پاک اورکویت تجارت وسرمایہ کاری بڑھانے کیلیے پرعزم
سرمایہ کاری بورڈکے تحت بزنس فورم میں کویتی تاجروں کاانویسٹمنٹ بڑھانے کاعزم۔
اسلام آباد: کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (کے آئی اے) کے منیجنگ ڈائریکٹر بدر محمد السعد پاک کویت بزنس فورم کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں ۔ فوٹو : اے پی پی
کویتی تاجروں نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
پیر کو سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے زیراہتمام منعقدہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر بدر محمد السعد نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم حقیقی گنجائش سے کم ہے، دونوں ممالک کی سرمایہ کاری بڑھانے والے اداروں کویت انویسٹمنٹ ایجنسی اور بی او آئی کے مابین باہمی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے، اس ایم او یو کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق روابط کو فروغ دینا اورمضبوط بنانا ہے۔
بزنس فورم میں دونوں ممالک کے معروف تاجروں نے شرکت کی، پاکستانی کاروباری شخصیات اور اداروں کے نمائندگی بی او آئی کے چیئرمین محمد زبیر جبکہ کویت بزنس کمیونٹی کی قیادت بدر محمد السعد نے کی۔ بزنس فورم کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں کی جانب سے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے حوالے سے مختلف امور کو زیربحث لایا گیا۔ کویتی تاجروں نے کہاکہ دونوں ممالک باہمی کوششوں سے تجارت اور سرمایہ کاری کے موجودہ حجم میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں، دونوں ممالک کو وسیع تجارتی مواقع سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی او آئی کے چیئرمین محمد زبیر نے کہاکہ بزنس فورم کے اس سیشن میں دونوں ممالک کی تاجر برادری کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کویتی تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، حکومت اس سلسلے میں بھرپور تعاون اور سہولتیں فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 4 ارب ڈالر ہے جو حقیقی گنجائش سے کم ہے، حجم میں کئی گناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کویت حلال خوراک کی بہت بڑی منڈی ہے، دونوں ممالک حلال اشیائے خوردونوش کی تجارت میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان میں کویت کی براہ راست سرمایہ کاری 15کروڑ 42 لاکھ ڈالر رہی ہے جس میں نمایاں اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ کویتی کمپنیاں تیل و گیس، کان کنی، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک و زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔
پیر کو سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے زیراہتمام منعقدہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر بدر محمد السعد نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم حقیقی گنجائش سے کم ہے، دونوں ممالک کی سرمایہ کاری بڑھانے والے اداروں کویت انویسٹمنٹ ایجنسی اور بی او آئی کے مابین باہمی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے، اس ایم او یو کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق روابط کو فروغ دینا اورمضبوط بنانا ہے۔
بزنس فورم میں دونوں ممالک کے معروف تاجروں نے شرکت کی، پاکستانی کاروباری شخصیات اور اداروں کے نمائندگی بی او آئی کے چیئرمین محمد زبیر جبکہ کویت بزنس کمیونٹی کی قیادت بدر محمد السعد نے کی۔ بزنس فورم کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں کی جانب سے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے حوالے سے مختلف امور کو زیربحث لایا گیا۔ کویتی تاجروں نے کہاکہ دونوں ممالک باہمی کوششوں سے تجارت اور سرمایہ کاری کے موجودہ حجم میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں، دونوں ممالک کو وسیع تجارتی مواقع سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی او آئی کے چیئرمین محمد زبیر نے کہاکہ بزنس فورم کے اس سیشن میں دونوں ممالک کی تاجر برادری کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کویتی تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، حکومت اس سلسلے میں بھرپور تعاون اور سہولتیں فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 4 ارب ڈالر ہے جو حقیقی گنجائش سے کم ہے، حجم میں کئی گناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کویت حلال خوراک کی بہت بڑی منڈی ہے، دونوں ممالک حلال اشیائے خوردونوش کی تجارت میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان میں کویت کی براہ راست سرمایہ کاری 15کروڑ 42 لاکھ ڈالر رہی ہے جس میں نمایاں اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ کویتی کمپنیاں تیل و گیس، کان کنی، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک و زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔