مذاکرات کامیاب آئی ایم ایف دسمبر میں پاکستان کو 55 کروڑ ڈالر دیگا

عالمی بینک کے ساتھ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے پروگرام کو حتمی شکل دیدی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار

بیرونی ذرائع سے وسائل کی بروقت وصولی نہ ہونے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف کم رہا تھا جسے پورا کرلیا گیا۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 55 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کیلیے مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد اب جائزہ مشن کی رپورٹ پر آئی ایم ایف کا بورڈ دسمبر کے دوسرے ہفتے پاکستان کو قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینک نے جمعے کو وزارت خزانہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا آئی ایم ایف کا پہلا جائزہ نہ صرف کامیاب رہا ہے بلکہ جی ڈی پی گروتھ، ٹیکس وصولیوں اور مینوفیکچرنگ گروتھ سمیت دیگر اہداف آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے اہداف سے بھی زیادہ رہے ہیں تاہم بیرونی ذرائع سے وسائل کی بروقت وصولی نہ ہونے کی وجہ سے کرنٹ اکائونٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف کم رہا تھا جسے پورا کرلیا گیا ہے جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور500 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے سمیت دیگر وعدے تحریری طور پر کیے تھے مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا موجودہ حکومت نے صرف ان وعدوں پر عملدرآمد کیا ہے۔




وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اگر گیس کی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ کی گئی توبجلی کی طرح اس میں بھی کم آمدنی والے گھریلو صارفین پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک ،انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی پاکستان کیلیے قرضے اور امداد کے حصول کیلیے بات چیت جاری ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کا بجٹ خسارہ 1.1 فیصد رہا ہے جو مقررہ ہدف سے بھی کم ہے۔ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینک نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی تسلی بخش ہے ۔
Load Next Story