انسانی گھٹنے کے نئے حصے ’’نسیج‘‘ کی دریافت کا دعویٰ
دریافت کھلاڑیوں کو گھٹنے میں لگنے والی چوٹوں پر تحقیق کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے
ایک دوسرے کوجوڑنے والی یہ نسیجیں پاؤں کوموڑنے میں اہم حفاظتی کردارادا کر سکتی ہیں، ڈاکٹرز۔ فوٹو: فائل
یورپی ملک بیلجیئم میں دو ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے انسانی گھٹنوں میں ایک ایسا 'لیگامنٹ' یا نسیج دریافت کی ہے جس سے دنیا پہلے سے پوری طرح واقف نہیں تھی۔
سائنسی جریدے 'جرنل آف اناٹومی' میں شائع ہونے والے مقالے میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہ دریافت دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو گھٹنے میں لگنے والی چوٹوں پر تحقیق کیلیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ طبی تاریخ میں اس کی جھلک ملتی ہے لیکن پہلی بار واضح طور پر اس کی ساخت کا معائنہ کیا گیا ہے اور اس کی موجودگی کے مقاصد کا پتہ چلا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید مطالعے کی ضرورت ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ گھٹنوں کی سرجری سے اس کی مناسبت کیا ہے۔
سائنس دانوں نے کہا ہے کہ گھٹنے کے جوڑ کو چار اہم نسیجوں (لیگامنٹ) یا موٹے ریشوں کی پٹیاں گھیرے ہوتی ہیں اور ٹانگ کی بالائی اور زیریں ہڈیوں کو ادھر ادھر سے تانے بانے کے انداز میں جوڑتی ہیں تاکہ دونوں اعضا کو حد سے زیادہ حرکت سے باز رکھا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مخصوص لیگامنٹ کا ذکر سب سے پہلے فرانسیسی سرجن پال سیگونڈ نے سنہ1879 میں کیا تھا لیکن بہت زمانے تک اس کی حتمی طبی درجہ بندی نہیں کی جاسکی۔ محقیقین نے41 گھٹنوں کے باریک مطالعے سے نئے نسیج یا لیگامنٹ کی پہچان کی ہے۔ بیلجیئم کی لیون یونیورسٹی کے ڈاکٹر کلیز اور پروفیسر جوہان بلیمینز دوسرے ڈاکٹروں کی تحقیق کو مزید آگے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بہت ہی باریک بینی کے ساتھ ان نسیج کی تصویر کشی کی ہے جو زانو کی ہڈی کو پنڈلی کی ہڈی سے جوڑتی ہیں۔
سائنسی جریدے 'جرنل آف اناٹومی' میں شائع ہونے والے مقالے میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہ دریافت دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو گھٹنے میں لگنے والی چوٹوں پر تحقیق کیلیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ طبی تاریخ میں اس کی جھلک ملتی ہے لیکن پہلی بار واضح طور پر اس کی ساخت کا معائنہ کیا گیا ہے اور اس کی موجودگی کے مقاصد کا پتہ چلا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید مطالعے کی ضرورت ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ گھٹنوں کی سرجری سے اس کی مناسبت کیا ہے۔
سائنس دانوں نے کہا ہے کہ گھٹنے کے جوڑ کو چار اہم نسیجوں (لیگامنٹ) یا موٹے ریشوں کی پٹیاں گھیرے ہوتی ہیں اور ٹانگ کی بالائی اور زیریں ہڈیوں کو ادھر ادھر سے تانے بانے کے انداز میں جوڑتی ہیں تاکہ دونوں اعضا کو حد سے زیادہ حرکت سے باز رکھا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مخصوص لیگامنٹ کا ذکر سب سے پہلے فرانسیسی سرجن پال سیگونڈ نے سنہ1879 میں کیا تھا لیکن بہت زمانے تک اس کی حتمی طبی درجہ بندی نہیں کی جاسکی۔ محقیقین نے41 گھٹنوں کے باریک مطالعے سے نئے نسیج یا لیگامنٹ کی پہچان کی ہے۔ بیلجیئم کی لیون یونیورسٹی کے ڈاکٹر کلیز اور پروفیسر جوہان بلیمینز دوسرے ڈاکٹروں کی تحقیق کو مزید آگے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بہت ہی باریک بینی کے ساتھ ان نسیج کی تصویر کشی کی ہے جو زانو کی ہڈی کو پنڈلی کی ہڈی سے جوڑتی ہیں۔