ایشیا کے عظیم دریا اور آلودگی
اگر پیرس معاہدہ کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس صدی کے آخر تک دو تہائی گلیشیئر پگھل جائیں گے۔
اگر پیرس معاہدہ کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس صدی کے آخر تک دو تہائی گلیشیئر پگھل جائیں گے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
آج 2020کا سن ہے جب کہ آج سے اسی سال بعد یعنی 2100 میں کوہ ہندوکش ریجن کے گلیشیئر جو ہمالیہ کے علاقے میں ہیں جنھیں قطب شمالی اور قطب جنوبی کی مانند تیسرا قطب قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن عالمی حرارت کی وجہ سے یہاں کی برف پگھل کر غائب ہوتی جا رہی ہے۔
یہ وہ برف ہے جس سے اس براعظم کے دریاؤں، جھیلوں اور چشموں کو پانی فراہم ہوتا ہے۔ لیکن بے وقت شروع ہو جانے والے مون سون کے موسم سے صورتحال اور زیادہ بگڑجاتی ہے ۔ جب یہ طوفانی بارشیں دریاؤں کی طغیانیوں کا باعث بن جاتی ہیں جو الگ سے ایک ہلاکت خیز عمل ہے۔ صاف شفاف دریاؤں کے پانی میں آلودگی نے ایک الگ مصیبت پیدا کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں جانداروں کی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے۔
اس وقت حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیںکہ پینے کے لائق پانی تیل سے بھی زیادہ قیمتی ہوگیا ہے اور صاف پانی ایک ایسا قیمتی اثاثہ بن گیا ہے کہ اس کے حصول کے لیے ملکوں میں جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس ساری صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ اگر صاف پانی کے ذخائر کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہ کیا جا سکا تو انسانیت سسک کر دم توڑ جائے گی اور حیوانی حیات اس سے پہلے ہی معدوم ہو چکی ہو گی۔ ماحولیات کے ماہر اور سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا بھر میں نوع انسانی کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں سے زہریلی گیسوں کا اخراج جاری رہا تو پھر اس کرۂ ارض کی بقاء خطرے میں ہو گی۔ اس حوالے سے بین الاقوامی تنظیم کے ڈائریکٹر ڈیوڈ مولڈن کا کہنا ہے کہ 2015میں ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں پیرس میں ہونے والے جس اجلاس میں جن اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا اور ان پر اتفاق رائے بھی ہو گیا مگر امریکا نے اس معاہدے سے باہر نکل جانے کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ اعلان دنیا پر کتنا مضر اثرات کا حامل تھا اس کا اندازہ لگانے میں بھی ایک مدت درکار ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم انسانوں کو اتنی طویل مہلت مل بھی سکے گی یا نہیں ۔
پیرس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 فیصد سنٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جانا چاہیے لیکن امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے امریکا کو آگے کرکے معاہدہ توڑ دیا۔ کوہ ہندوکش کے حوالے سے اسیسمینٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پیرس معاہدہ کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس صدی کے آخر تک دو تہائی گلیشیئر پگھل جائیں گے۔
کوہ ہمالیہ کا سلسلہ افغانستان سے لے کر میانمار تک پھیلا ہوا ہے۔قراقرم پہاڑوں کا سلسلہ بھی آگے جا کر مل جاتا ہے۔ دریائے سندھ،گنگا،برہم پترا، یانگ زی اور میکانگ جیسے بڑے بڑے دریا اسی سلسلے میں شامل ہیں۔ 1.65 ارب لوگوں کی اور ان کے مویشیوں کی زندگی کا انحصار انھی دریاؤں پر ہے۔ یہ ماحولیات کے بارے میں اس قدر بڑا چیلنج ہے کہ اس پر قابو پانا ہر حالت میں ضروری ہے۔
یہ وہ برف ہے جس سے اس براعظم کے دریاؤں، جھیلوں اور چشموں کو پانی فراہم ہوتا ہے۔ لیکن بے وقت شروع ہو جانے والے مون سون کے موسم سے صورتحال اور زیادہ بگڑجاتی ہے ۔ جب یہ طوفانی بارشیں دریاؤں کی طغیانیوں کا باعث بن جاتی ہیں جو الگ سے ایک ہلاکت خیز عمل ہے۔ صاف شفاف دریاؤں کے پانی میں آلودگی نے ایک الگ مصیبت پیدا کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں جانداروں کی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے۔
اس وقت حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیںکہ پینے کے لائق پانی تیل سے بھی زیادہ قیمتی ہوگیا ہے اور صاف پانی ایک ایسا قیمتی اثاثہ بن گیا ہے کہ اس کے حصول کے لیے ملکوں میں جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس ساری صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ اگر صاف پانی کے ذخائر کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہ کیا جا سکا تو انسانیت سسک کر دم توڑ جائے گی اور حیوانی حیات اس سے پہلے ہی معدوم ہو چکی ہو گی۔ ماحولیات کے ماہر اور سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا بھر میں نوع انسانی کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں سے زہریلی گیسوں کا اخراج جاری رہا تو پھر اس کرۂ ارض کی بقاء خطرے میں ہو گی۔ اس حوالے سے بین الاقوامی تنظیم کے ڈائریکٹر ڈیوڈ مولڈن کا کہنا ہے کہ 2015میں ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں پیرس میں ہونے والے جس اجلاس میں جن اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا اور ان پر اتفاق رائے بھی ہو گیا مگر امریکا نے اس معاہدے سے باہر نکل جانے کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ اعلان دنیا پر کتنا مضر اثرات کا حامل تھا اس کا اندازہ لگانے میں بھی ایک مدت درکار ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم انسانوں کو اتنی طویل مہلت مل بھی سکے گی یا نہیں ۔
پیرس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 فیصد سنٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جانا چاہیے لیکن امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے امریکا کو آگے کرکے معاہدہ توڑ دیا۔ کوہ ہندوکش کے حوالے سے اسیسمینٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پیرس معاہدہ کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس صدی کے آخر تک دو تہائی گلیشیئر پگھل جائیں گے۔
کوہ ہمالیہ کا سلسلہ افغانستان سے لے کر میانمار تک پھیلا ہوا ہے۔قراقرم پہاڑوں کا سلسلہ بھی آگے جا کر مل جاتا ہے۔ دریائے سندھ،گنگا،برہم پترا، یانگ زی اور میکانگ جیسے بڑے بڑے دریا اسی سلسلے میں شامل ہیں۔ 1.65 ارب لوگوں کی اور ان کے مویشیوں کی زندگی کا انحصار انھی دریاؤں پر ہے۔ یہ ماحولیات کے بارے میں اس قدر بڑا چیلنج ہے کہ اس پر قابو پانا ہر حالت میں ضروری ہے۔