ایف سی اہلکار سمیت2افراد کی گمشدگی پر حساس اداروں سے جواب طلب

اختر اور فرنٹیئرکورکے بیل دار بلال کو رینجرز نے گرفتار کیا اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیا،درخواست گزار

حساس اداروں کو نوٹس کی تعمیل نہ ہوسکی، ڈپٹی اٹارنی جنرل،ایم آئی،آئی ایس آئی اورآئی بی کے سربراہوں کودوبارہ نوٹس جاری فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے 2 شہریوں کی گمشدگی کے بارے میں وزارت داخلہ،حساس اداروں کے سربراہوں ، اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے یہ ہدایت خانزادہ خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی، درخواست میں وفاقی و صوبائی وزارت داخلہ ، ایم آئی،آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہوں ،ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ،آئی جی سندھ اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا بھائی اختر اپنے دوست فرنٹیئرکورکے بیل دار بلال کے ساتھ منگھوپیر تھانے کی حدود میں موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی اور ہوائی فائرنگ شروع کردی ، جس سے خوفزدہ ہوکر وہ گرگئے اورخود کو بچانے کے لیے قریب ہی ایک گھر میں پناہ لی۔




اس دوران رینجرز کی موبائلیں بھی وہاں پہنچ گئیں اور دونوںکو گرفتار کرلیا مگر کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ، سماعت کے موقع پر رینجرز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ لاپتہ افراد رینجرز کی تحویل میں نہیں ہیں ، درخواست گزار کے مطابق بلال کے رشتے داروں نے کمانڈنٹ وزیرستان کو بھی اس معاملے سے آگاہ کرتے ہوئے اس کی بازیابی کی درخواست کی تھی لیکن کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حساس اداروںکو عدالتی نوٹس کی تعمیل نہیں ہوسکی جس کے باعث ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوسکا ہے،عدالت نے ایم آئی،آئی ایس آئی اورآئی بی کے سربراہوں کودوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ افراد سے متعلق تحریری جواب جمع کرایا جائے کہ یہ افراد ان کے حراستی مراکز یا ان کی تحویل میں نہیں،درخواست کی آئندہ سماعت لاپتہ افراد کے دیگر مقدمات کے ساتھ ہوگی ۔
Load Next Story