برفباری تودے گرنے سے ہولناک تباہی
پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑا برفانی تودہ رہائشی علاقے پر آن گرا جس کے نتیجے میں 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے۔
پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑا برفانی تودہ رہائشی علاقے پر آن گرا جس کے نتیجے میں 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے۔ فوٹو: فائل
ملک بھر میں بارشوں اور برفباری نے تباہی کی ہولناک تاریخ رقم کردی ۔ فوج کا ریسکیو آپریشن شروع ،اضلاع اور تحصیل کے زمینی رابطے منقطع ہوئے، برفباری ، لینڈسلا ئیڈنگ سمیت دیگر واقعات میں 106 افراد جاںبحق جب کہ درجنوں زخمی اور لاپتہ ہوئے، متاثرہ لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ۔
وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو آزاد کشمیر کے دورے پر مظفرآباد پہنچے، روانگی سے قبل انھوں نے ڈزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی مدد اور تعاون کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے وادی نیلم کے برف باری اور تودے گرنے سے متاثرہ علاقوںکا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ واقعات کے مطابق آزادکشمیر میں تین روز سے جاری بارشوں ، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ، سرگن سیری بکوالی ، بگنواں سمیت کئی دیہات صفہ ہستی سے مٹ گئے ۔
آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر واقع وادی نیلم کے علاقہ سرگن بکوالی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑا برفانی تودہ رہائشی علاقے پر آن گرا جس کے نتیجے میں 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے جب کہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں ، آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں سرد موسم بارش اور شدید برفباری کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس وقت سرگن بکوالی علاقے میں دس سے گیارہ فٹ برف پڑ چکی ، برف کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کے لیے پاک فوج کی مدد سے ریسیکو آپریشن شروع کر دیا گیا ، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے 45 مکانات مکمل تباہ ہو گئے جب کہ 78 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔
آزاد کشمیر کے وزیر احمد رضا قادری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا کہ سرگن ویلی میں ہونے والے سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر اور بلوچستان میں برفانی تودہ گرنے اور شدید برفباری سے ہونے والے جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر اور بلوچستان میں برفانی تودہ گرنے اور شدید برفباری سے ہونے والے جانی نقصان پراظہار افسوس کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو ہدایات جاری کیں کہ متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کو ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور مدد فراہم کی جائے۔
متاثرین کی امداد کے پیش نظر ضروری ہے کہ انہیں پیداشدہ مشکلات سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، متاثرین کا المیہ یہ ہے کہ ان پسماندہ علاقوں میں لوگ ان آفات سے بچاؤ کے لیے فول پروف مکان نہیں بناتے، ان کے پاس برف ہٹانے یا راستے صاف کرنے کی جدید ترین سہولتیں نہیں، تودے گرنے، یا ہولناک بارشوں اور برف باری سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کاموں کی ضرورت ہے، کہتے ہیں کہ تودے گرنے اور ان کی راستے میں رکاوٹ بننے کو کوئی آپشن نہیں ہوتا، اسی طرح برف باری پر تودوں سے ہلاکتوں کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ اس تباہی اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے غیر روایتی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔
میڈیا کے مطابق متعدد علاقوں میں رسائی ممکن نہیں،راستے انتہائی دشوار ہیں۔ یہ اطلاع خوش آئند ہے کہ برطانیہ نے متاثرین کی امداد کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ حکومت کو صورتحال کی سنگینی کے ادراک کے ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ پوری دنیا اور ملک کے برفانی علاقے موسمیاتی تبدیلیوں سے دوچارہیں، دبئی ،شارجہ، الفجیرہ، العین میں طوفانی بارشیں ہوئی ہیں، گلگت بلتستان ، بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں سردی کی غیر معلوی لہر اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرات میں اٖضافہ ہوا ہے۔
وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ ڈزاسٹر مینجمنٹ کے لیے پاک فوج سے فیڈ بیک لینے کا مستقل میکنزم وضع کرے، برف ہٹانے کے عمل کو جدید سائنسی بنیاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ گلیشیئر،اور تودوں کے گرنے سے ہلاکتوں کا سدباب اور پیشگی الارم سسٹم فعال ہو۔ تودے گرنے کے سانحوں کا میڈیا نے دردناک منظر دکھایا۔ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
دوسری طرف وادی نیلم میں طوفانی برفباری سے پیدا ہونے والی صورتحال پروزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق کی زیر صدارت اعلیٰ سطح ا جلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاک فوج کے ساتھ ملکر ریسیکو ریلیف و بحالی کا عمل مکمل کیا جائیگا اور حکومت آزادکشمیر ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی محفوظ جگہوں پر منتقلی جاںبحق اور زخمیوں کو معاوضہ جات کی فوری ادائیگی کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔
اجلاس میں وادی نیلم امیت بالائی علاقوں میں غذائی ضروریات کا جائزہ لیا گیا، پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں بارش کے دوران ژوب ، پشین اور خانوزئی میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 20افراد جاں بحق ہوئے ، وزیراعلی بلوچستان جام کمال کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی تاریخ میں شاید اتنی شدید برفباری پہلے نہیں ہوئی اس لیے مشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔ جب کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے علاقے کان مہتر زئی میں برف میں پھنسے 500 مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا ، منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں مسافر گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے ۔ ادھر گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے جس کے سبب بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہیں ، دیامر اور استور میں شدید برفباری کے بعد اسنوایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی۔
چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہوگئی ، مالاکنڈ ڈویژن سمیت قبائلی اضلاع باجوڑ ، خیبر ، مہمند ، کزئی اور وزیرستان میں بھی برف باری جاری ہے ، مانسہرہ کی وادیوں کاغان ، ناران ، شوگران میں بھی یخ بستہ ہواؤں کا راج ہے اور وقفے وقفے سے برفباری ہو رہی ہے ، کوہستان کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے شاہرائے قراقرم کئی مقامات پر بند ہوگئی جہاں سیکڑوں مسافر گاڑیوں میں پھنس گئے ، ملکہ کوہسار مری میں مسلسل برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہے ، نتھیاگلی ، ایوبیہ ، چھانگلہ گلی میں مرکزی سڑک سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہیں جب کہ لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری سے راستے بند ہونے کے باعث سیاحوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔ دوسری طرف نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے حالیہ بارشوں و برفباری سے ملک بھر میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات جاری کردی ۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے تمام محکوں کو عوام کی خدمت ریلیف اور تمام بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے ہدایت جاری کر دی ۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2کے بیس کیمپ میں 120کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے برفانی طوفان آگیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بیس کیمپ میں اسپین، اٹلی ، چین ، کینیڈا ، ہالینڈ ، فن لینڈ ، نیپال اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما موجود ہیں جن کی مہم جوئی شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ہے ۔
محکمہ مو سمیات کے مطابق آیندہ چو بیس گھنٹوں کے دوران لاہور ، اسلا م آباد ، بالائی اور وسطی پنجاب کے اکثر مقامات سمیت جنوبی پنجاب میں موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے جب کہ گلگت ، بلتستا ن اور کشمیر سمیت شمالی علاقہ جات میں بارش اور برف باری کی پیشنگوئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو آزاد کشمیر کے دورے پر مظفرآباد پہنچے، روانگی سے قبل انھوں نے ڈزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی مدد اور تعاون کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے وادی نیلم کے برف باری اور تودے گرنے سے متاثرہ علاقوںکا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ واقعات کے مطابق آزادکشمیر میں تین روز سے جاری بارشوں ، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ، سرگن سیری بکوالی ، بگنواں سمیت کئی دیہات صفہ ہستی سے مٹ گئے ۔
آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر واقع وادی نیلم کے علاقہ سرگن بکوالی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑا برفانی تودہ رہائشی علاقے پر آن گرا جس کے نتیجے میں 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے جب کہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں ، آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں سرد موسم بارش اور شدید برفباری کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس وقت سرگن بکوالی علاقے میں دس سے گیارہ فٹ برف پڑ چکی ، برف کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کے لیے پاک فوج کی مدد سے ریسیکو آپریشن شروع کر دیا گیا ، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے 45 مکانات مکمل تباہ ہو گئے جب کہ 78 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔
آزاد کشمیر کے وزیر احمد رضا قادری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا کہ سرگن ویلی میں ہونے والے سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر اور بلوچستان میں برفانی تودہ گرنے اور شدید برفباری سے ہونے والے جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر اور بلوچستان میں برفانی تودہ گرنے اور شدید برفباری سے ہونے والے جانی نقصان پراظہار افسوس کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو ہدایات جاری کیں کہ متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کو ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور مدد فراہم کی جائے۔
متاثرین کی امداد کے پیش نظر ضروری ہے کہ انہیں پیداشدہ مشکلات سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، متاثرین کا المیہ یہ ہے کہ ان پسماندہ علاقوں میں لوگ ان آفات سے بچاؤ کے لیے فول پروف مکان نہیں بناتے، ان کے پاس برف ہٹانے یا راستے صاف کرنے کی جدید ترین سہولتیں نہیں، تودے گرنے، یا ہولناک بارشوں اور برف باری سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کاموں کی ضرورت ہے، کہتے ہیں کہ تودے گرنے اور ان کی راستے میں رکاوٹ بننے کو کوئی آپشن نہیں ہوتا، اسی طرح برف باری پر تودوں سے ہلاکتوں کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ اس تباہی اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے غیر روایتی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔
میڈیا کے مطابق متعدد علاقوں میں رسائی ممکن نہیں،راستے انتہائی دشوار ہیں۔ یہ اطلاع خوش آئند ہے کہ برطانیہ نے متاثرین کی امداد کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ حکومت کو صورتحال کی سنگینی کے ادراک کے ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ پوری دنیا اور ملک کے برفانی علاقے موسمیاتی تبدیلیوں سے دوچارہیں، دبئی ،شارجہ، الفجیرہ، العین میں طوفانی بارشیں ہوئی ہیں، گلگت بلتستان ، بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں سردی کی غیر معلوی لہر اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرات میں اٖضافہ ہوا ہے۔
وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ ڈزاسٹر مینجمنٹ کے لیے پاک فوج سے فیڈ بیک لینے کا مستقل میکنزم وضع کرے، برف ہٹانے کے عمل کو جدید سائنسی بنیاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ گلیشیئر،اور تودوں کے گرنے سے ہلاکتوں کا سدباب اور پیشگی الارم سسٹم فعال ہو۔ تودے گرنے کے سانحوں کا میڈیا نے دردناک منظر دکھایا۔ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
دوسری طرف وادی نیلم میں طوفانی برفباری سے پیدا ہونے والی صورتحال پروزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق کی زیر صدارت اعلیٰ سطح ا جلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاک فوج کے ساتھ ملکر ریسیکو ریلیف و بحالی کا عمل مکمل کیا جائیگا اور حکومت آزادکشمیر ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی محفوظ جگہوں پر منتقلی جاںبحق اور زخمیوں کو معاوضہ جات کی فوری ادائیگی کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔
اجلاس میں وادی نیلم امیت بالائی علاقوں میں غذائی ضروریات کا جائزہ لیا گیا، پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں بارش کے دوران ژوب ، پشین اور خانوزئی میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 20افراد جاں بحق ہوئے ، وزیراعلی بلوچستان جام کمال کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی تاریخ میں شاید اتنی شدید برفباری پہلے نہیں ہوئی اس لیے مشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔ جب کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے علاقے کان مہتر زئی میں برف میں پھنسے 500 مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا ، منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں مسافر گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے ۔ ادھر گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے جس کے سبب بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہیں ، دیامر اور استور میں شدید برفباری کے بعد اسنوایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی۔
چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہوگئی ، مالاکنڈ ڈویژن سمیت قبائلی اضلاع باجوڑ ، خیبر ، مہمند ، کزئی اور وزیرستان میں بھی برف باری جاری ہے ، مانسہرہ کی وادیوں کاغان ، ناران ، شوگران میں بھی یخ بستہ ہواؤں کا راج ہے اور وقفے وقفے سے برفباری ہو رہی ہے ، کوہستان کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے شاہرائے قراقرم کئی مقامات پر بند ہوگئی جہاں سیکڑوں مسافر گاڑیوں میں پھنس گئے ، ملکہ کوہسار مری میں مسلسل برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہے ، نتھیاگلی ، ایوبیہ ، چھانگلہ گلی میں مرکزی سڑک سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہیں جب کہ لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری سے راستے بند ہونے کے باعث سیاحوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔ دوسری طرف نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے حالیہ بارشوں و برفباری سے ملک بھر میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات جاری کردی ۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے تمام محکوں کو عوام کی خدمت ریلیف اور تمام بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے ہدایت جاری کر دی ۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2کے بیس کیمپ میں 120کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے برفانی طوفان آگیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بیس کیمپ میں اسپین، اٹلی ، چین ، کینیڈا ، ہالینڈ ، فن لینڈ ، نیپال اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما موجود ہیں جن کی مہم جوئی شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ہے ۔
محکمہ مو سمیات کے مطابق آیندہ چو بیس گھنٹوں کے دوران لاہور ، اسلا م آباد ، بالائی اور وسطی پنجاب کے اکثر مقامات سمیت جنوبی پنجاب میں موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے جب کہ گلگت ، بلتستا ن اور کشمیر سمیت شمالی علاقہ جات میں بارش اور برف باری کی پیشنگوئی ہے۔