شاہ محمود قریشی کی ایرانی صدر سے ملاقات

ملاقات کے دوران ایران امریکا کشیدگی، خطے میں امن وامان کی صورتحال اورپاک ایران کثیرالجہتی تعلقات پرتبادلہ خیال کیاگیا۔

ملاقات کے دوران ایران امریکا کشیدگی، خطے میں امن وامان کی صورتحال اورپاک ایران کثیرالجہتی تعلقات پرتبادلہ خیال کیاگیا۔ فوٹو : اے ایف پی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تہران پہنچ گئے جہاں انھوں نے ایرانی صدر سمیت اعلیٰ قیادت سے مشاورت کی، تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کے دوران ایران امریکا کشیدگی، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور پاک ایران کثیرالجہتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان ان تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت اور پرزور تائید پر وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ایرانی صدر حسن روحانی کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ صورت حال پر پاکستان کا مؤقف ایرانی صدر کے سامنے رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے معاملات کو سفارتی ذرائع بروئے کار لا کر افہام وتفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، وزیر خارجہ نے قیام امن کے لیے خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والے حالیہ روابط کی تفصیلات سے بھی ایرانی صدر کو آگاہ کیا۔

امریکا اور ایران کی چپقلش گزشتہ کئی عشروں سے چلی آ رہی ہے، اس دوران کئی بار ایسے مواقع آئے جب امریکا نے ایران پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس سے یہ تاثر ابھرا کہ وہ کسی بھی وقت ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ بالخصوص افغانستان پر حملے کے بعد تو اس تاثر کو تقویت ملنے لگی۔ ان معاملات کو اس وقت مہمیز ملی جب چند روز پیشتر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کے لیے اپنی افواج مشرق وسطیٰ روانہ کرنے کا عندیہ دیا۔

یہ سلسلہ اس وقت اپنے کلائمکس پر پہنچا جب تین جنوری کو امریکا نے عراق پر حملہ کر کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا۔ اس پر ایران کا شدید ردعمل سامنے آیا اور اس نے میزائل حملے کر کے عراق میں دو امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ اگرچہ امریکا نے میزائل حملے کی تصدیق کر دی مگر اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔


ان حالات میں یوں معلوم ہونے لگا کہ بس ابھی ایران اور امریکا کی جنگ شروع ہو جائے گی اور خلیج کا خطہ تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگی اقدامات کرنے کے بجائے اس پر مزید پابندیاں لگانے پر اکتفا کیا۔ ایران نے بھی امریکا کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کی، اس طرح بظاہر صورت حال وقتی طور پر پرسکون ہوتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور فوری جنگ کا جو خطرہ منڈلا رہا تھا، وہ ٹلتا ہوا محسوس ہونے لگا لیکن ابھی حتمی طور پر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی کہ خطرہ حقیقی طور پر ٹل گیا ہے یا امریکا کسی مناسب موقع کی تلاش میں پیچھے ہٹ گیا ہے۔

ایران کی طرف سے امریکا کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے دوران یوکرائن کا ایک مسافر طیارہ بھی مار گرایا گیا۔ اس طیارے میں درجنوں ایرانی، کینیڈین شہریوں کے علاوہ یوکرائن، افغانستان اور سویڈن کے شہری بھی سوار تھے۔ ابتداء میں ایران نے یوکرائن مسافر طیارے کو مار گرانے سے انکار کیا مگر بعدازاں تحقیق کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایروسپیس کمانڈر امیر علی حاجی زادے نے اعتراف کیا کہ ایک میزائل آپریٹر نے یوکرائنی مسافربردار طیارے کو غلطی سے امریکی کروز میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا۔ ایران نے اس واقعے پر معافی مانگ لی اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ ایک ناقابل معافی غلطی ہے جس پر ایران کو دل کی گہرائیوں سے افسوس ہے۔

یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایران سے واقعہ کے ذمے داروں کو سزا دینے، لاشیں لوٹانے اور معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ایران میں یوکرائنی مسافر طیارے کے گرائے جانے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہو رہے ہیں جس میں ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹل جائے۔ اس سلسلے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی ایرانی قیادت سے ملاقات خوش آئند امر ہے۔

پاکستان نے اس کشیدگی کے دوران غیرجانبدار رہنے کا بالکل صائب فیصلہ کیا، اسے ادراک ہے کہ دوسروں کی جنگ میں کسی بھی سطح پر شریک ہونے کا مطلب اپنے دامن میں آگ لگانے کے مترادف ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا مضبوط کردار سامنے نہیں آیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو ایک پیج پر اکٹھا کرے اور ان کے باہمی اختلافات ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
Load Next Story