پاک فوج کو متنازعہ نہ بنایا جائے
حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد چند سیاسی اور مذہبی شخصیات نے غیر متوقع ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان قرآنی اصطلاحات کا تمسخر نہ اڑائیں، شہید کی اصطلاح کا مذاق اڑانا اسلام کی توہین ہے، علما سنی اتحاد کونسل فوٹو: فائل
حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد چند سیاسی اور مذہبی شخصیات نے غیر متوقع ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے جذباتی اور غیر ذمے دارانہ بیانات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔
اس صورتحال میں جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے یہاں تک کہہ دیا کہ حکیم اللہ محسود شہید ہے' انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ طالبان سے لڑائی کے دوران جان دینے والے پاک فوج کے جوان شہید نہیں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کے اس بیان نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا کی۔ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ سندھ اسمبلی نے سید منور حسن کے بیان کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی۔ ادھر ملک بھر کے فہمیدہ عوامی حلقوں نے امیر جماعت اسلامی کے بیان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
اتوار کو پاک فوج کے ترجمان نے بھی ان کے بیان پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں پاک فوج کے ترجمان نے سید منور حسن کے بیان کو غیر ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاک فوج میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دہشت گرد کو شہید قرار دینا ہزاروں بے گناہ عوام اور فوجیوں کی شہادت کی توہین ہے' عوام جانتے ہیں کہ ریاست کے وفادار کون اور دشمن کون ہیں' منور حسن کا بیان گمراہ کن اور ذاتی فائدے کے لیے ہے۔
شہدا اور ان کے اہل خانہ کو منور حسن کی توثیق کی ضرورت نہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان تبصرے کے قابل بھی نہیں ہے' پاک فوج وطن سے مخلص ہے اور اپنے دشمنوں سے بخوبی آگاہ ہے' فوج کے شہدا کے اہل خانہ سید منور حسن سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کرتے ہیں اور جماعت اسلامی اس بیان کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔ ترجمان نے سید منور حسن کی جانب سے اس بیان کو ان کی جانب سے ایک ایسی منطق قرار دیا جو سیاسی سہولت کے پیش نظر بنائی گئی ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کے بیان پر پاک فوج کا ردعمل فطری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ہزاروں افسر اور جوان شہید ہوئے۔ دہشت گردوں نے ملک بھر میں مساجد' امام بارگاہوں' اولیاء اللہ کے مزارات 'گرجا گھروں اور معروف بازاروں میں خود کش حملے اور بم دھماکے کر کے ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا گیا۔ ایسی صورت میں اگر ایک قومی سطح کی مذہبی جماعت کا سربراہ یہ کہے کہ دہشت گردوں سے لڑائی میں مارے جانے والے شہید نہیں ہیں تو اس پر غم و غصے اور اشتعال کی کیفیت پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔
موجودہ صورت حال میں ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت کو غیر معمولی ذمے داری اور تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کوئی بھی بات کرنے سے پہلے اس کے پس منظر' پیش منظر اور نتائج پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی شخصیات اس زیرکی' معاملہ فہمی اور ہوش مندی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہیں جس کا تقاضا ملک کی موجودہ صورت حال ان سے کر رہی ہے۔ حکیم اللہ محسود ایک مسلمہ دہشت گرد تھا۔ وہ جی ایچ کیو حملے کا بھی مجرم تھا۔ اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث حکومت پاکستان نے اس کے سر کی 5 کروڑ قیمت مقرر کر رکھی تھی۔
پاک فوج نے ملک اور قوم کو دہشت گردی کے عفریت سے بچانے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے' وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس جنگ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے جو قربانیاں پیش کیں' اس کا مقصد ملک وقوم کی بقا اور سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے' آج بھی پاک فوج اپنے فرائض پوری تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ ملک و قوم کو اب بھی دہشت گردی کا سامنا ہے اور وہ ایک طرح سے حالت جنگ میں ہے۔ ایسے نازک اور سنگین حالات میں ملک کی بعض سیاسی و مذہبی شخصیات کی طرف سے غیر ذمے دارانہ بیانات جاری کرنا' حب الوطنی ہے نہ ہی تدبر و بصیرت کی مثال۔ بلکہ یہ طرز عمل افسوسناک اور قابل مذمت ہی کہلائے گا۔
امیر جماعت اسلامی ایک قابل احترام علمی شخصیت ہیں' ان سے ایسے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اگلے روز منصورہ لاہور میں سید منور حسن کی قیادت میں جماعت اسلامی کا اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس میں جماعت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ تسلیم کیا ہے تاہم فوج کو حق نہیں کہ براہ راست سیاسی معاملات میں مداخلت کرے' فوج کا سیاست میں مداخلت کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک خاص گروہ ضمنی بحث کو چھیڑ کر قوم کو اس میں الجھا رہا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹو سپلائی بند کی جائے' ڈرون حملے بند کیے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی آمر کی بنائی گئی پالیسی کو تبدیل کیا جائے' یوں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کا ردعمل یا وضاحت گول مول ہے۔ پاکستان پہلے ہی بہت سے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے کٹھن وقت میں سیاسی اور مذہبی قیادت کو متنازعہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے اور قوم کو مزید تقسیم کی طرف لے جانے کے بجائے اس میں اتحاد اور اتفاق کو پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اس صورتحال میں جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے یہاں تک کہہ دیا کہ حکیم اللہ محسود شہید ہے' انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ طالبان سے لڑائی کے دوران جان دینے والے پاک فوج کے جوان شہید نہیں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کے اس بیان نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا کی۔ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ سندھ اسمبلی نے سید منور حسن کے بیان کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی۔ ادھر ملک بھر کے فہمیدہ عوامی حلقوں نے امیر جماعت اسلامی کے بیان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
اتوار کو پاک فوج کے ترجمان نے بھی ان کے بیان پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں پاک فوج کے ترجمان نے سید منور حسن کے بیان کو غیر ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاک فوج میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دہشت گرد کو شہید قرار دینا ہزاروں بے گناہ عوام اور فوجیوں کی شہادت کی توہین ہے' عوام جانتے ہیں کہ ریاست کے وفادار کون اور دشمن کون ہیں' منور حسن کا بیان گمراہ کن اور ذاتی فائدے کے لیے ہے۔
شہدا اور ان کے اہل خانہ کو منور حسن کی توثیق کی ضرورت نہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان تبصرے کے قابل بھی نہیں ہے' پاک فوج وطن سے مخلص ہے اور اپنے دشمنوں سے بخوبی آگاہ ہے' فوج کے شہدا کے اہل خانہ سید منور حسن سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کرتے ہیں اور جماعت اسلامی اس بیان کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔ ترجمان نے سید منور حسن کی جانب سے اس بیان کو ان کی جانب سے ایک ایسی منطق قرار دیا جو سیاسی سہولت کے پیش نظر بنائی گئی ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کے بیان پر پاک فوج کا ردعمل فطری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ہزاروں افسر اور جوان شہید ہوئے۔ دہشت گردوں نے ملک بھر میں مساجد' امام بارگاہوں' اولیاء اللہ کے مزارات 'گرجا گھروں اور معروف بازاروں میں خود کش حملے اور بم دھماکے کر کے ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا گیا۔ ایسی صورت میں اگر ایک قومی سطح کی مذہبی جماعت کا سربراہ یہ کہے کہ دہشت گردوں سے لڑائی میں مارے جانے والے شہید نہیں ہیں تو اس پر غم و غصے اور اشتعال کی کیفیت پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔
موجودہ صورت حال میں ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت کو غیر معمولی ذمے داری اور تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کوئی بھی بات کرنے سے پہلے اس کے پس منظر' پیش منظر اور نتائج پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی شخصیات اس زیرکی' معاملہ فہمی اور ہوش مندی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہیں جس کا تقاضا ملک کی موجودہ صورت حال ان سے کر رہی ہے۔ حکیم اللہ محسود ایک مسلمہ دہشت گرد تھا۔ وہ جی ایچ کیو حملے کا بھی مجرم تھا۔ اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث حکومت پاکستان نے اس کے سر کی 5 کروڑ قیمت مقرر کر رکھی تھی۔
پاک فوج نے ملک اور قوم کو دہشت گردی کے عفریت سے بچانے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے' وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس جنگ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے جو قربانیاں پیش کیں' اس کا مقصد ملک وقوم کی بقا اور سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے' آج بھی پاک فوج اپنے فرائض پوری تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ ملک و قوم کو اب بھی دہشت گردی کا سامنا ہے اور وہ ایک طرح سے حالت جنگ میں ہے۔ ایسے نازک اور سنگین حالات میں ملک کی بعض سیاسی و مذہبی شخصیات کی طرف سے غیر ذمے دارانہ بیانات جاری کرنا' حب الوطنی ہے نہ ہی تدبر و بصیرت کی مثال۔ بلکہ یہ طرز عمل افسوسناک اور قابل مذمت ہی کہلائے گا۔
امیر جماعت اسلامی ایک قابل احترام علمی شخصیت ہیں' ان سے ایسے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اگلے روز منصورہ لاہور میں سید منور حسن کی قیادت میں جماعت اسلامی کا اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس میں جماعت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ تسلیم کیا ہے تاہم فوج کو حق نہیں کہ براہ راست سیاسی معاملات میں مداخلت کرے' فوج کا سیاست میں مداخلت کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک خاص گروہ ضمنی بحث کو چھیڑ کر قوم کو اس میں الجھا رہا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹو سپلائی بند کی جائے' ڈرون حملے بند کیے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی آمر کی بنائی گئی پالیسی کو تبدیل کیا جائے' یوں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کا ردعمل یا وضاحت گول مول ہے۔ پاکستان پہلے ہی بہت سے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے کٹھن وقت میں سیاسی اور مذہبی قیادت کو متنازعہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے اور قوم کو مزید تقسیم کی طرف لے جانے کے بجائے اس میں اتحاد اور اتفاق کو پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔