گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال توجہ کی ضرورت

ڈرائیورز نے مطالبات پورے نہ ہونے پر غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔

ڈرائیورز نے مطالبات پورے نہ ہونے پر غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔ فوٹو : فائل

گڈزٹرانسپورٹرزکی ہڑتال گزشتہ سات روز سے جاری ہے، تاحال حکومت کے ساتھ ان کے معاملات طے نہ ہونے کی وجہ سے درآمدی اور برآمدی مال کی ترسیل کا عمل تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے صنعت کاروں کو اب تک اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ڈرائیورز نے مطالبات پورے نہ ہونے پر غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔ ہفتے کوگورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزیر نج کاری امور محمد میاں سومرو، مشیر صنعت وتجارت عبدالرزاق داؤد اور ارکان سندھ اسمبلی پر مشتمل حکومت کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کیے اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد اور مسائل حل کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، تاہم ٹرانسپورٹرز نے مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا، یوں یہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔

پاکستان کا مانچسٹرکہلانے والا ٹیکسٹائل سٹی فیصل آباد سے اربوں روپے کا ایکسپورٹ کا مال روانہ نہیں ہوسکا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے حکومت اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہے جب کہ ایسٹرکا سیزن چل رہا ہے، سامان کی ترسیل نہ ہونے سے اربوں روپے ڈوب جائیں گے۔ ڈرائی پورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں کنٹینر اور ٹرالر بند کھڑے ہیں، ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے ڈرائیوروں کے لائسنس کا معاملہ حل ہونے اور ایکسل لوڈ پالیسی پر عمل درآمد تک ہڑتال جاری رہے گی۔


دوسری جانب کروڑوں روپے کا درآمدی خام مال بھی کراچی سے ان تک نہیں پہنچ رہا ہے ۔ ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ ہڑتال کی ذمے دار خود حکومت ہے، جبتک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے ہڑتال یونہی جاری رہے گی۔

ہڑتال کی وجہ سے پھل اور سبزیوں کے برآمد کنندگان کوایک ہفتے کے دوران پندرہ لاکھ ڈالر سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ''ایکسل لوڈ رجیم'' کے قانون پر عملدرآمد کیا جائے، مگر حکومت قانون پر عمل کے لیے تیار نہیں، حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون پر عملدر آمد سے کاروباری طبقے کا نقصان ہوگا۔

اس وقت جو ڈیڈ لاک ٹرانسپورٹرز اورحکومت کے درمیان پیدا ہوچکا ہے اس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور ہم بحیثیت قوم معیشت کو مزید کمزور کرنے کے کسی بھی صورت متحمل نہیں ہوسکتے۔ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے حکومت کا فوری طور پرگڈز ٹرانسپورٹرزکے جائز مطالبات مان کر ہڑتال ختم کروانی چاہیے تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ رواں رہے۔
Load Next Story