نیا مہلک وائرس

یہ وائرس دوسرے امراض کی طرح پھیل سکتا ہے۔پاکستان کو بھی اس حوالے سے الرٹ رہنا چاہیے۔

یہ وائرس دوسرے امراض کی طرح پھیل سکتا ہے۔پاکستان کو بھی اس حوالے سے الرٹ رہنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

چین میں ایک نئی قسم کے وائرس کے بارے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے، اس وائرس کا نام کرونا وائرس بتایا گیا ہے جو انسانوں میں سے ایک دوسرے کو لگ سکتا ہے بالخصوص فیملی کے اراکین کے ایک دوسرے کو اس وائرس میں مبتلا ہونے کا زیادہ خطرہ ہے جس کے لیے ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)نے آگاہ کیا ہے کہ اس وائرس سے محفوظ رہنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس میں بہت سے وائرس شامل ہوتے ہیں، گویا یہ وائرس کی ایک مکمل فیملی ہے جو عام نزلہ زکام سے پیدا ہوتا ہے۔ اس وائرس کا تھائی لینڈ میں مقیم ایک چینی خاتون پر حملہ ہوا جسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا اوراس کا علاج کیا گیا۔ تھائی لینڈ کے حکام نے بتایا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے، اس وائرس کا چین سے باہر بھی اثر ریکارڈ کیا گیا ہے ،گویا چین میں یہ وائرس موجود ہے ۔

وسطی چین میں نمونیے کے 41کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ یہ تمام متاثرہ افراد کا تعلق وسطی چینی شہر ووہان سے ہے۔ کرونا وائرس جانچنے کے لیے ابتدائی ٹیسٹ ایک لیبارٹری میں کیے گئے جس سے پتہ چلا کہ مذکورہ افراد پر ایک نئی قسم کے وائرس کا حملہ ہوا ہے۔ ان میں سے ایک مریض ہلاک بھی ہو گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کرونا وائرس بہت مہلک قسم کا وائرس ہے۔


ووہان شہر کے حکام کے مطابق اس وائرس سے کسی اور کے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی کوئی اور ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ جو اطلاعات اس حوالے سے موصول ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ فی الحال اس نئے وائرس کا پھیلاؤ زیادہ نہیں ہے بلکہ بالعموم یہ ایک ہی فیملی میں ایک دوسرے کو متاثر کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی قائم مقام ڈائریکٹر ماریہ وان کرخودی نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس نئے وائرس سے مقابلے کے لیے پوری تیاری کر رہا ہے تاکہ اگر وائرس پھیل جائے تو اس پر کامیابی سے قابو پایا جا سکے۔

ماریا وان کی ذمے داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ نئی نمودار ہونے والی بیماریوں کے علاج کی تدبیر کرے کیونکہ اس کے یونٹ کا نام ہی یہی ہے ایمرجنگ ڈیزیز یونٹ۔ عالمی ادارہ صحت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے اگر کرونا وائرس زیادہ پھیل گیا تو اس پر قابو پانے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی تیار کرنی پڑے گی۔ جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران ماریہ نے کہا کہ مذکورہ وائرس کا ابھی حال ہی میں علم ہوا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو یہ وائرس دوسرے امراض کی طرح پھیل سکتا ہے۔پاکستان کو بھی اس حوالے سے الرٹ رہنا چاہیے کیونکہ یہاں چینی اور تھائی باشندوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے اور اسی طرح پاکستانی بھی ان دونوں ملکوں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔
Load Next Story