آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 بنگلہ دیش کی سیکیورٹی پر سوال اٹھنے لگے

چند روز قبل ٹیم ہوٹل کے قریب کئی دھماکے ہوئے،کیوی پلیئرز سہم کر کمروں میں دبکے رہے، میڈیا رپورٹ میں انکشاف

ارد گرد موجود پولیس اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، اہلکاروں نے اسکواڈ کا بہترین انداز سے خیال رکھا، ملز فوٹو: فائل

آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 سے قبل بنگلہ دیش کی سیکیورٹی صورتحال پر سوال اٹھنے لگے۔

گذشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی ٹیم ہوٹل کے قریب کئی دھماکے ہوئے جس سے پلیئرز سہم کر کئی روز تک کمروں میں دبکے رہے،اس دوران ہوٹل کے اردگرد موجود پولیس اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، قائم مقام کیوی کپتان کائل ملز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں کو سراہا جنھوں نے اسکواڈ کا بہترین انداز سے خیال رکھا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں آئندہ برس ورلڈ ٹوئنٹی20 ایونٹ ہونا ہے مگر سیاسی کشیدگی کے سبب ملکی حالات دن بہ دن خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

اب انکشاف ہواکہ گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم بھی وہاں خاصی مشکلات کا شکار رہی، 4 نومبر کو بھی ہوٹل کے قریب دھماکا ہوا جس سے پلیئرز سہم کر اپنے کمروں میں بند رہے، اس حوالے سے سری لنکا میں موجود اسکواڈ کے قائم مقام کپتان کائلز ملز نے کہا کہ ٹیم ہوٹل کے قریب کئی معمولی نوعیت کے دھماکے ہوئے مگر سیکیورٹی اہلکاروں نے ہمارا بڑاخیال رکھا،کوئی دھماکا اتنا خطرناک نہ تھا کہ ہوٹل کو نقصان پہنچتا یا ہمیں وہاں سے بھاگنا پڑتا، البتہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس دوران ہمارے دل کی دھڑکنیں ضرور تیز ہو جاتی تھیں، ملز کے مطابق انھیں شائد '' کاک ٹیل'' بم کہا جاتا ہے، یہ کسی پٹاخے سے دگنی آواز پیداکرتے ہیں، ہمارے سیکیورٹی آفیشل سیم ڈکسن ٹور سے پہلے بھی معاملات کا جائزہ لے چکے تھے۔


انھوں نے فوراً ہی صورتحال سنبھال لی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکوں میں ہوٹل کے اردگرد واقع سیکیورٹی چیک پوسٹس اور پولیس کو نشانہ بنایا گیا مگر کیوی کرکٹرز ہدف نہیں تھے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ کے ہیڈ آف آپریشنز لنزے کروکر نے اس حوالے سے کہا کہ میں تصور کر سکتا ہوں کہ یہ دھماکے کتنے وحشتناک ہونگے۔



آپ ایسی آوازیں سن کر آرام سے نہیں بیٹھ سکتے، البتہ ایک بات کا اطمینان ہوگا کہ اگر کوئی خطرہ محسوس ہوا تو سیکیورٹی اہلکار فوراً ایکشن لینگے۔ گذشتہ دنوں ان واقعات کی اطلاعات موصول ہونے پر نیوزی لینڈ کرکٹ نے وزارت خارجہ سے بھی اس بارے میں بات کی تھی جس کے بعد بنگلہ دیش میں ٹیم کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی، کروکر نے کہا کہ دھماکوں کے وقت کیوی پلیئرز اور مینجمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں تھا، ان کا ہوٹل سیل اور وہ محفوظ ماحول میں تھے۔

دریں اثنا سیکیورٹی مسائل بنگلہ دیش میں آئی سی سی ایونٹ کا انعقاد خطرے میں ڈال سکتے ہیں، نیوزی لینڈ پلیئرز ایسوسی ایشن بھی معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر حالات ایسے ہی خراب رہے تو آئی سی سی سے انتظامات پر یقین دہانی طلب کی جائیگی، ایک آفیشل نے کہا کہ ہمیں نیوزی لینڈ کرکٹ کے سیکیورٹی نظام پر مکمل اعتماد اور امید ہے کہ بنگلہ دیش کے دوبارہ دورے سے قبل معاملات کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے گا۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ان دنوں سری لنکا سے سیریز کھیلنے میں مصروف ہے۔
Load Next Story