جنرل چشتی کےسمجھانےپربغاوت کا مقدمہ ختم کردیاگیا

ضیاء الحق نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ہر ٹی وی اسٹیشن سے سات لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی۔

ضیاء الحق نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ہر ٹی وی اسٹیشن سے سات لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی۔ فوٹو : ایکسپریس

اردو صحافت ان کی انگلی پکڑ ے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ان کے ذکر کے بغیر اخبار نویسی کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا چراغ حسن حسرت، جن کے چاہنے والے پوری اردو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، جس طرح کے مجلس آدمی اور خدامست مولاناتھے، ان کے لخت جگر بھی اُسی طرح کے ہیں۔ ان دنوں مسلم ٹائون، چراہ چوک، صادق آباد، راول پنڈی میں ایک سیلن زدہ کرائے کے مکان میں رہایش پذیر ہیں۔

چراغ حسن حسرت کابیٹا آج بھی کرائے کے مکان میںرہ رہا ہے؟ اس سوال پر انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور کہا، میں کیا، میرے باپ کو بھی مکان نہیں ملا تھا، جو ملا وہ دوسرے لے اُڑے، وارث روڈ لاہور میں جو بڑا بنگلہ کشمیری مہاجر کے طور پر الاٹ ہوا تھا وہ ہمارے کراچی جانے پر سکندر شاہین صاحب کے والد نے اپنے نام الاٹ کروا لیا حالاں کہ اس گھر میں ہمارا ایک عزیز رہ رہا تھا، اس کے بعد مال روڈ پر جو گھر الاٹ ہوا وہ شورش کاشمیری صاحب نے اپنے نام الاٹ کروا لیا، حالاں کہ وہ اُس طرح کے کشمیری مہاجر نہیں تھے کہ وہ تو بہت پہلے لاہور آ چکے تھے، بہ ہرحال جب والدِ گرامی فوت ہوئے، اُس وقت ہم ارضِ پاک بلڈنگ رائل پارک میں 100 روپے ماہانہ کرائے پر رہ رہے تھے اور والد ''نوائے وقت'' میں کالم لکھ کر زندگی کی گاڑی چلا رہے تھے، ہمارے لیے جو سرمایہ وہ چھوڑ کر گئے تھے وہ انچاس روپے تھے۔

اتنا بڑا نام، اتنا کام 145 کتابیں، پبلشران کی کتابیں چھاپ کر سرمایہ دار بن رہے اور ہم اس حال میں تھے، یہ مکان ہمیں اس لیے چھوڑنا پڑا کہ ہم اس کا کرایہ جو سو روپے تھا وہ نہیں دے سکتے تھے۔ والد صاحب کے دوستوں نے کچھ روپے جمع کیے جو دس ہزار بنے اس رقم کو بینک میں یا ڈاک خانے میں رکھوا دیا اور شورش کاشمیری اور حمید ہاشمی نے ہماری ذمے داری لے لی، ہمیں 100 روپے ماہانہ خرچ دیا جانے لگا ،میں اُس وقت سیکنڈ ائیر میں تھا، ہمارے محلے میں عبدالرحیم بٹ صاحب رہا کرتے تھے ،وہ ہم سے بہت پیار کرتے، والد صاحب کا بھی بہت احترام کیا کرتے تھے، میں بے چین تھا، میری خواہش تھی کہ میں نوکری کر لوں، انہوں نے مال روڈ پر موجود مسلم کمرشل بینک میں ملازمت دے دی، یہ 55ء کی بات ہے، والد صاحب 26 جون 1955 کو فوت ہوئے اور انہیں میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ والدہ اور چھوٹے بھائی کو 100 روپے ماہانہ ملتا رہا اور ہم رائل پارک سے راج گڑھ کے کوارٹروں میں آ گئے۔

12 اکتوبر 1904 کو بدرالدین بدر کے ہاں بارہ مولہ میں پیدا ہونے والے چراغ حسن، پونچھ میں پڑھتے رہے، وہیں اردو اور فارسی پڑھانے لگے، پھر شملہ چلے گئے، وہاں بھی پڑھاتے رہے، پیام، کلکتہ تک پہنچے، صحافت میں والد صاحب کے استاد، شائق عثمانی اور مولانا عبدالکلام آزاد تھے جب کہ شاعری میں اُستاد شاد عظیم آبادی تھے۔ 21 سال کی عمر میں انہوں نے ''آفتاب'' نکالا ، ''شیرازہ'' کا اجراء کیا ،یہ دونوں پہلے باتصویر رسالے ہوا کرتے تھے۔ میرپور آزاد کشمیر سے ''شیرازہ'' ان کی یاد میں نکالا ،یہ ایک الگ قصّہ ہے۔ ان کے دونوں اخبار، آرکائیو میں موجود ہیں، ان کی 145 کتابیں شایع ہوئیں، انہوں نے بے شمار تراجم کیے، اب وہ ساری کتابیں ہم حسرت اکیڈمی کے تحت شایع کریں گے، نیشنل بک فائونڈیشن والوں سے تمام کتابوں کے حقوق میں نے واپس لے لیے ہیں کہ چراغ حسن حسرت کی کتابوں میں زبان کی غلطیاں میرے نزدیک ناقابلِ معافی جرم ہے۔

ان دنوں کیا ہو رہا ہے اور گزر بسر کیسے ہوتی ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا، تراجم اور جو معمولی سی پنشن ہے۔'' کیا مطلب میں نے ، ٹوکا، جی ہاں، معمولی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ جب میں سبک دوش ہوا، یعنی 9 دسمبر 1998 کو اس وقت مجھے اڑھائی ہزار روپے پنشن دی گئی، جو آج بڑھ کر 9 ہزار روپے ہو گئی ہے، اگر وہ عرصہ جو میں نے بے کاری میں گزارہ ہے اور ناکردہ گناہوں کی جو سزا بھگتی، بھگتی کیا ،وہ سزا آج بھی جاری ہے، کہ مجھے میرا حق نہیں ملا ،وہ عرصہ ملازمت شمار کر لیا جائے تو مجھے تمام مراعات ملیں گی۔

ہماری اپیل سنے بغیر مسترد کر دی گئی، نظرثانی کی اپیل کر رکھی ہے، جو شنوائی کی منتظر ہے، بہ ہرحال بغاوت کے مقدمہ سے جان چھوٹی تو جان میں جان آئی، ورنہ منصوبہ تو یہ تھا کہ ہر شہر سے یعنی جہاں جہاں ٹی وی اسٹیشن ہے، وہاں سے یونین کے سات لوگوں پر بغاوت کا مقدمہ بنایا جائے اور انہیں سزائے موت دی جائے، وہ خدا بھلا کرے، جنرل فیض علی چشتی کا کہ انہوں نے ضیاء الحق کو سمجھایا کہ اس طرح تو خانہ جنگی ہو جائے گی، اب لوگ آپ سے خوف زدہ ہیں، اگر ان کے جنازے اٹھے تو پھر لوگوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، یہ بات ضیاء الحق کے دماغ میں آ گئی اور مارشل لاء کا ضابطہ 10 ٹوٹ گیا اور ہمیں ایک سال کی سزا ہوئی، پندرہ کوڑوں کی سزا بھی ہمیں نہیں سنائی گئی کہ وہ میجر، ہمارے صحافی ساتھی فخر ہمایوں کا چھوٹا بھائی تھا۔

ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض ہے یہ منصوبہ بھٹو صاحب کے زمانے میں بنا تھا ، عمل ضیاء الحق کے زمانے میں ہوا ،ضیاء کس طرح کے آدمی تھے، اس کا اندازہ اُس وقت ہوا جب پی ٹی وی رنگین ہوا اور چک لالہ میں وہ تقریر ریکارڈ کرانے آئے۔ وہاں ہم نے بینر لگا دیے تھے ،جو مہذب زبان میں تھے ، ہم نے صرف اپنے مطالبات آویزاں کیے، جنرل ضیاء الحق نے کہا، بعد میں یونین والوں سے بھی میری ملاقات کرائی جائے، ملاقات ہوئی تو بولے، آپ کیا چاہتے ہیں؟ ہم نے بتا دیا کہ انتظامیہ نے ہم سے کچھ وعدے کیے تھے، وہ انہوں نے پورے نہیں کیے، اس پر کمال ڈھٹائی سے جنرل ضیاء الحق نے کہا، میں نے بھی تو قوم سے 90 دن کا وعدہ کیا تھا اور وہ وعدہ میں نے توڑ دیا ہے، انہوں نے کون سا عجیب کام کیا ہے، میں شرمندہ ہو گیا،

پھر تنخواہ کی بات کی تو انہوں نے کہا، آپ کا عہدہ کیا ہے، میں نے کہا، پروڈیوسر ہوں اور میری تنخواہ 12 ہزار ہے، اس پر انہوں نے کہا، یہ تو ہمارے صوبیدار میجر سے زیادہ تنخواہ ہے۔ ہمیں سمجھ آ گئی کہ یہ آدمی ٹی وی کو بھی فوجی بیرک بنادے گا، 12 فروری 1978 کا اجلاس ختم ہوا تو ہم نے پریس کانفرنس کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ہم نے 17 اکتوبر کی تاریخ رکھ دی، نصرت بھٹو صاحبہ نے 16 اکتوبر کو یوم سیاہ کی کال دے رکھی تھی، ہم نے جان بوجھ کر اس کو نظرانداز کیا۔ مارشل لاء حکام نے اس کی آڑ میں جعلی کارروائی کی۔ ایف آئی آر نو بجے کٹی۔ ہر شہر میں یہی ہوا، ہم لوگوں نے دوپہر کو کالی پٹیاں باندھیں، جس دن حکومت نے ایکشن لینا تھا گروپ 17 تک کے سب لوگ ٹی وی چھوڑ کر چلے گئے ۔

ہم خوف زدہ تھے، ہول ناک صورت حال بھی بن سکتی تھی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ یونین کے تمام ساتھیوں کو نگران مقرر کر دیا جائے، یونین کے لوگوں نے انتظام سنبھال لیا، شیڈول کے مطابق نشریات کو آگے بڑھایا، کوریج کالی پٹیاں باندھ کر کی، ہونا یہ تھا کہ ہم نے ہر اسٹیشن پر جانا تھا اور پُرامن پریس کانفرنس کرنا تھی، اُس دن محمد علی کلے کی فائٹ تھی اور ہاکی کا میچ بھی تھا، اسلام آباد کا مقدمہ فضل کمال نے درج کرایا تھا، کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی، ہم تالی بجاتے اور تمام ساتھی تالی بجاتے ہوئے لان میں آ جاتے اور اس طرح جنرل باڈی ہو جاتی، یہی ہمارا خفیہ اشارہ تھا، بہ ہرحال ہمیں پتا چل گیاتھا، آپریشن ہوگا، گرفتاریاں بھی ہوں گی، میں سیکرٹری جنرل تھا، میں نے سب کو بتا دیا تھا کہ گرفتاری نہیں دینی، روپوش ہو جانا ہے۔

میری روٹین تھی کہ صبح ٹی وی اسٹیشن آتا اور رات کا بولیٹن ختم کرکے گھر جاتا، اُس دن میں وہیں رہ گیا، سب سے کہہ دیا کہ آپ چلے جائو، تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتا ہوں، ہمارا نائب قاصد، خوشحال دکھائی دیا، میں نے پوچھا آپ کیوں نہیں گئے؟ میں رک گیا ہوں، آپ کو چائے وغیرہ کون دے گا، یہی حال بشیر بلا کا تھا، صغیر صاحب بھی رُک گئے، میں نے سوٹ اور لانگ شوز اتارے اور صوفے پر دراز ہو گیا۔ 17 اکتوبر کو ایکشن ہوا، ایک ڈی ایس پی آیا، معذرت کرتے ہوئے گرفتاری کا کہا، میں نے خوش دلی سے کہا، آپ اپنا کام کریں، ہم اپنا کام کر رہے ہیں، میرے ساتھی بھی ساتھ کھڑے ہو گئے، میں نے بعد میں پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا تو انہوں نے کہا، ہمیں خدشہ تھا کہ یہ لوگ آپ کو ویرانے میں لے جا کر گولی مار دیں گے، بہ ہرحال وہ ہمیں آئی نائن تھانہ لے گئے، اس دوران سارا کیس آرمی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا، راجا محمد حسین ہمارے نام اور پتے بتا کر ہمارے خلاف کیس بنوا رہا تھا، جب آرمی نے کیس اپنے ہاتھ میں لیا تو اُسے سب سے پہلے اندر کیا، میرے علاوہ ،راجا محمد حسین، عبدالخالق غازی، حفیظ الرحمان، بشیر بلا، اورنگ زیب اور ایک بھٹی صاحب تھے، جن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا،

جو بعد میں اے پی پی میں چلے گئے، ان پر مقدمہ بنا ،ہمیں سنٹرل جیل لے جایا گیا، ویسٹریج میں رکھا، وہاں ایک کشمیری میجر تھے، عطاء اللہ، وہ میرا دوست نکل آیا، طریقہ یہ تھا کہ کمرۂ عدالت میں ایک کرسی ہوتی ،ملزم کھڑا رہتا، اس نے میری ہتھکڑی کھلوائی، پھر سب کے لیے کرسیاں منگوا لیں۔ اس مقدمے میں 14 لوگوں کو گرفتار کیاگیا تھا، سات لوگوں پر مقدمہ بنا، دفعات ایسی تھیں کہ سب میں سزائے موت ہوتی، اسی دوران مذکورہ بالا بات ہو گئی اور جنرل چشتی کے ڈرانے پر جنرل ضیاء ڈر گئے۔

پیروی کرتے ہوئے میں نے ضابطہ 10 کا ذکر کیا تو میجر نے گھبرائے ہوئے جواب دیا، وہ دفعہ ٹوٹ گئی ہے۔ اس سے پتا چلا کہ ملٹری کورٹس کی کارروائی محض ڈرامہ ہوا کرتی تھی، فیصلہ اوپر سے آتا تھا، ایک سال سزا ہوئی، ہم جیل میں آرٹ کارڈ منگوا کر وہاں کیلی گرافی کرنے لگے، گویا، وہاں مصورانہ خطاطی شروع کر دی، لوگوں کی درخواستیں لکھنے لگے، جیل میں بھی ہم چاچا جی ہو گئے، ٹی وی پر یار لوگ ہمیں پیر صاحب کہنے تھے، جیل میں ہمارا استقبال ہوا، دراصل یہ ایکشن بھٹو صاحب کے بتائے ہوئے منصوبے پر ہوا تھا، ان کے سیکرٹری ہماری فائلیں بنوا چکے تھے، طے تھا کہ ہر اسٹیشن پر ایکشن کیسے لینا ہے۔

پشاور ٹی وی سے انتظامیہ نے ملازموں کو نکال دیا تھا اور ایسا پولیس کے زور پرکیا گیا، ہم نے پشاور کا پروگرام ''خبرونہ'' اسلام آباد سے آن ائیر نہیں ہونے دیا ۔ اُس وقت جنرل ٹکا کو حکم دے دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر ٹی وی کا قبضہ چھڑایا جائے، ایسا غلط فہمی کی وجہ سے ہوا تھا، بھٹو صاحب ملک سے باہر تھے، ڈاک اُن تک نہ پہنچی، جب ڈاک ان تک پہنچی تو آخری وقت میں بھٹو صاحب نے کارروائی رکوا دی، ورنہ اس وقت گولی چل جانا تھی۔

یونین بازی کا معاملہ میرے ساتھ بہت پرانا ہے۔

مسلم کمرشل بنک میں تھا، اکائونٹنٹ سے لڑائی ہو گئی اور استعفیٰ دے دیا، حالاں کہ عبدالرحیم بٹ صاحب نے مجھے منگلا برانچ کا منیجر بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا، پھر پرویز مظہر صاحب کے کہنے پر آفاق میں چلا گیا، وہاں انتظار حسین بھی موجود تھے ،اس کے بعد امروز میں سب ایڈیٹر ہو گیا، حمید ہاشمی میری سرپرستی کیاکرتے اور ظہیر بابر صاحب کی ان سے ٹسل تھی، میرا تبادلہ ملتان کر دیا گیا، وہاں مسعود اشعر صاحب تھے، اس کھینچا تانی کی وجہ سے میری تنخواہ جاری نہ ہوسکی لیکن وہاں کے منیجر صاحب مٹھی میں چپکے سے روپے رکھ دیتے اور ایسا وہ کئی لوگوں کے ساتھ کرتے، وہیں میری شادی کا معاملہ طے ہوا، خالہ زاد سے میری شادی ہوئی، سسرالی اور گھر والے لاہور میںتھے،شادی کیا ہوئی، تنخواہ بھی جاری ہو گئی، قسمتِ علمی و ادبی کے لیے نامہ نگاروں کی جو ڈائریاں ری رائیٹ کرتا تھا، اس کا معاوضہ بھی مل گیا، سپورٹس کا جریدہ نکلنے لگا،

اس کا اشتہار بنانے کے بھی پیسے ملتے، اسی دوران سرکلر ترجمہ کرنے کے لیے امریکن سنٹر جانے لگا، گویا اچھی خاصی یافت ہونے لگی، ان دنوں چوہدری ظہور الٰہی گروپ آ گیا، ان کے ایک شفیع صاحب ہوا کرتے تھے، جو ان کے معاملات دیکھا کرتے، ان سے مل کر میں نے اپنا تبادلہ لاہور کروا لیا،میں محسوس کرتا حمید ہاشمی صاحب نے مجھے بہت تنگ کیا ہے، کبھی پریس میں، کبھی ترجمہ کراتے، کبھی پلیٹیں لگواتے، لے آئوٹ پر آنے والی نئی کتابیں تھما دیتے، مجھ سے رہا نہ گیا میں نے کہہ دیا، میرے والد صاحب نے آپ سے کیا زیادتی کی کہ آپ مجھے ہر شعبے میں پھینک دیتے ہیں، اس پر وہ مسکرائے اور کہا، آپ کے والد صاحب کا حکم تھا کہ جس نے ایڈیٹر بننا ہے، اُسے سارے کام آنے چاہئیں،

بے شک وہ کام کرے یا نہ کرے اس لیے میں تمہیں ہر جگہ بھجواتا ہوں، اس کے بعد مجھے پتا چلا کہ وہ مجھے ایڈیٹر بنا رہے ہیں، قاہرہ کریش ہو گیا، ہاشمی صاحب نہ رہے، ظہیر بابر صاحب نے کہا، آج کا اخبار آپ بنائیں گے، ہوا یہ کہ نیوز ایجنٹ نے ان سے کہا تھا کہ جو لڑکا 4/5 بناتا ہے اُسے پہلے صفحہ پر لائیں، اس کا لے آئوٹ بہت اچھا ہوتا ہے، یہ سب حمید ہاشمی صاحب کا کمال تھا، انہوں نے مجھے لے آئوٹ سکھایا تھا اور کچھ لہو کی کرامت تھی، اب یہ مسئلہ تھا کہ نیوز ایڈیٹر کون ہو ، میں نوجوان تھا، فضیل ہاشمی، حیدر بھائی، وہاں موجود تھے، پھر یہ فیصلہ ہوا کہ اسلم کاشمیری صاحب کو نیوز ایڈیٹر بنا دیا جائے اور وہ صبح آئیں اور رات کا پرچہ میں بنایا کروں، میں شفٹ انچارج ہو گیا، عباس اطہر بھی میری ٹیم میں شامل تھے،

ایڈیٹوریل سائیڈ پر، حمید اختر، عزیز اثری اور حمید جہلمی ہوا کرتے تھے، بہت اچھا زمانہ تھا، بہ ہرحال وہاں بھی ہم نے یونین بنا لی، اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ'' مشرق'' کے بارے میں حکم تھا کہ اِسے ''امروز'' سے پہلے چھاپا جائے، اس کے باوجود ہم نے ''امروز'' کی اشاعت 82 ہزار تک پہنچائی، پی پی ایل میں بہت عیش کی اور کام بھی بہت کیا، میں وہاں سے تین تنخواہیں لیتا تھا، یونین کا ذکر کر رہا تھا، فخر ہمایوں صدر اور مجھے جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا، ہمارے پاس جو پہلی درخواست آئی وہ سنیارٹی بحال کرانے کی تھی، آپ کو پتا ہے، وہ کون لوگ تھے؟ شفقت تنویر مرزا اور مرتضیٰ علی زیدی، گویا پہلا ہی کیس میرے خلاف آیا، میں نے اسے جنرل منیجر کو بھجوا دیا، جنرل منیجر غنی اعرابی تھے، انہوں نے کہا، آپ نوٹس نہ دیں، میں نے آپ کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، میں اڑ گیا،

ان لوگوں نے انتظامیہ کی بات مان لی، عدم اعتماد ہوا، گویا اُن لوگوں نے ہمارا تختہ کر دیا، ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گزر گیا، یہ 69 ء کی بات ہے، ایک دن غصے میں، میں نے نیوز روم میں اٹھ کر کہا، میں ایسے گھٹیا لوگوں کے ساتھ کام نہیں کر سکتا، 11 سال نوکری کرنے کے بعد اُسے چھوڑ دیا اور پھر سڑک پر آ گیا۔

میں اکیلا رہ گیا تھا، چھوٹا بھائی دسویں میں تھا کہ ہیڈ بلوکی پر دوستوں کے ساتھ نہانے گیا تھا کہ وہاں ڈوب گیا۔ میری ایک بیٹی ، سدرا تھی ، میری تین بیٹیاںہی ہیں، پہلی، سدرہ، دوسری، شازیہ اور تیسری منزہ، تینوں نے ٹی وی پر خبریں پڑھیں، بیوی اور والدہ نے میرا 2005 تک ساتھ دیا، بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو گئیں۔ نواسہ چھوٹا ہے، بڑی نواسی ایم بی ایس کر چکی ہے۔ ایک بیٹی لاہور میں ہے، ایک ابو ظہبی میں اور ایک سنگاپور میں، میں نے بھی اپنی تعلیم جاری رکھی، جب کام شروع کیا، ایف اے میں تھا، انٹرمیڈیٹ کیا، پھر بی اے کا امتحان دیا اور پولیٹیکل سائنس میں ایم اے بھی کر لیا،

بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، دل دکھ گیا تھا، آبائی علاقہ کھوئی رٹہ آزاد کشمیر چلا گیا، وہاں کچھ ہماری آبائی زمینیں تھیں، انہیں فروخت کیا اور میرپور سے ایک بار پھر ''شیرازہ'' نکالا، جس کی پیشانی پر بیاد چراغ حسن حسرت لکھا ہوا ہوتا تھا۔ یاد آیا ''امروز'' کے بعد ''ندائے ملت'' میں گیا تھا، نظامی صاحب نے ایڈیشن انچارج بنا دیا۔ وہاں عبوری امداد کا مرحلہ درپیش تھا، اس پر لڑائی ہو گئی ناراض ہو کر نکل آیا۔ انہوں نے تنخواہ کا چیک پریس کلب بھجوایا اور اس کے ساتھ پیغام بھی تھا کہ غصہ اُتر گیا ہے تو واپس آ جائو۔ مجھے یہ قبول نہ تھا۔

16 صفحے کا ہفت روزہ اخبار ''شیرازہ'' باتصویر رسالہ تھا، اخبار جہاں کے سائز کا تھا، وہاں سردار قیوم نے کاغذ کے کوٹے اور پریس لگانے کے لیے امداد دینے کی آفر کی، اس دوران میں ''سن'' کا بیورو چیف ہو گیا، دو سو روپے ماہوار ملنے لگے، جس ہوٹل میں دفتر تھا اُس کا اشتہار چھاپ دیتے، بہت مزے سے کام چل رہا تھا، چہار رنگے اس میگزین کی قیمت ہم نے پچاس پیسے رکھی ،اس کی اشاعت ایک ہزار تھی اور یہ پاکستان ٹائمز پریس میں چھپا کرتا تھا، پہلی کاپی آرٹ پیپر پر ہوا کرتی، باقی صفحات نیوز پرنٹ پر چھپا کرتے، ہم نے سردار قیوم کی آفر قبول نہیں کی، قریبی دوست مجھے ظہیر سنگھ کہا کرتے، جرائد کا لپکا لہو میں تھا، والد صاحب کو ملٹری میں ''نوجوان'' نامی رسالہ نکالنے کے لیے لے جایا گیا تھا ،وہ رسالہ رومن میں تھا، جس کی تعریف جنرل گریسی اور جاپان والوں نے بھی کی تھی،

سوچتا ہوں، والد صاحب کو دوست مرشد کہا کرتے تھے اور ٹی وی میں دوست مجھے پیر صاحب کہنے لگے۔ آپ میری اس حالت پر دکھی ہو رہے ہیں تو بتاتا چلوں، میں تراجم کرکے گزارہ کرتا ہوں، کبھی ریڈیو کے لیے اور کبھی ٹی وی کے لیے لکھتا ہوں، کالم نگاروں کا ان دنوں بہت شہرہ ہے، چراغ حسن حسرت کے بیٹے ایک معروف نیوز ایڈیٹر، افسانہ نگار اور شاعر کو کوئی پوچھتا نہیں، مقتدرہ قومی زبان والوںنے جب میرا معاوضہ جو لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بنتاہے، دبا لیا، جب باز پُرس کی اور معاوضہ لینے سے انکار کر دیا تو ذمہ دار شخص نے کہا ،ہم نے آپ کے ترجمے کی زبان تبدیل کر دی تھی،

سبحان اللہ، چراغ حسن حسرت کے بیٹے کی مقتدرہ نے زبان تبدیل کر دی، بہ ہرحال، ساڑھے سات سو روپے فی ہزار لفظ معاوضہ طے ہوا تھا اور پانچ سو روپے کے حساب سے چیک بنایا گیا، جب بابائے قوم کا صد سالہ جشنِ ولادت منایا جا رہا تھا، نیشنل بک فائونڈیشن والوں نے والد صاحب کی معروف کتاب، قائداعظم شایع کی ان لوگوں نے ہمیں ایک پیسہ نہیں دیا، 30 سال بعد اس کا معاوضہ ہمیں ایک ہزار روپیہ دیا گیا، اب میں اپنی اور اُن کی کتابیں ہر دو تین ماہ بعد شایع کروں گا۔

جس طرح والد صاحب کا ایم ڈی تاثیر کے ساتھ معرکہ ہوا تھا،اسی طرح کا ایک معرکہ کلکتہ میں بھی ہوا تھا، میں وہاں جا کر ان کے آثار اکٹھے کرنا چاہتا ہوں، بغاوت کے مقدمہ سے رہائی کے بعد بہت مشکل دن کاٹے، ٹیکسی تک چلائی، آج بھی سپریم کورٹ میں وہ اپیل لگی ہوئی ہے، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یہ مقدمہ سیاسی اور بدنیتی کے تحت بنایا گیا تھا، محترمہ نے بہت مشکل سے صدر اسحاق سے ٹربیونل بنوایا، ریڈیو، ٹی وی، بینکوں اور پی آئی اے سے نکالے گئے لوگوں کو بحال کرایا گیا، لیکن بحالی اس طرح نہ ہوئی، دوبارہ ملازمت پر رکھا گیا۔

10 دسمبر 1937 کو دل شاد سٹریٹ دل محمد روڈ لاہور میں پیدا ہونے والے ظہیر جاوید کو دہلی اور کراچی بھی جانا پڑا، دس سال تک ٹی وی اکیڈمی میں پڑھاتے رہے، کیمرہ کوریج کی اور ان کا شمار شمیم الرحمان پپو جیسے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ایوارڈ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا ،میرے باپ کو کوئی ایوارڈ نہیں ملا ۔ کوئی ڈاک ٹکٹ جاری نہ ہوا، کسی سڑک کا نام بھی ان کے نام پر نہ رکھا گیا، والدہ کو آخری عمر تک 2 ہزار روپے پنشن اکادمی ادبیات پاکستان سے ملتی رہیں، اب تو بعد از مرگ منٹو صاحب کو بھی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ چراغ حسن حسرت کو ایوارڈ نہیں دیا جا سکتا؟ محترمہ نے مجھے اور میری بیٹی کو پلاٹ دیے جو ہم نے شکریے کے ساتھ واپس کر دیے۔

پریس کلب والے شاید ہمیں صحافی نہیں سمجھتے، نہ لاہور والے مجھے ممبر بناتے ہیں اور نہ راول پنڈی اسلام آباد والوں کو خیال آتا ہے کہ یہ بھی ہمارا پرانا ساتھی ہے۔ حالاں کہ بزرگوں کو اعزازی ممبر شپ دی جاتی ہے۔ چھوڑیں ان باتوں میں کیا رکھا ہے، میں نے بھرپور زندگی گزاری، اکیلا رہتا ہوں اور مزے میں ہوں، تیس سے پینتیس ہزار روپے ماہانہ خرچ ہے، جو کسی نہ کسی طرح پورا کر ہی لیتا ہوں۔
Load Next Story