کسی اور ملک کے وفادار کو پارلیمنٹ میں گھسنے نہیں دینگے چیف جسٹس
ہم ایک آزاد اورخود مختار پارلیمنٹ چاہتےہیں،بیرون ملک پیداہونیوالارکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا،دہری شہریت کیس میں ریمارکس
ہم ان لوگوں کے لیے اپنے ایوانوں کا راستہ نہیں کھول سکتے جنھوں نے کسی اور ملک کے ساتھ وفاداری کی قسم کھائی ہو۔فوٹو:فائل
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ہم اپنی پارلیمنٹ کی آزادی اور اقتدار اعلیٰ کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں،کسی اور ملک کی وفاداری کا حلف اٹھانے والے کو پارلیمنٹ میں گھسنے نہیں دیں گے۔
دہری شہریت کے مقدمے میں انھوں نے ریمارکس دیے کہ جن منتخب افراد کو پارلیمنٹ سرپربٹھا دیتی ہے وہ اگرکسی اور ملک کے ساتھ وفاداری قائم رکھنے پربھی بضد ہوں توہم ان کواجازت نہیں دیں گے، یہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کے منافی ہے، پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے پہلے ان کوغیرملکی شہریت ترک کرنا پڑے گی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہمیں وہ عوامی نمائندے چاہئیں جن کی ملک کے ساتھ وفاداری غیرمبہم اورغیر منقسم ہو، انھوں نے کہا آج کل ڈرون حملوں کے معاملے پرامریکا اور پاکستان کے درمیان جومحاذ آرائی چل رہی ہے اس صورتحال میں وہ شخص جوبیک وقت دونوں ملکوں کا شہری ہوکھل کرسامنے نہیں آسکتا وہ تو سخت آزمائش میں ہوگا۔
فاضل جج نے کہا حکومت ڈرون حملے ختم کرنے کیلیے کہہ رہی ہے جبکہ امریکا بات بھی سننے کے لیے تیارنہیں۔ وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ سابق رکن قوی اسمبلی دونیہ عزیزکا معاملہ الگ ہے اور وہ امریکا کی پیدائشی شہری ہیں ان پرآرٹیکل63(1)(سی) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے اس کا فیصلہ کردیا ہے کہ کسی نے شہریت خود حاصل کی یا قدرتی طور پر حاصل ہوئی نااہلیت کا اطلاق دونوں صورتوں میں یکساں ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ملک کی تقدیرکے فیصلے کرنے ہوتے ہیں، منتخب ہونے کے بعد وہ وزیراعظم بھی بن سکتی ہیں۔
ایک غیر ملکی شہری کواس ملک کی وزارت عظمیٰ کیسے دی جاسکتی ہے۔وسیم سجاد نے کہا کل ہائیکورٹ کے جج کے معاملے پربھی یہ مسئلہ اٹھایا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا اہلیت اورنااہلیت کے آئینی آرٹیکل پارلیمنٹیرینزکے لیے ہیں، ہم ان لوگوں کے لیے اپنے ایوانوں کا راستہ نہیں کھول سکتے جنھوں نے کسی اور ملک کے ساتھ وفاداری اور اس کے لیے بندوق اٹھانے کی قسم کھائی ہو، ہم ایک آزاد اورخود مختار پارلیمنٹ چاہتے ہیں۔
دہری شہریت کے مقدمے میں انھوں نے ریمارکس دیے کہ جن منتخب افراد کو پارلیمنٹ سرپربٹھا دیتی ہے وہ اگرکسی اور ملک کے ساتھ وفاداری قائم رکھنے پربھی بضد ہوں توہم ان کواجازت نہیں دیں گے، یہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کے منافی ہے، پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے پہلے ان کوغیرملکی شہریت ترک کرنا پڑے گی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہمیں وہ عوامی نمائندے چاہئیں جن کی ملک کے ساتھ وفاداری غیرمبہم اورغیر منقسم ہو، انھوں نے کہا آج کل ڈرون حملوں کے معاملے پرامریکا اور پاکستان کے درمیان جومحاذ آرائی چل رہی ہے اس صورتحال میں وہ شخص جوبیک وقت دونوں ملکوں کا شہری ہوکھل کرسامنے نہیں آسکتا وہ تو سخت آزمائش میں ہوگا۔
فاضل جج نے کہا حکومت ڈرون حملے ختم کرنے کیلیے کہہ رہی ہے جبکہ امریکا بات بھی سننے کے لیے تیارنہیں۔ وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ سابق رکن قوی اسمبلی دونیہ عزیزکا معاملہ الگ ہے اور وہ امریکا کی پیدائشی شہری ہیں ان پرآرٹیکل63(1)(سی) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے اس کا فیصلہ کردیا ہے کہ کسی نے شہریت خود حاصل کی یا قدرتی طور پر حاصل ہوئی نااہلیت کا اطلاق دونوں صورتوں میں یکساں ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ملک کی تقدیرکے فیصلے کرنے ہوتے ہیں، منتخب ہونے کے بعد وہ وزیراعظم بھی بن سکتی ہیں۔
ایک غیر ملکی شہری کواس ملک کی وزارت عظمیٰ کیسے دی جاسکتی ہے۔وسیم سجاد نے کہا کل ہائیکورٹ کے جج کے معاملے پربھی یہ مسئلہ اٹھایا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا اہلیت اورنااہلیت کے آئینی آرٹیکل پارلیمنٹیرینزکے لیے ہیں، ہم ان لوگوں کے لیے اپنے ایوانوں کا راستہ نہیں کھول سکتے جنھوں نے کسی اور ملک کے ساتھ وفاداری اور اس کے لیے بندوق اٹھانے کی قسم کھائی ہو، ہم ایک آزاد اورخود مختار پارلیمنٹ چاہتے ہیں۔