آئین میں تبدیلی پر روسی وزیراعظم احتجاجاً مستعفی
پیوٹن نے آئین میں جن تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے ان سے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مزید اضافہ ہو گا۔
پیوٹن نے آئین میں جن تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے ان سے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مزید اضافہ ہو گا۔ (فوٹو: فائل)
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی طرف سے روس کے آئین میں تبدیلی کے اعلان کے بعد روسی وزیر اعظم میڈی ڈیف نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ صدر پیوٹن کے اس اعلان سے وہاں ایک دھچکے جیسی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جب کہ پیوٹن کے آیندہ منصوبوں کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
روسی وزیر اعظم دمتری میڈی ڈیف صدر پیوٹن کے طویل عرصہ سے اتحادی اور ان کے اعتماد کے سیاست دان ہیں جنہوں نے صدر پیوٹن کے ''اسٹیٹ آف دی نیشن خطاب'' کے بعد جس میں پارلیمنٹ کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے بعض آئینی ترامیم کا عندیہ دیا گیا تھا، حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔
صدر کے اعلان سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ وہ روس کے سیاسی نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں جن کے مطابق وہ 2024 کے بعد بھی اقتدار میں رہ سکیں حالانکہ روسی آئین کے مطابق انھیں چوتھی مدت کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ بعض مبصرین کے مطابق پیوٹن ہمیشہ کے لیے برسر اقتدار رہنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے یہ چہ میگوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ صدر پیوٹن اقتدار میں رہنے کے لیے کوئی اور عہدہ تخلیق کر لیں یا پھر خود پس پردہ رہ کر اقتدار کے مزے لوٹیں گے اور کسی کو جواب دہ بھی نہیں ہوں گے۔ دریں اثناء پیوٹن نے میڈی ڈیف کی جگہ پر ملک کی ٹیکس سروس کے سربراہ مائیکل میشوسٹن کو اگلا وزیراعظم مقرر کر دیا۔ پیوٹن کے قوم سے خطاب کے بعد وزیر اعظم دمتری میڈی ڈیف نے کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی جس میں صدر اور وزیر اعظم کو ٹی وی پر ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے دکھایا گیا، حالانکہ پیوٹن قومی ٹی وی پر وزیر اعظم کی فراغت کا اعلان کر چکے تھے۔
میڈی ڈیف کا کہنا تھا کہ آئینی تبدیلیوں سے ملک کی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ اسی وجہ سے حکومت کو مستعفی ہونا پڑا ہے اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آیندہ تمام فیصلے صدر خود ہی کریں گے۔ پیوٹن نے میڈی ڈیف کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے 2008کے بعد سے چار سال تک ملک کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں جس کی سربراہی پیوٹن کے پاس ہے۔
پیوٹن نے آئین میں جن تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے ان سے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مزید اضافہ ہو گا اور کابینہ کے اراکین کے انتخاب کا معاملہ بھی پارلیمنٹ کے سپرد ہو جائے گا جو کہ موجودہ حالات میں صدر پیوٹن کا صوابدیدی اختیار ہے۔ صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ نئی تبدیلیوں سے علاقائی گورنروں کے اختیارات میں اضافہ ہو جائے گا نیز پارلیمنٹ وزیر اعظم اور اہم وزیروں کے انتخاب میں بھی خود مختار ہو جائے گی۔روس کے چوٹی کے نقاد الیکسی ناولنے نے کہا ہے کہ پیوٹن کا اصل مقصد تا حیات اقتدار میں رہنا ہے۔
روسی وزیر اعظم دمتری میڈی ڈیف صدر پیوٹن کے طویل عرصہ سے اتحادی اور ان کے اعتماد کے سیاست دان ہیں جنہوں نے صدر پیوٹن کے ''اسٹیٹ آف دی نیشن خطاب'' کے بعد جس میں پارلیمنٹ کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے بعض آئینی ترامیم کا عندیہ دیا گیا تھا، حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔
صدر کے اعلان سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ وہ روس کے سیاسی نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں جن کے مطابق وہ 2024 کے بعد بھی اقتدار میں رہ سکیں حالانکہ روسی آئین کے مطابق انھیں چوتھی مدت کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ بعض مبصرین کے مطابق پیوٹن ہمیشہ کے لیے برسر اقتدار رہنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے یہ چہ میگوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ صدر پیوٹن اقتدار میں رہنے کے لیے کوئی اور عہدہ تخلیق کر لیں یا پھر خود پس پردہ رہ کر اقتدار کے مزے لوٹیں گے اور کسی کو جواب دہ بھی نہیں ہوں گے۔ دریں اثناء پیوٹن نے میڈی ڈیف کی جگہ پر ملک کی ٹیکس سروس کے سربراہ مائیکل میشوسٹن کو اگلا وزیراعظم مقرر کر دیا۔ پیوٹن کے قوم سے خطاب کے بعد وزیر اعظم دمتری میڈی ڈیف نے کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی جس میں صدر اور وزیر اعظم کو ٹی وی پر ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے دکھایا گیا، حالانکہ پیوٹن قومی ٹی وی پر وزیر اعظم کی فراغت کا اعلان کر چکے تھے۔
میڈی ڈیف کا کہنا تھا کہ آئینی تبدیلیوں سے ملک کی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ اسی وجہ سے حکومت کو مستعفی ہونا پڑا ہے اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آیندہ تمام فیصلے صدر خود ہی کریں گے۔ پیوٹن نے میڈی ڈیف کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے 2008کے بعد سے چار سال تک ملک کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں جس کی سربراہی پیوٹن کے پاس ہے۔
پیوٹن نے آئین میں جن تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے ان سے پارلیمنٹ کے اختیارات میں مزید اضافہ ہو گا اور کابینہ کے اراکین کے انتخاب کا معاملہ بھی پارلیمنٹ کے سپرد ہو جائے گا جو کہ موجودہ حالات میں صدر پیوٹن کا صوابدیدی اختیار ہے۔ صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ نئی تبدیلیوں سے علاقائی گورنروں کے اختیارات میں اضافہ ہو جائے گا نیز پارلیمنٹ وزیر اعظم اور اہم وزیروں کے انتخاب میں بھی خود مختار ہو جائے گی۔روس کے چوٹی کے نقاد الیکسی ناولنے نے کہا ہے کہ پیوٹن کا اصل مقصد تا حیات اقتدار میں رہنا ہے۔