ایشین چیمپئنز ٹرافی
دنیا کو اس کھیل کے سبق پڑھانے والا ملک اپنی تاریخ میں پہلی بار میگا ایونٹ میں شرکت سے ہی محروم رہ جائے گا.
قومی ہاکی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے آثار۔ فوٹو: فائل
پاکستانی شائقین قومی ہاکی ٹیم کی ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرنے میں ناکامی کا صدمہ ابھی تک نہیں بھلا پائے۔
دنیا کو اس کھیل کے سبق پڑھانے والا ملک اپنی تاریخ میں پہلی بار میگا ایونٹ میں شرکت سے ہی محروم رہ جائے گا کبھی اس کا تصور بھی محال تھا لیکن یہ انہونی ہوچکی، اب راکھ کریدنے کے بجائے مستقبل میں بہتری کے خواب دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے زیادہ تر سینئرز کی کمزور بیساکھی کا سہارا چھوڑ کر دستیاب نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کا فیصلہ کیاتو فوری نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی، آسٹریلیا میں9اے سائیڈ انٹرنیشنل سپر سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں نے صلاحیتوں کی جھلک دکھلائی لیکن بڑی ٹیموں کے خلاف میدان میں اترتے ہوئے ناتجربہ کاری آڑے آئی، خاص طور پر گرین شرٹس نے ارجنٹائن کے خلاف 4گول کی برتری حاصل کرنے کے باوجود جیتی بازی5-4سے گنوائی، کارکردگی میں عدم تسلسل کا نتیجہ تھا کہ4 ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں آخری پوزیشن کی رسوائی اپنے نام کے آگے درج کروائی۔
پاکستان ٹیم چند ٹیسٹ میچز میں ملی جلی کارکردگی پیش کرنے کے بعد ایشین چیمپئنز ٹرافی میں اپنے اعزاز کے دفاع کیلیے جاپان میں صف آرا ہوئی، کھلاڑیوں کو 9 اے سائیڈ کے بجائے روایتی فارمیٹ کے مقابلوں سے قبل موسم سے ہم آہنگ ہونے کا اچھا وقت مل گیا، کوچ طاہر زمان نے بھی ازسرنو حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے پلیئرز کو ذہنی طور پر تیار کیا، تشکیل نو کے مراحل سے گزرتی ٹیم نے گزشتہ ایونٹ کے برعکس اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ایک آسان حریف اومان کے مقابل ٹورنامنٹ کے فاتحانہ آغاز کا موقع بھی مل گیا،8-0 سے کامیابی نے کھلاڑیوں کو اچھی میچ پریکٹس بھی کرادی، فارم کی واپسی کی بعد پر اعتماد گرین شرٹس نے چین کو بھی 5-1سے زیر کرلیا،ملائشین ایک بار پھر سخت حریف ثابت ہوئے، تاہم میچ کے واحد گول کی بدولت فتح پاکستان کا ہی مقدر ٹھہری،گزشتہ کئی ایونٹس میں راہ کی دیوار بن کر منزل کھوٹی کرنے والی بھارتی ٹیم بھی اس بار اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکی، سنسنی خیز میچ میں گرین شرٹس نے برتری حاصل کرنے کے بعد گنوائی لیکن فیصلہ کن گول کرنے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگائی اور 5-4سے جیت کے ساتھ لیگ مرحلے میں سر فہرست ٹیم کے طور پر ٹائٹل کی امید جگائی۔
پاکستان کا آخری مقابلہ رنرز اپ جاپان سے تھا،میزبان ٹیم ملائیشیا، بھارت اور عمان کے خلاف فتح یاب رہی جبکہ چین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا،دونوں ٹیموں کا باہمی مقابلہ 2-2سے برابر رہا۔آج پاکستان اور جاپان ایشیائی اعزاز اپنے نام کرنے کا عزم لئے میدان میں اتریں گے، اب تک تو گرین شرٹس کی کارکردگی اچھی رہی ہے، سب سے اہم میچ بھارت کے خلاف تھا، گرچہ بلو شرٹس نے ہوم گرائونڈز پر دسمبر میں شیڈول جونیئر ورلڈکپ کی تیاری کیلیے زیادہ ترنوجوان کھلاڑیوںکو آزمانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم سکواڈ نو آموز ہونے کی وجہ سے پاکستان کی اچھی کارکردگی کو بھی نظر انداز نہیںکیا جاسکتا، نئے ٹیلنٹ نے کئی ایسی ٹیموں کو بھی زیر کیا جو اپنے سٹیمنا کی بدولت ہمیشہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کرتی رہی ہیں، تاہم پرفارمنس میں بہتری کے آثار نظر آنے کے باوجود ابھی سے مطمئن ہوکر بیٹھ جانے کی غفلت برداشت نہیں کی جاسکتی،ماضی کا کھویا ہوا مقام واپس لانے کیلیے دورس نتائج کے حامل کئی فیصلے تسلسل کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی ٹیم کے کپتان محمد عمران کا کہنا ہے کہ کاکا میگارا میں اعزاز کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلسل فتوحات سے کھلاڑیوں کا مورال بلند اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، کئی ٹیموں کو شکست دینے کے بعد فائنل میں خاص مشکل پیش نہیں آنی چاہیے لیکن کھیل کوئی بھی ہو کسی حریف کو کمزور سمجھنا دانش مندی نہیں، ردھم برقرار رکھتے ہوئے میدان مارنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا مینجمنٹ اور ٹیم ایک یونٹ میں ڈھل چکے ہیں، کھلاڑیوں کا اچھا تال میل بن چکا، اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، کوچز کی رہنمائی میں عمدہ حکمت عملی تشکیل دیتے ہوئے حریف کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، تاہم ایک ایونٹ کی کامیابی ہماری منزل نہیں ہونا چاہیے، ابھی بہتری کی جانب سفر کا آغاز ہواہے، ہمیں گراس روٹ سطح سے انٹرنیشنل مقابلوں تک مسلسل ہوم ورک اور محنت ہی ٹاپ ٹیموں کی فہرست میں لاسکتی ہے۔
محمد عمران کا کہنا بجا ہے، واقعی ایک دو روز میں قومی کھیل کی تقدیر بدلنے کا کوئی چارہ نہیں، آئندہ کے میگا ایونٹس سے قبل ہمارے پاس خاصا وقت موجود ہے، نئے پلیئرز کی گرومنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مستقبل کی تیاری کرنا ہوگی۔قومی ہاکی کا زوال کی طرف سفر شروع ہونے سے نہ صرف ایک ایک کر کے انٹرنیشنل ٹائٹل چھن گئے بلکہ ناکامیوں کی داستان طویل ہونے سے قومی کھیل عوامی سطح پر مقبولیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مختلف اداروں نے اپنی ہاکی ٹیمیں ختم کر کے توجہ کرکٹ اور دیگر کھیلوں پر مرکوز کر لی ہے، کلب سطح پر مقابلے کا رجحان بھی ختم ہونے سے مستقبل کے لیے سٹار تلاش کرنے کا عمل بھی جمود کا شکار نظر آنے لگا ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ایچ ایف میں کئی عہدیدار آئے اور گئے مگر باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی کے سبب جو خلا پیدا ہو گیا تھا اسے پر کرنے میں ناکام رہے۔ برسوں کے بگڑے کام سنوارنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ازسرنو حکمت عملی ترتیب دے کر بتدریج مثبت نتائج کی طرف بڑھنا ہوگا، ہمیں محدود وسائل میں رہتے ہوئے قومی کھلاڑیوں کو ان ٹیموں سے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے جن کے پاس سیکڑوں کی تعداد میں آسٹروٹرف اور بے پناہ سہولیات ہیں، ہماری ٹیم تو اسی حال میں ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے گئی کہ ایک دن بھی بلو ٹرف پر پریکٹس کا موقع نہ مل سکا جبکہ حریفوں نے کئی ماہ قبل ہی درجنوں انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا تجربہ حاصل کر لیا تھا۔
اس صورتحال میں قومی جذبے کے ساتھ ایک مشن کے طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔کئی بار خیال آتا ہے کہ ملک میں کئی اولمپئنز موجود ہیں جن کی صلاحیتوں کا دنیا اعتراف کرتی رہی مگر سب قومی کھیل کی بہتری کے لیے یکجا ہو کر کام کیوں نہیں کرتے، ایسا تجربہ کس کام کا جو ملک کی بہتری کے لیے استعمال نہ ہو سکے، ان کے باہمی جھگڑے زیادہ جبکہ مٹی کا قرض اتارنے کے لیے کوشش کم نظر آتی ہے،کتنے ہوں گے جنہوں نے کھیل کی نرسریاں آباد کرنے پر توجہ دی ہے۔اب بھی ٹھوس اقدامات کا آغاز کردیں تو قوم کو ہاکی میں بہتری کی امید دینے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے، گراس روٹ پر کھیل کے فروغ کے لیے جتنا بھی کام ہو سکے اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے، وقت گزرنے کے ساتھ مزید نئے اور باصلاحیت کھلاڑی قومی ٹیم کو میسر ہوں گے، کم عمری میں ہی کھیل کو نکھارنے اور فٹنس کو عالمی معیار کے مطابق لانے کے لیے مربوط پلان تیار کیا جائے تو آگے چل کر بڑے چیلنجز کا سامنا مشکل نہیں رہے گا، پاکستان کی سرزمین ہر حوالے سے بڑی زرخیز ہے، ٹیلنٹ کی قدر کرتے ہوئے صرف اور صرف میرٹ پر فیصلے کئے جائیں تو ہر کامیابی ممکن ہے، وقار کی بحالی کے اس سفر کھلاڑیوں کو ہر قدم پر قوم کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہوگی۔
ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے مگر سپانسرز اور اداروں کا رویہ مایوس کن رہا ہے،گزشتہ چند برس کے دوران معاملات میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، معاشی عدم تحفظ صرف ہاکی ہی نہیں ہر کھیل کا قاتل ہے، عالمی سطح پر فتوحات کے لئے کھیلوں کے حوالے سے ترجیحات بدلنا ہوں گی، دنیا بھر میں بجٹ کا بڑا حصہ کھیلوں اور تعلیم پر بھی خرچ کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کرکٹ میں تو پیسے کی ریل پیل ہے دیگر سپورٹس حکومتی اداروں اور سپانسرز کی زیادہ توجہ نہیں حاصل کر پاتے، ورلڈ سنوکر ٹائٹل جیتنے والے محمد آصف کی مثال سب کے سامنے ہے جس کو سفری اخراجات کے لیے بھی چندہ اکٹھا کرنا پڑا، انفرادی کوشش سے ایسے کرشمے روز روز نہیں ہوتے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہاکی کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کے لیے اپنے خزانوں سے فنڈز مہیا کر کے اچھی روایت قائم کی مگر کھلاڑیوں کو گراس روٹ لیول پر راغب کرنے کے لیے نہ صرف سکولوں، کالجوں میں ٹیموں کی تشکیل لازمی قرار دی جائے بلکہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ بھی اس ضمن میں قومی ذمہ داری قبول کریں،کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملیں گی تو مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کی فضا ختم ہو گی، سینکڑوں نئے پلیئرز میں سے چند تو ایسے ضرور ہوں گے جن کو مناسب تربیت دے کر عالمی مقابلوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
ہمیں کم ازکم 100 ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی کھیپ درکار ہے جن کو گروم کر کے مستقبل کی ضرورتوں کے لیے تیار کیا جا سکے، ہمسایہ ملک چین کے پرائمری سکولوں میں تربیت حاصل کرنے والے اتھلیٹ، جمناسٹ، ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن پلیئر ہی آگے چل کر اولمپکس میں کئی میڈلز اپنے ملک کے نام کرتے ہیں، ایسی ہی منظم کوششیں کرکے ہم ہاکی میں کھویا ہوا مقام کیوں نہیں حاصل کر سکتے؟
abbas.raza@express.com.pk
دنیا کو اس کھیل کے سبق پڑھانے والا ملک اپنی تاریخ میں پہلی بار میگا ایونٹ میں شرکت سے ہی محروم رہ جائے گا کبھی اس کا تصور بھی محال تھا لیکن یہ انہونی ہوچکی، اب راکھ کریدنے کے بجائے مستقبل میں بہتری کے خواب دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے زیادہ تر سینئرز کی کمزور بیساکھی کا سہارا چھوڑ کر دستیاب نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کا فیصلہ کیاتو فوری نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی، آسٹریلیا میں9اے سائیڈ انٹرنیشنل سپر سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں نے صلاحیتوں کی جھلک دکھلائی لیکن بڑی ٹیموں کے خلاف میدان میں اترتے ہوئے ناتجربہ کاری آڑے آئی، خاص طور پر گرین شرٹس نے ارجنٹائن کے خلاف 4گول کی برتری حاصل کرنے کے باوجود جیتی بازی5-4سے گنوائی، کارکردگی میں عدم تسلسل کا نتیجہ تھا کہ4 ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں آخری پوزیشن کی رسوائی اپنے نام کے آگے درج کروائی۔
پاکستان ٹیم چند ٹیسٹ میچز میں ملی جلی کارکردگی پیش کرنے کے بعد ایشین چیمپئنز ٹرافی میں اپنے اعزاز کے دفاع کیلیے جاپان میں صف آرا ہوئی، کھلاڑیوں کو 9 اے سائیڈ کے بجائے روایتی فارمیٹ کے مقابلوں سے قبل موسم سے ہم آہنگ ہونے کا اچھا وقت مل گیا، کوچ طاہر زمان نے بھی ازسرنو حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے پلیئرز کو ذہنی طور پر تیار کیا، تشکیل نو کے مراحل سے گزرتی ٹیم نے گزشتہ ایونٹ کے برعکس اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ایک آسان حریف اومان کے مقابل ٹورنامنٹ کے فاتحانہ آغاز کا موقع بھی مل گیا،8-0 سے کامیابی نے کھلاڑیوں کو اچھی میچ پریکٹس بھی کرادی، فارم کی واپسی کی بعد پر اعتماد گرین شرٹس نے چین کو بھی 5-1سے زیر کرلیا،ملائشین ایک بار پھر سخت حریف ثابت ہوئے، تاہم میچ کے واحد گول کی بدولت فتح پاکستان کا ہی مقدر ٹھہری،گزشتہ کئی ایونٹس میں راہ کی دیوار بن کر منزل کھوٹی کرنے والی بھارتی ٹیم بھی اس بار اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکی، سنسنی خیز میچ میں گرین شرٹس نے برتری حاصل کرنے کے بعد گنوائی لیکن فیصلہ کن گول کرنے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگائی اور 5-4سے جیت کے ساتھ لیگ مرحلے میں سر فہرست ٹیم کے طور پر ٹائٹل کی امید جگائی۔
پاکستان کا آخری مقابلہ رنرز اپ جاپان سے تھا،میزبان ٹیم ملائیشیا، بھارت اور عمان کے خلاف فتح یاب رہی جبکہ چین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا،دونوں ٹیموں کا باہمی مقابلہ 2-2سے برابر رہا۔آج پاکستان اور جاپان ایشیائی اعزاز اپنے نام کرنے کا عزم لئے میدان میں اتریں گے، اب تک تو گرین شرٹس کی کارکردگی اچھی رہی ہے، سب سے اہم میچ بھارت کے خلاف تھا، گرچہ بلو شرٹس نے ہوم گرائونڈز پر دسمبر میں شیڈول جونیئر ورلڈکپ کی تیاری کیلیے زیادہ ترنوجوان کھلاڑیوںکو آزمانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم سکواڈ نو آموز ہونے کی وجہ سے پاکستان کی اچھی کارکردگی کو بھی نظر انداز نہیںکیا جاسکتا، نئے ٹیلنٹ نے کئی ایسی ٹیموں کو بھی زیر کیا جو اپنے سٹیمنا کی بدولت ہمیشہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کرتی رہی ہیں، تاہم پرفارمنس میں بہتری کے آثار نظر آنے کے باوجود ابھی سے مطمئن ہوکر بیٹھ جانے کی غفلت برداشت نہیں کی جاسکتی،ماضی کا کھویا ہوا مقام واپس لانے کیلیے دورس نتائج کے حامل کئی فیصلے تسلسل کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی ٹیم کے کپتان محمد عمران کا کہنا ہے کہ کاکا میگارا میں اعزاز کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلسل فتوحات سے کھلاڑیوں کا مورال بلند اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، کئی ٹیموں کو شکست دینے کے بعد فائنل میں خاص مشکل پیش نہیں آنی چاہیے لیکن کھیل کوئی بھی ہو کسی حریف کو کمزور سمجھنا دانش مندی نہیں، ردھم برقرار رکھتے ہوئے میدان مارنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا مینجمنٹ اور ٹیم ایک یونٹ میں ڈھل چکے ہیں، کھلاڑیوں کا اچھا تال میل بن چکا، اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، کوچز کی رہنمائی میں عمدہ حکمت عملی تشکیل دیتے ہوئے حریف کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، تاہم ایک ایونٹ کی کامیابی ہماری منزل نہیں ہونا چاہیے، ابھی بہتری کی جانب سفر کا آغاز ہواہے، ہمیں گراس روٹ سطح سے انٹرنیشنل مقابلوں تک مسلسل ہوم ورک اور محنت ہی ٹاپ ٹیموں کی فہرست میں لاسکتی ہے۔
محمد عمران کا کہنا بجا ہے، واقعی ایک دو روز میں قومی کھیل کی تقدیر بدلنے کا کوئی چارہ نہیں، آئندہ کے میگا ایونٹس سے قبل ہمارے پاس خاصا وقت موجود ہے، نئے پلیئرز کی گرومنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مستقبل کی تیاری کرنا ہوگی۔قومی ہاکی کا زوال کی طرف سفر شروع ہونے سے نہ صرف ایک ایک کر کے انٹرنیشنل ٹائٹل چھن گئے بلکہ ناکامیوں کی داستان طویل ہونے سے قومی کھیل عوامی سطح پر مقبولیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مختلف اداروں نے اپنی ہاکی ٹیمیں ختم کر کے توجہ کرکٹ اور دیگر کھیلوں پر مرکوز کر لی ہے، کلب سطح پر مقابلے کا رجحان بھی ختم ہونے سے مستقبل کے لیے سٹار تلاش کرنے کا عمل بھی جمود کا شکار نظر آنے لگا ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ایچ ایف میں کئی عہدیدار آئے اور گئے مگر باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی کے سبب جو خلا پیدا ہو گیا تھا اسے پر کرنے میں ناکام رہے۔ برسوں کے بگڑے کام سنوارنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ازسرنو حکمت عملی ترتیب دے کر بتدریج مثبت نتائج کی طرف بڑھنا ہوگا، ہمیں محدود وسائل میں رہتے ہوئے قومی کھلاڑیوں کو ان ٹیموں سے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے جن کے پاس سیکڑوں کی تعداد میں آسٹروٹرف اور بے پناہ سہولیات ہیں، ہماری ٹیم تو اسی حال میں ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے گئی کہ ایک دن بھی بلو ٹرف پر پریکٹس کا موقع نہ مل سکا جبکہ حریفوں نے کئی ماہ قبل ہی درجنوں انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا تجربہ حاصل کر لیا تھا۔
اس صورتحال میں قومی جذبے کے ساتھ ایک مشن کے طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔کئی بار خیال آتا ہے کہ ملک میں کئی اولمپئنز موجود ہیں جن کی صلاحیتوں کا دنیا اعتراف کرتی رہی مگر سب قومی کھیل کی بہتری کے لیے یکجا ہو کر کام کیوں نہیں کرتے، ایسا تجربہ کس کام کا جو ملک کی بہتری کے لیے استعمال نہ ہو سکے، ان کے باہمی جھگڑے زیادہ جبکہ مٹی کا قرض اتارنے کے لیے کوشش کم نظر آتی ہے،کتنے ہوں گے جنہوں نے کھیل کی نرسریاں آباد کرنے پر توجہ دی ہے۔اب بھی ٹھوس اقدامات کا آغاز کردیں تو قوم کو ہاکی میں بہتری کی امید دینے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے، گراس روٹ پر کھیل کے فروغ کے لیے جتنا بھی کام ہو سکے اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے، وقت گزرنے کے ساتھ مزید نئے اور باصلاحیت کھلاڑی قومی ٹیم کو میسر ہوں گے، کم عمری میں ہی کھیل کو نکھارنے اور فٹنس کو عالمی معیار کے مطابق لانے کے لیے مربوط پلان تیار کیا جائے تو آگے چل کر بڑے چیلنجز کا سامنا مشکل نہیں رہے گا، پاکستان کی سرزمین ہر حوالے سے بڑی زرخیز ہے، ٹیلنٹ کی قدر کرتے ہوئے صرف اور صرف میرٹ پر فیصلے کئے جائیں تو ہر کامیابی ممکن ہے، وقار کی بحالی کے اس سفر کھلاڑیوں کو ہر قدم پر قوم کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہوگی۔
ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے مگر سپانسرز اور اداروں کا رویہ مایوس کن رہا ہے،گزشتہ چند برس کے دوران معاملات میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، معاشی عدم تحفظ صرف ہاکی ہی نہیں ہر کھیل کا قاتل ہے، عالمی سطح پر فتوحات کے لئے کھیلوں کے حوالے سے ترجیحات بدلنا ہوں گی، دنیا بھر میں بجٹ کا بڑا حصہ کھیلوں اور تعلیم پر بھی خرچ کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کرکٹ میں تو پیسے کی ریل پیل ہے دیگر سپورٹس حکومتی اداروں اور سپانسرز کی زیادہ توجہ نہیں حاصل کر پاتے، ورلڈ سنوکر ٹائٹل جیتنے والے محمد آصف کی مثال سب کے سامنے ہے جس کو سفری اخراجات کے لیے بھی چندہ اکٹھا کرنا پڑا، انفرادی کوشش سے ایسے کرشمے روز روز نہیں ہوتے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہاکی کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کے لیے اپنے خزانوں سے فنڈز مہیا کر کے اچھی روایت قائم کی مگر کھلاڑیوں کو گراس روٹ لیول پر راغب کرنے کے لیے نہ صرف سکولوں، کالجوں میں ٹیموں کی تشکیل لازمی قرار دی جائے بلکہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ بھی اس ضمن میں قومی ذمہ داری قبول کریں،کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملیں گی تو مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کی فضا ختم ہو گی، سینکڑوں نئے پلیئرز میں سے چند تو ایسے ضرور ہوں گے جن کو مناسب تربیت دے کر عالمی مقابلوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
ہمیں کم ازکم 100 ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی کھیپ درکار ہے جن کو گروم کر کے مستقبل کی ضرورتوں کے لیے تیار کیا جا سکے، ہمسایہ ملک چین کے پرائمری سکولوں میں تربیت حاصل کرنے والے اتھلیٹ، جمناسٹ، ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن پلیئر ہی آگے چل کر اولمپکس میں کئی میڈلز اپنے ملک کے نام کرتے ہیں، ایسی ہی منظم کوششیں کرکے ہم ہاکی میں کھویا ہوا مقام کیوں نہیں حاصل کر سکتے؟
abbas.raza@express.com.pk