مایوس کن کارکردگی کے باوجود فیڈرر کا ریٹائرمنٹ سے انکار
مینز ٹینس پر ایک دہائی تک راج کرنے والے سوئس پلیئر ناکامی کی تصویر بن گئے
مینز ٹینس پر ایک دہائی تک راج کرنے والے سوئس پلیئر ناکامی کی تصویر بن گئے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
مایوس کن کارکردگی کے باوجود راجر فیڈرر نے ریٹائرمنٹ سے انکار کر دیا، مینز ٹینس پر ایک دہائی تک راج کرنے والے 32 سالہ پلیئر اب یقیناً ناکامی کی تصویر بن گئے ہیں، ایسے وینیوز جہاں وہ روایتی طور پر ناقابل شکست تصور کیے جاتے تھے وہاں بھی شکست ہی ہاتھ آئی۔
تفصیلات کے مطابق راجر فیڈرر بضد ہیں کہ ٹینس ان کے جسم وجاں میں بسی ہے اور ابھی ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اے ٹی پی ورلڈ ٹور فائنلز کے سیمی فائنل میں رافیل نڈال سے ہارنے کے ساتھ ہی ان کا انتہائی مایوس کن سیزن اختتام کو پہنچ گیا۔ فیڈرر شکستوں سے بھری سیریز کی ایک اداس مہم پر ڈٹے رہے، 17 مرتبہ گرینڈ سلم چیمپئن سال کا اختتام بہتر طریقے سے نہ کر پائے اور ورلڈ نمبر ایک نڈال نے ان کے خلاف سیزن کے آخری ایونٹ میچ میں 7-5، 6-3 سے فتح سمیٹ لی۔ مینز ٹینس پر ایک دہائی تک راج کرنے والے 32 سالہ پلیئر یقیناً ناکامی کی تصویر بن گئے ہیں ۔ کچھ لوگوں نے انھیں ریٹائرمنٹ لے کر ایک باپ کی حیثیت سے جڑواں بچیوں پر توجہ مذکور کرنے کا مشورہ دیا لیکن فیڈرر ایسا کرنے کیلیے تیار نہیں کیونکہ وہ ٹینس سے بہت محبت کرتے ہیں۔
فیڈرر نے کہا کہ میرے لیے یہ انتہائی آسان ہے ، بچپن ہی سے میں اس میں ملوث ہوں، یہ ایک ایسی شے ہے جو ہمیشہ آپ کے ڈی این اے میں موجود رہتی ہے، واضح طور پر آج کا دن 12 برس پہلے سے مختلف ہے جب میں نوجوان تھا، انھوں نے کہا کہ میں زندگی میں دیگر کاموں کی وجہ سے ٹینس کھیلنا کیوں چھوڑوں؟ جب تک میری مرضی ہوگی کھیلتا رہوں گا۔ رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں فیڈرر کو بیک انجری نے گھیرے رکھا، انھوں نے کہا کہ کمر کے مسائل کو دیکھتے ہوئے مجھے خوشی ہے کہ اب کافی عرصے سے بالکل ٹھیک اور ٹینس کھیل رہا ہوں، 7 یا 8 ماہ سے کسی پر قابو نہ پانے کے بعد حال ہی میں 2 ٹاپ ٹین پلیئرز رچرڈ گیسکوئٹ اور جوآن مارٹن ڈیل پوٹرو کو ہرانا میرے لیے اچھی بات ہے۔
فیڈرر کی پرفارمنس میں کمی ایسے وینیوز پر بھی چھپانا ممکن نہیں جہاں وہ روایتی طور پر ناقابل شکست تصور کیے جاتے تھے، انھوں نے ومبلڈن میں دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ ورلڈ نمبر 16 سرجی اسٹاخووسکی نے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا تھا۔ ٹور فائنلز میں وہ 6 مرتبہ جیت چکے اور گذشتہ تین برسوں سے فائنل تک رسائی حاصل کی ہے، فیڈرر ایک انڈور ٹورنامنٹ میں نڈال سے پہلی مرتبہ ہارے، یہ اسپینش کھلاڑی کے ہاتھوں 32 میچز میں ان کی 22ویں شکست بنی۔
تفصیلات کے مطابق راجر فیڈرر بضد ہیں کہ ٹینس ان کے جسم وجاں میں بسی ہے اور ابھی ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اے ٹی پی ورلڈ ٹور فائنلز کے سیمی فائنل میں رافیل نڈال سے ہارنے کے ساتھ ہی ان کا انتہائی مایوس کن سیزن اختتام کو پہنچ گیا۔ فیڈرر شکستوں سے بھری سیریز کی ایک اداس مہم پر ڈٹے رہے، 17 مرتبہ گرینڈ سلم چیمپئن سال کا اختتام بہتر طریقے سے نہ کر پائے اور ورلڈ نمبر ایک نڈال نے ان کے خلاف سیزن کے آخری ایونٹ میچ میں 7-5، 6-3 سے فتح سمیٹ لی۔ مینز ٹینس پر ایک دہائی تک راج کرنے والے 32 سالہ پلیئر یقیناً ناکامی کی تصویر بن گئے ہیں ۔ کچھ لوگوں نے انھیں ریٹائرمنٹ لے کر ایک باپ کی حیثیت سے جڑواں بچیوں پر توجہ مذکور کرنے کا مشورہ دیا لیکن فیڈرر ایسا کرنے کیلیے تیار نہیں کیونکہ وہ ٹینس سے بہت محبت کرتے ہیں۔
فیڈرر نے کہا کہ میرے لیے یہ انتہائی آسان ہے ، بچپن ہی سے میں اس میں ملوث ہوں، یہ ایک ایسی شے ہے جو ہمیشہ آپ کے ڈی این اے میں موجود رہتی ہے، واضح طور پر آج کا دن 12 برس پہلے سے مختلف ہے جب میں نوجوان تھا، انھوں نے کہا کہ میں زندگی میں دیگر کاموں کی وجہ سے ٹینس کھیلنا کیوں چھوڑوں؟ جب تک میری مرضی ہوگی کھیلتا رہوں گا۔ رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں فیڈرر کو بیک انجری نے گھیرے رکھا، انھوں نے کہا کہ کمر کے مسائل کو دیکھتے ہوئے مجھے خوشی ہے کہ اب کافی عرصے سے بالکل ٹھیک اور ٹینس کھیل رہا ہوں، 7 یا 8 ماہ سے کسی پر قابو نہ پانے کے بعد حال ہی میں 2 ٹاپ ٹین پلیئرز رچرڈ گیسکوئٹ اور جوآن مارٹن ڈیل پوٹرو کو ہرانا میرے لیے اچھی بات ہے۔
فیڈرر کی پرفارمنس میں کمی ایسے وینیوز پر بھی چھپانا ممکن نہیں جہاں وہ روایتی طور پر ناقابل شکست تصور کیے جاتے تھے، انھوں نے ومبلڈن میں دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ ورلڈ نمبر 16 سرجی اسٹاخووسکی نے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا تھا۔ ٹور فائنلز میں وہ 6 مرتبہ جیت چکے اور گذشتہ تین برسوں سے فائنل تک رسائی حاصل کی ہے، فیڈرر ایک انڈور ٹورنامنٹ میں نڈال سے پہلی مرتبہ ہارے، یہ اسپینش کھلاڑی کے ہاتھوں 32 میچز میں ان کی 22ویں شکست بنی۔