کراچی میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی تیز کی جائے شرجیل میمن
پولیس اور رینجرزکا تعاون مہیاکیا جائے گا، محکمہ بلدیات کے اجلاس میں حکام کوہدایت
متعدد علاقوں کے باشندے اپنا بل پابندی سے ادا نہیں کرتے، وصولی کو بہتر بنانے کے لیے تمام تراقدامات کیے جائیں ۔ فوٹو: فائل
صوبائی وزیربلدیات واطلاعات شرجیل انعام میمن نے کراچی میں پانی کی چوری اورکراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے بلوں کی عدم وصولی پرسخت ناراضی کا اظہارکرتے ہوئے سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائی تیزکی جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اس کارروائی کوکامیاب بنانے کیلیے پولیس اور رینجرزکا تعاون مہیاکیا جائے گا تاکہ شہرمیں غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے کاروبار کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہارانھوں نے آج محکمہ بلدیات کے اعلیٰ افسران جن میں سیکریٹری بلدیات،ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اوردیگرشامل تھے کے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ اس وقت بلوں کی وصولی کی مد میں ہر مہینے 25 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ متعدد علاقوں کے باشندے اپنا بل پابندی سے ادا نہیں کرتے۔ صوبائی وزیر نے سختی سے ہدایت کی کہ وصولی کو بہتر بنانے کے لیے تمام تراقدامات کیے جائیں ۔
اجلاس میں صوبائی وزیر کو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ایس III کی اہمیت اور اس منصوبے کے مکمل ہونے سے شہر میںماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے اثرات کے بارے میں آگاہ کیا ۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کا کام 20 دن کے اندر شروع کیاجائے بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ شرجیل میمن نے ایم ڈی کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ کوہدایت کی کہ وہ خودآج دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا معائنہ کریں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کوہرصورت میں پینے کا پانی بغیرکسی رکاوٹ کے مہیا کیا جائے۔دریں اثنا صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دینے پرٹیکسٹائل سیکٹر کو مبارک باددیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ٹیکس فری تجارت کو فروغ ملے گا صوبائی وزیر نے پاکستان کے عوام کو سابق صدرآصف زرداری کی جانب سے کیے گئے اس اقدام پر مبارک باد دی ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اس کارروائی کوکامیاب بنانے کیلیے پولیس اور رینجرزکا تعاون مہیاکیا جائے گا تاکہ شہرمیں غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے کاروبار کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہارانھوں نے آج محکمہ بلدیات کے اعلیٰ افسران جن میں سیکریٹری بلدیات،ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اوردیگرشامل تھے کے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ اس وقت بلوں کی وصولی کی مد میں ہر مہینے 25 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ متعدد علاقوں کے باشندے اپنا بل پابندی سے ادا نہیں کرتے۔ صوبائی وزیر نے سختی سے ہدایت کی کہ وصولی کو بہتر بنانے کے لیے تمام تراقدامات کیے جائیں ۔
اجلاس میں صوبائی وزیر کو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ایس III کی اہمیت اور اس منصوبے کے مکمل ہونے سے شہر میںماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے اثرات کے بارے میں آگاہ کیا ۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کا کام 20 دن کے اندر شروع کیاجائے بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ شرجیل میمن نے ایم ڈی کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ کوہدایت کی کہ وہ خودآج دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا معائنہ کریں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کوہرصورت میں پینے کا پانی بغیرکسی رکاوٹ کے مہیا کیا جائے۔دریں اثنا صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دینے پرٹیکسٹائل سیکٹر کو مبارک باددیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ٹیکس فری تجارت کو فروغ ملے گا صوبائی وزیر نے پاکستان کے عوام کو سابق صدرآصف زرداری کی جانب سے کیے گئے اس اقدام پر مبارک باد دی ۔