مہنگائی کے اسباب اور حکومتی ذمے داریاں

صنعت کار‘ تاجر اور کاروباری طبقہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کا متمنی رہا ہے

عوام کو معیاری اور سستی اشیائے صرف کی فراہمی یقینی بنانے کے ذمے دار سرکاری ادارے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے پوری نہیں کرتے۔ فوٹو: فائل

ایک خبر کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں سیزن کے دوران مختلف زرعی اجناس کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔ اگر یہ خدشہ درست ثابت ہوا تو یہ اشیاء بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑیں گی جس پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہو گا۔ زرعی اجناس کی قلت ملک میں مہنگائی بڑھانے کا باعث بھی بنے گی۔ ہمارے ملک میں مہنگائی کے اتنی زیادہ تیز رفتاری سے بڑھنے کی دیگر کئی وجوہ بھی ہیں۔

یہاں کا صنعت کار' تاجر اور کاروباری طبقہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کا متمنی رہا ہے چنانچہ یہ اپنی تیارکردہ' ترسیل کردہ اور فروخت کردہ اشیاء کی من مانی قیمت لگاتے اور وصول کرتے ہیں۔ دوسرا سبب ذخیرہ اندوزوں کی سرگرمیاں ہیں جو اپنی دولت کے بل پر بڑی مقدار میں مخصوص اشیاء خرید کر ذخیرہ کر لیتے ہیں اور پھر مارکیٹ میں ان اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کر کے من مانے نرخ لگاتے اور وصول کرتے ہیں۔

تیسرا سبب یہ ہے عوام کو معیاری اور سستی اشیائے صرف کی فراہمی یقینی بنانے کے ذمے دار سرکاری ادارے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے پوری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ اس صورتحال سے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ مہنگائی اور افراط زر میں تیزی سے اضافے کا ایک سبب ملکی کرنسی کی قدر میں کمی بھی ہے۔


حکومتوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی ملکی معیشت پر بوجھ بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ ہر حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کم کر رہی ہے لیکن حقیقت میں سب کچھ اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے غیرملکی کے علاوہ ملکی قرضے بھی حاصل کرتی ہیں یا پھر نئے نوٹ چھاپ کر گزارا کیا جاتا ہے جب کہ یہ اقدامات افراط زر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز کا اضافہ بھی مہنگائی بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ توانائی کے ان ذرایع کے نرخ بڑھنے سے ان تمام اشیاء کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جن کی تیاری کے کسی بھی مرحلے میں ان ذرایع کا استعمال ہوتا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا جو فیصلہ کیا ہے اس نے صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے کیونکہ اس ردوبدل کے نتیجے میں زیادہ تر ان مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہی کیا جاتا ہے چنانچہ خدشہ ہے کہ اب مہنگائی میں اضافے کی رفتار پہلے کی نسبت زیادہ تیز ہو جائے گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی بڑھانے کا باعث بننے والے تمام عوامل کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرے تاکہ اس گرانی کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں جو اضافہ ہو چکا ہے اس کو محدود رکھا جا سکے۔
Load Next Story