گلگت وبلتستان جرائم نہ ہونے کے برابر لوگ پڑھے لکھے ہیں

سربراہ علاقائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ ٹیم اورچیف سیکریٹری کی پروگرام تکرار میں گفتگو

وادی ہنزہ کے چشمے، راکاپوشی کاپہاڑ، شاہراہ ریشم، قلعہ التیت اورقلعہ بلتیت جاکرسیاح اپنے آپ کو اس حسین وجمیل خطے کا حصہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔فوٹو: کامران احمد/فائل

NEW YORK:
گلگت وبلتستان کئی عشروں سے دنیابھر کے سیاحوں کی توجہ کامرکز رہا ہے۔

وادی ہنزہ کے چشمے، راکاپوشی کاپہاڑ، شاہراہ ریشم، قلعہ التیت اورقلعہ بلتیت جاکرسیاح اپنے آپ کو اس حسین وجمیل خطے کا حصہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ایکسپریس نیو زکے پروگرام تکرا رکے میزبان عمران خان کے ساتھ ہوا۔ گلگت وبلتستان کے دورے میں عمران خان نے علاقائی لوگوں کی اپنی مددآپ کے تحت بنائے گئے ڈیزاسٹرمینجمنٹ ٹیم سے ملاقات کی۔ ٹیم کے سربراہ کیپٹن کریم اللہ بیگ نے کہاکہ ہم نے یہ ٹیم 1990 میں اپنے طور پر بنائی تھی علاقے کے مخیر حضرات اس میں ہماری مدد کرتے ہیں اور جب کبھی بھی کوئی آسمانی آفت آتی ہے توہم خود ہی امدادی کارروائیاں کرتے ہیں ہمارے اس اسکواڈ میں 5دیہات کے لوگ شامل ہیں جو کوئی تنخواہ نہیں لیتے۔




پروگرام میں راکاپوشی کی چوٹی کے بارے میں بتایا گیا کہ 8ہزارمیٹر اونچی ہے جس کا لفظی مطلب سفید دیوار کے ہیں راکا پوشی کو سرکرنیوالے سب سے پہلے گروپ میں پاکستانی فوج کے کرنل شیر خان تھے۔ شاہراہ ریشم جو پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کیلیے مرکزی راستہ ہے۔ وادی ہنزہ کے پولیس اسٹیشن میںآخری مقدمہ 26.09.2010 کودرج ہوا تھا۔ تھانے کے محررنے بتایا کہ یہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے اور محنتی ہیں۔ چیف سیکریٹری گلگت محمد یونس ڈاہا نے بتایا کہ یہاں پر کارگا بدھا کا مجسمہ سب سے بڑا اور پرانا ہے جس کو راک آرٹ کا نام دیا گیا ہے۔
Load Next Story