کراچی میں قیام امن کیلیے وفاق حکومت سندھ کوہرممکن تعاون اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گا،کراچی آپریشن کے دوران کسی بے گناہ شخص کوگرفتارنہ کیاجائے۔ان خیالات کااظہارانھوں نے رینجرز ہیڈکوارٹرکراچی میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں گورنرعشرت العباد ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار،ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل رضوان اختر اوردیگرانٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نوازشریف ملک کے واحدوزیرا عظم ہیں جنھوں نے رینجرز ہیڈکوارٹرسندھ کادورہ کیاہے ۔رینجرز ہیڈکوارٹر پہنچنے پر ڈی جی رینجرزنے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔
اجلاس میں ڈی جی رینجرزنے وزیر اعظم کوکراچی میں امن و امان کی موجودہ صورتحال،جرائم پیشہ عناصرکے خلاف جاری ٹارگٹڈآپریشن پرتفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعظم نے کراچی آپریشن میں رینجرزکے کردار کوسراہتے ہوئے کہاکہ کراچی کی رونقیں بحال کرنے اورکامیاب ٹارگٹڈآپریشن میں رینجرزکااہم کردارہے اوررینجرز کی کارکردگی کے باعث کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے کراچی کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کاشہر بنائیں گے۔وزیر اعظم نے وفاقی وزیرداخلہ کوہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن کے لیے وزارت داخلہ،سندھ حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے اور انھیں تمام وسائل مہیاکیے جائیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن کے لیے تمام ادارے رابطے کے نظام کومربوط بنائیں۔
وزیر اعظم نے مزیدہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اوررینجرزجرائم پیشہ عناصرکیخلاف سیاسی وابستگیوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے کارروائی جاری رکھیں۔وزیر اعظم نے ڈی جی رینجرز کی بریفنگ پراطمینان کااظہار کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کورینجرزہیڈکوارٹرکے دورے کے موقع پرڈی جی رینجرزنے دو ماہ کے دوران ٹارگٹڈ آپریشن میں پکڑاجانے والا اسلحہ بھی دکھایا،وزیراعظم اسلحے کودیکھ کر حیران رہ گئے۔ڈی جی رینجرزنے وزیراعظم کو غیر قانونی موبائل سمزبندنہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کے بارے میں آگاہ کیاجس پر وزیراعظم نے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکوغیرقانونی سمزبندکرنے کی ہدایت کی ۔دریں اثنا گورنر ہائوس کراچی میں وزیراعظم سے شہرکے26تاجروں نے ملاقات کی۔
تاجربرادری نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے دوران شہرمیں جاری آپریشن کے گرتے ہوئے گراف کی شکایت کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن کومصلحتوں سے بالائے طاق رکھنے کامطالبہ کیا،تاجرنمائندوں شکوہ کیاکہ کراچی میں آپریشن کاآغازانتہائی بہترین تھالیکن بعدازاں مختلف مصلحتوں کی وجہ سے جاری آپریشن کاگراف گرتاچلاگیاہے اورمطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ملاقات میں کراچی چیمبرسے سراج قاسم تیلی،زبیرموتی والا اور صدرکراچی چیمبر عبداللہ ذکی کے علاوہ کراچی اسٹاک ایکس چینج کے سینیررکن اورممتازصنعتکارعقیل کریم ڈھیڈی،ایس ایم منیرودیگر شریک تھے۔ملاقات کے دوران کراچی چیمبرکے صدرعبداللہ ذکی نے وزیراعظم نوازشریف سے معیشت،تجارت وصنعت کے حوالے سے درپیش تاجربرادری کے مسائل پربھی بات چیت کی خواہش ظاہرکی جس پر وزیراعظم نے کہا کہ فی الوقت ان کی اولین ترجیح کراچی میں ٹھوس بنیادوں پرامن کاقیام ہے اوروہ صرف ایک ایجنڈے کے ساتھ کراچی آئے ہیں ۔
تاہم وزیراعظم نے کراچی چیمبرسے وعدہ کیاکہ وہ کراچی میں اگلااجلاس صرف معیشت،تجارت وصنعت پر طلب کریں گے یاپھر کراچی کے تاجروں کواسلام آباد طلب کیاجائے گا۔وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کی نگرانی کیلیے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مطالبے پرمانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دیدی،مانیٹرنگ کمیٹی سندھ حکومت اورقانون نافذکرنے والے اداروں کی مشاورت سے جلد قائم کردی جائے گی،انھوں نے کہاکہ کراچی میں جرائم پیشہ افراداوردہشت گرداس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ٹارگٹڈآپریشن 4یا6ماہ میں ختم ہوجائے گا،یہ آپریشن اس وقت تک چلتا رہے گاجب تک ایک ایک مجرم کو پکڑ نہیں لیاجائے گا،ہم اپنے گریبان کو جھانک کردیکھیں کہ کراچی سمیت پورے ملک میں خون خرابے اوربدامنی میں ہمارا اپنا کردار کیاہے۔
دہشت گرد عناصر کی کیوں پشت پناہی کی گئی،جن کی وجہ سے ہمارے اپنے گھر میں آگ لگ گئی،کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن پر کوئی سیاسی دبائوقبول نہیں کیا جائے گااورنہ ہی کسی سیاسی بلیک میلنگ میں آئیںگے،شہر میں جرائم کے خاتمے تک ٹارگٹڈآپریشن جاری رہے گا۔یہ بات انھوں نے ایم کیوایم کے وفدسے ملاقات،سینئر مدیران،سینئر صحافیوں، بزنس کمیونٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں سے ملاقات میں کیا۔ ایم کیو ایم کے وفدسے ملاقات میں وزیراعظم نے کہاکہ وفاقی حکومت ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کااحترام کرتی ہے،ٹارگٹڈآپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں کیاگیا،ملکی ترقی اور قیام امن کے لیے تمام سیاسی قوتیں ہماراساتھ دیں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق گورنرہائوس میں جمعے کومتحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔
وفد میں ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، بابر غوری،عادل صدیقی اور ڈاکٹر صغیراحمد شامل تھے۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے وفدنے وزیراعظم کو کراچی میں امن وامان کی صورتحال، ٹارگٹڈ آپریشن پر ایم کیو ایم کے تحفظات اور دیگر امور سے آگاہ کیا۔وفد نے وزیراعظم کو بتایاکہ آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیاہے ، جس کی وجہ سے ہمارے کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے،اس موقع پر ڈاکٹرفاروق ستار نے کہاکہ ایم کیو ایم کراچی میں قیام امن کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتی ہے اور قیام امن کے لیے کی جانے والی حکومتی کوششوں میں مکمل تعاون کرے گی۔مدیران اور سینئرصحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ہم کراچی آپریشن کومنطقی انجام تک پہنچائیں گے۔انھوں نے کہاکہ میں گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنھوں نے آپریشن میں بھرپور تعاون کیا۔وزیراعظم نے تاجروں سے ملاقات کے حوالے سے کہاکہ میں سہانے خواب دکھانے کے بجائے یہ کہہ سکتاہوں کہ ہم اپنی مدت میں معاشی مسائل پرقابوپانے میں کامیاب ہوجائیں گے،ہم نے بجلی کے نرخ شوق سے نہیں بڑھائے، پہلے 500 ارب روپے کے گردشی قرضے ادا کیے،اس کے بعداس مد میں 70 سے 80 ارب روپے مزید ادا کرچکے ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف سے گورنرہائوس میں مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے بھی ملاقات کی ۔ملاقات میں ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی،سلیم ضیا،اسماعیل رائو،عرفان اللہ مروت،ہمایوں خان اوردیگر موجودتھے۔ملاقات میں پارٹی رہنمائوں نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال خصوصاًسندھ میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نواوربلدیاتی انتخابات سمیت دیگرامورسے آگاہ کیا۔ بی بی سی کے مطابق کراچی میں سنیئر صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 40 ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔ میری کوشش اور خواہش ہے کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں تاکہ پاکستان میں امن قائم ہو اور میں پرامید ہوں کہ طالبان اس کا مثبت جواب دیں گے۔ انھوں نے طالبان کے علاوہ افغانستان اور بھارت سے بھی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہم جنگجو لوگ نہیں ہیں اور جنگوں سے معاملات حل کرنا نہیں چاہتے۔ کراچی آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو گرفتار ملزم رہا ہوجائیں اور دوبارہ اپنی صفوں میں گھس جائیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کاکسی سے بھی انتقام لینے کاارادہ نہیں،بھٹکے ہوئے لوگوں سے کہتاہوں کہ وہ ملکی قافلے میں شامل ہوجائیں،طالبان سے مذاکرات کی کوششیں جاری رکھیں گے،ناراض بلوچ بھی واپس آئیں اورملکی ترقی میں اپناکرداراداکریں،ضلع آواران کوماڈل ضلع بنائیں گے جوکسی بھی صورت لاہوراورکراچی سے کم نہیں ہوگا،ہم چاہتے ہیں کہ جو لوگ متاثرہوئے ہیں انھیں دوبارہ ان کے گھروں میں آبادکیاجائے،بحالی کاکام وزیراعلی بلوچستان کوسونپاہے اور چاہتے ہیں کہ متاثرین کے گھروں کی تکمیل جلدازجلدہو،آواران میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کی جائے گی،حکومت آواران کے عوام کے دردمیں برابرکی شریک ہے۔
وہ آواران میں انسانی جانوں کے ضیاع پرافسوس کا اظہاراورامدادی سرگرمیوں کاجائزہ لینے کے بعدمتاثرین اورعمائدین سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آواران میں حالیہ زلزلے سے جو تباہ کاریاں ہوئیں ہیں اس سے میں بہت دکھی ہوں،آواران سمیت تمام زلزلہ متاثرہ علاقوں کوماڈل سٹی بنائیں گے یہاں تباہ ہونے والے مکانات کودوبارہ اچھے معیارکے ساتھ تعمیر کیا جائے گا ہم عوام کے درد میں برابر کے شریک ہیں،بلوچ عوام محسوس کریں گے کہ پوراپاکستان ان کے ساتھ ہے۔انھوں نے زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلیے فی کس5لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کیلیے ڈیڑھ لاکھ روپے فی کس دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ آواران میں سولرسسٹم کے ذریعے6سے 8نہیں بلکہ پورے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی کویقینی بنایاجائے گا۔
نواز شریف نے کہاکہ جو لوگ راستے سے بھٹک چکے ہیں ان سے اپیل کرتاہوں کہ وہ پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلیے اپناکردارادا کریں اور قومی دھارے میں شریک ہوجائیں وہ ہمارے بھائی اوربچے ہیں اگروہ راستہ بھول گئے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،یہ حکومت ان کی ہے اوران سے ہمدردی رکھتی ہے وہ اپناراستہ چھوڑ دیں،موجودہ صورتحال میں ہمیں خدمت کے کام کو مزیدموثر بناناہے اور ہمیں مل کریہ سوچنا ہوگا کہ اپنے ملک کو ان مصیبتوں سے کیسے باہر نکالیں اور کس طرح ملکی معیشت کو مستحکم کریں ۔اس موقع پروزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیراعظم پاکستان کادورہ آواران پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم آواران کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور جب تک ان کو ان کے پیروں پرکھڑا نہیں کردیتے ہماری جدوجہدجاری رہے گی۔