سیاسی ومعاشی زمینی حقائق
معیشت کے مختلف شعبوں میں استحکام پر موڈیز انویسٹرزسروسز نے پاکستان کی درجہ بندی منفی سے اپ گریڈ کرتے ہوئے مستحکم کردی۔
معیشت کے مختلف شعبوں میں استحکام پر موڈیز انویسٹرزسروسز نے پاکستان کی درجہ بندی منفی سے اپ گریڈ کرتے ہوئے مستحکم کردی۔ فوٹو: فائل
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایک انگریزی معاصرکو انٹرویو دیتے ہوئے توقع ظاہرکی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے 2020 معاشی بحالی کا سال ہوگا، حکومت روزگار کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، ترقیاتی پروگراموں میں خطیر رقوم خرچ کی جائیں گی۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا جب کہ سیاحت ، رہائش اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، انھوں نے کہا کہ عوام کو بہتر معیار زندگی دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے تصورکی درست عکاسی اور ترجمانی کی جا سکے گی۔
ادھر وزارت خزانہ نے مشکلات سے دوچار معیشت کے حوالہ سے اپنا بیانیہ پھر دہرایا ہے۔ ایک اعلامیہ کے مطابق وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالتے وقت ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا تھا، جس سے افراط زرمیں اضافہ اور معاشی نمو میں کمی ہوئی۔ تاہم حکومتی اقدامات سے مالیاتی و تجارتی خساروں میں کمی اور کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
معیشت کے مختلف شعبوں میں استحکام پر موڈیز انویسٹرز سروسز نے پاکستان کی درجہ بندی منفی سے اپ گریڈ کرتے ہوئے مستحکم کر دی جب کہ بی تھری ریٹنگ برقرار رکھی۔ ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کاروباری آسانیاں مہیا کرنے کے عالمی اشاریے میں درجہ بندی میں 28پوائنٹس اضافے سے پاکستان کی درجہ بندی108 پر آ گئی۔
بلوم برگ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو گزشتہ تین ماہ میں کاروبارکے لحاظ سے دنیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج قرار دیا۔ جولائی/دسمبر2019 کے دوران بیرونی ترسیلات زر 3 فیصد اضافے سے 11.4ارب ڈالر ہو گئیں، پچھلے سال اسی عرصے میں ان کا حجم11 ارب ڈالر تھا۔ خالص پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 1.4ارب ڈالرکا اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 330 ملین ڈالر منفی سرمایہ کاری ہوئی۔ جولائی/ نومبر کے دوران 78 فیصد اضافے سے غیرملکی سرمایہ کاری850 ملین ڈالر ہو گئی، پچھلے سال اسی عرصے میں477 ملین ڈالر غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی۔
جولائی/دسمبرکے دوران برآمدات 4 فیصد اضافے سے12.3ارب ڈالر ہو گئیں ،گزشتہ سال اسی عرصے میں برآمدات11.9ارب ڈالر رہیں۔ جولائی/ نومبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد یا1.8 ارب ڈالر کمی ہوئی جو جی ڈی پی کا1.6 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصہ میں یہ خسارہ 6.7 ارب ڈالر تھا جو جی ڈی پی کا5.3 فیصد ہے ۔ دسمبر میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر11.5 ارب ڈالر ہو گئے جب کہ جون میں یہ7.2ارب ڈالر تھے ان میں5.3 ارب ڈالر شامل نہیں جو جولائی/ نومبرمیں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں واپس کیے گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیانیوں ، اعلامیوں اور اخباری انٹرویوزکے حوالے سے حکومت ایک دلفریب معاشی اورسیاسی صورتحال کا ناقابل یقین منظرنامہ پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن عملی صورتحال اور حکومتی دعوؤں کی صداقت محتاج بیان ہے کیونکہ اپوزیشن اور معاشی و سیاسی مبصرین زمینی حقائق کا کسی اور تناظر میں جائزہ لے رہے ہیں اور یہ وہی حقائق ہیں جن کا حکومت کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے سامنا ہے۔
چنانچہ حقیقی ملکی سیاسی صورتحال اور میکرو اکنامک اقتصادی سٹرٹیجیکل میں پیش رفت سے عوام اس وقت تک ذہنی طور پر ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکیں گے جب تک جمہوری ثمرات اور اقتصادی ریلیف ان تک بیانیے کے بجائے عملی شکل میں دستیاب نہ ہو۔
مبصرین کے مطابق اس گیپ کو جلد پورا کرنا ضروری ہے، حکمراں معاشی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کی جانب پیش قدمی کو یقینی بنا کر ہی جمہوری عمل اور سیاسی و معاشی استحکام کے خواب کی تعبیر پاسکتے ہیں۔ سیاسی یا معاشی سیاق و سباق میں ملکی حالات گزشتہ 18 ماہ کی کارکردگی کے آئینہ میں گردش حالات عدم سمتی اور غیر معمولی جدلیات اور تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کی نگاہ میں حکومتی اقدامات اپنی میکانیت، اقتصادی تشکیلات اور ملکی عوام کی ضروریات کی جائز تکمیل سے مشروط ہیں، عام آدمی کو اب تک ریلیف نہیں ملا ، لیکن درجن بھر وعدے اور نعرے اسے سننے کو ملے ہیں، مہنگائی بے لگام ہے، زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محرومی کا دائرہ بڑھ گیا ہے، گیس ، بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت ، علاج معالجے کے مصارف ، دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ، مکانوں کے کرایوں اور رہائش کے مسائل نے متوسط طبقے کو مایوسیوں کی نذر کر دیا ہے، مہنگائی تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے معاشی اور سیاسی مسیحاؤں کی در فنطنیاں عجیب وغریب ہیں۔
ایک مرکزی رہنما کا کہنا ہے حکومتی معاشی استحکام اور اقتصادی تعمیرکے بنیادی فیصلے کر رہی ہے، ہم پیسہ باہر سے لا رہے ہیں اور یہاں لوگوں کو صرف مہنگائی کی فکر ہے، جب کہ حکومت معیشت کی دیواریں مضبوط کرنے میں مصروف ہے مگر ماہرین معاشیات حکومتی اقتصادی بیانیے کی غلط تشریح کرکے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔
تاہم یہ حکومتی انداز نظر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، حکومت خود غیر حقیقت پسندی اورخیالی پلاؤ پر قائم ہے، اگر حکومت ٹھوس معاشی استحکام اور اقتصادی قومی تعمیرکے اہم ایجنڈے کی حتمی تکمیل میں مصروف ہے تو یہ خوش آئند بات ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ عوام '' کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک '' اپنی دال روٹی کو بھی بھول جائیں، انھیں روزگار نہیں ملتا تو چپ رہیں ، گیس ، بجلی، سی این جی، ایل پی جی اور ایل این جی دستیاب نہیں یا انتہائی مہنگی ہے، گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑے ہیں، زندگی اذیت بنی ہے، تو کہاں جائیں۔
لوگ حکومت سے خیرکی توقع مانگتے ہیں، کسی مہم جوئی کا انھیں شوق نہیں، لیکن اس بات کا ہر پاکستانی کو حق ہے کہ جس پارٹی نے اس سے ووٹ لیے ہیں وہ برسر اقتدار سیاسی جماعت اپنے عہد پر ،اپنے منشور پر قائم رہے اور اپنی ترقیاتی پروگرام اور معاشی اسٹریٹجی میں سنجیدہ اور نتیجہ خیزی لائے اور ملک میں سیاسی اورمعاشی تبدیلیوں کے لیے قول وفعل میں ٹھہراؤ کی خوبیاں پیدا کرے۔
حکمرانوں کے لیے پیدا شدہ صورتحال آج بھی چشم کشا ہے۔ سندھ میں آئی جی ہٹانے اور جوابی اقدام کے طور پر چیف سیکریٹری کی تبدیلی کا عندیہ دیاجا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے نئے نیب قانون کے لیے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دے دی ہے، حکومتی کمیٹی ناراض اتحادیوں ق لیگ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کو منانے میں لگی ہے۔ ادھر گردشی قرضوں کا حجم 565 ارب تک پہنچ گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل حالات کی وجہ سے عوام کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے،کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب ضرورت اپوزیشن جماعتوں سے سیاسی تناؤ اور غیر ضروری تنازعات کے سدباب کی ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کی صائب تجویز ہے کہ غصے کی حکمرانی کے سنگین نتائج نکلتے ہیں، وزیراعظم اپنے نادان دوستوں سے فاصلہ رکھیں ، سیاسی مفاہمت کو فروغ دیں، اسی میں سب کا فائدہ ہے۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا جب کہ سیاحت ، رہائش اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، انھوں نے کہا کہ عوام کو بہتر معیار زندگی دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے تصورکی درست عکاسی اور ترجمانی کی جا سکے گی۔
ادھر وزارت خزانہ نے مشکلات سے دوچار معیشت کے حوالہ سے اپنا بیانیہ پھر دہرایا ہے۔ ایک اعلامیہ کے مطابق وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالتے وقت ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا تھا، جس سے افراط زرمیں اضافہ اور معاشی نمو میں کمی ہوئی۔ تاہم حکومتی اقدامات سے مالیاتی و تجارتی خساروں میں کمی اور کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
معیشت کے مختلف شعبوں میں استحکام پر موڈیز انویسٹرز سروسز نے پاکستان کی درجہ بندی منفی سے اپ گریڈ کرتے ہوئے مستحکم کر دی جب کہ بی تھری ریٹنگ برقرار رکھی۔ ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کاروباری آسانیاں مہیا کرنے کے عالمی اشاریے میں درجہ بندی میں 28پوائنٹس اضافے سے پاکستان کی درجہ بندی108 پر آ گئی۔
بلوم برگ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو گزشتہ تین ماہ میں کاروبارکے لحاظ سے دنیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج قرار دیا۔ جولائی/دسمبر2019 کے دوران بیرونی ترسیلات زر 3 فیصد اضافے سے 11.4ارب ڈالر ہو گئیں، پچھلے سال اسی عرصے میں ان کا حجم11 ارب ڈالر تھا۔ خالص پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 1.4ارب ڈالرکا اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 330 ملین ڈالر منفی سرمایہ کاری ہوئی۔ جولائی/ نومبر کے دوران 78 فیصد اضافے سے غیرملکی سرمایہ کاری850 ملین ڈالر ہو گئی، پچھلے سال اسی عرصے میں477 ملین ڈالر غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی۔
جولائی/دسمبرکے دوران برآمدات 4 فیصد اضافے سے12.3ارب ڈالر ہو گئیں ،گزشتہ سال اسی عرصے میں برآمدات11.9ارب ڈالر رہیں۔ جولائی/ نومبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد یا1.8 ارب ڈالر کمی ہوئی جو جی ڈی پی کا1.6 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصہ میں یہ خسارہ 6.7 ارب ڈالر تھا جو جی ڈی پی کا5.3 فیصد ہے ۔ دسمبر میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر11.5 ارب ڈالر ہو گئے جب کہ جون میں یہ7.2ارب ڈالر تھے ان میں5.3 ارب ڈالر شامل نہیں جو جولائی/ نومبرمیں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں واپس کیے گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیانیوں ، اعلامیوں اور اخباری انٹرویوزکے حوالے سے حکومت ایک دلفریب معاشی اورسیاسی صورتحال کا ناقابل یقین منظرنامہ پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن عملی صورتحال اور حکومتی دعوؤں کی صداقت محتاج بیان ہے کیونکہ اپوزیشن اور معاشی و سیاسی مبصرین زمینی حقائق کا کسی اور تناظر میں جائزہ لے رہے ہیں اور یہ وہی حقائق ہیں جن کا حکومت کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے سامنا ہے۔
چنانچہ حقیقی ملکی سیاسی صورتحال اور میکرو اکنامک اقتصادی سٹرٹیجیکل میں پیش رفت سے عوام اس وقت تک ذہنی طور پر ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکیں گے جب تک جمہوری ثمرات اور اقتصادی ریلیف ان تک بیانیے کے بجائے عملی شکل میں دستیاب نہ ہو۔
مبصرین کے مطابق اس گیپ کو جلد پورا کرنا ضروری ہے، حکمراں معاشی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کی جانب پیش قدمی کو یقینی بنا کر ہی جمہوری عمل اور سیاسی و معاشی استحکام کے خواب کی تعبیر پاسکتے ہیں۔ سیاسی یا معاشی سیاق و سباق میں ملکی حالات گزشتہ 18 ماہ کی کارکردگی کے آئینہ میں گردش حالات عدم سمتی اور غیر معمولی جدلیات اور تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کی نگاہ میں حکومتی اقدامات اپنی میکانیت، اقتصادی تشکیلات اور ملکی عوام کی ضروریات کی جائز تکمیل سے مشروط ہیں، عام آدمی کو اب تک ریلیف نہیں ملا ، لیکن درجن بھر وعدے اور نعرے اسے سننے کو ملے ہیں، مہنگائی بے لگام ہے، زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محرومی کا دائرہ بڑھ گیا ہے، گیس ، بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت ، علاج معالجے کے مصارف ، دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ، مکانوں کے کرایوں اور رہائش کے مسائل نے متوسط طبقے کو مایوسیوں کی نذر کر دیا ہے، مہنگائی تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے معاشی اور سیاسی مسیحاؤں کی در فنطنیاں عجیب وغریب ہیں۔
ایک مرکزی رہنما کا کہنا ہے حکومتی معاشی استحکام اور اقتصادی تعمیرکے بنیادی فیصلے کر رہی ہے، ہم پیسہ باہر سے لا رہے ہیں اور یہاں لوگوں کو صرف مہنگائی کی فکر ہے، جب کہ حکومت معیشت کی دیواریں مضبوط کرنے میں مصروف ہے مگر ماہرین معاشیات حکومتی اقتصادی بیانیے کی غلط تشریح کرکے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔
تاہم یہ حکومتی انداز نظر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، حکومت خود غیر حقیقت پسندی اورخیالی پلاؤ پر قائم ہے، اگر حکومت ٹھوس معاشی استحکام اور اقتصادی قومی تعمیرکے اہم ایجنڈے کی حتمی تکمیل میں مصروف ہے تو یہ خوش آئند بات ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ عوام '' کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک '' اپنی دال روٹی کو بھی بھول جائیں، انھیں روزگار نہیں ملتا تو چپ رہیں ، گیس ، بجلی، سی این جی، ایل پی جی اور ایل این جی دستیاب نہیں یا انتہائی مہنگی ہے، گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑے ہیں، زندگی اذیت بنی ہے، تو کہاں جائیں۔
لوگ حکومت سے خیرکی توقع مانگتے ہیں، کسی مہم جوئی کا انھیں شوق نہیں، لیکن اس بات کا ہر پاکستانی کو حق ہے کہ جس پارٹی نے اس سے ووٹ لیے ہیں وہ برسر اقتدار سیاسی جماعت اپنے عہد پر ،اپنے منشور پر قائم رہے اور اپنی ترقیاتی پروگرام اور معاشی اسٹریٹجی میں سنجیدہ اور نتیجہ خیزی لائے اور ملک میں سیاسی اورمعاشی تبدیلیوں کے لیے قول وفعل میں ٹھہراؤ کی خوبیاں پیدا کرے۔
حکمرانوں کے لیے پیدا شدہ صورتحال آج بھی چشم کشا ہے۔ سندھ میں آئی جی ہٹانے اور جوابی اقدام کے طور پر چیف سیکریٹری کی تبدیلی کا عندیہ دیاجا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے نئے نیب قانون کے لیے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دے دی ہے، حکومتی کمیٹی ناراض اتحادیوں ق لیگ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کو منانے میں لگی ہے۔ ادھر گردشی قرضوں کا حجم 565 ارب تک پہنچ گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل حالات کی وجہ سے عوام کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے،کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب ضرورت اپوزیشن جماعتوں سے سیاسی تناؤ اور غیر ضروری تنازعات کے سدباب کی ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کی صائب تجویز ہے کہ غصے کی حکمرانی کے سنگین نتائج نکلتے ہیں، وزیراعظم اپنے نادان دوستوں سے فاصلہ رکھیں ، سیاسی مفاہمت کو فروغ دیں، اسی میں سب کا فائدہ ہے۔