سندھ اسمبلیبلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کیلیے قرار داد متفقہ منظور

الیکشن کمیشن کے دیے گئے شیڈول سے سندھ میں شفاف انتخابات عملی طورپرمشکل ہیں، قرار داد

الیکشن کمیشن کے دیے گئے شیڈول سے سندھ میں شفاف انتخابات عملی طورپرمشکل ہیں، قرار داد. فوٹو: فائل

سندھ اسمبلی میں پیر کو تمام پارلیمانی جماعتیں صوبے میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے میں یکجا ہو گئیں اور انھوں نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،جس میں کہا گیا کہ ''الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا جوشیڈول دیا ہے،اس سے آزادانہ اورشفاف انتخابات عملی طور پر مشکل ہے ۔

جلد بازی میں اورغیرشفاف طریقے سے کرائے گئے بلدیاتی انتخابات سے نہ صرف انتخابی عمل بلکہ نتائج کی ساکھ پربھی شکوک پیدا کردے گی ''۔ پیپلز پارٹی کے سید ناصرحسین شاہ ، ن لیگ کے عرفان اللہ خان مروت ، ایم کیو ایم کے سید فیصل سبزواری ، تحریک انصاف کے سید حفیظ الدین اور فنکشنل لیگ کی نصرت سحرعباسی نے یہ قراد داد پیش کی۔ قرارداد پر تقاریرکرتے ہوئے متعدد وزرا اور ارکان نے آئندہ مارچ تک بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اس سے پہلے انتخابات کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک 7 دسمبر تک بھی بلدیات انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ قرارداد میں کہا گیاکہ الیکشن کمیشن آزادانہ ، منصفانہ اورشفاف بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اس امرکویقینی بنائے کہ مقناطیسی سیاہی،درست انتخابی فہرستوں اورانتخابی مہم کے لیے مناسب وقت کی فراہمی سمیت تمام ضروری تقاضے پورے کردیے گئے ہیں۔

قانون کے مطابق بیلٹ پیپرزکی پرنٹنگ صرف پرنٹنگ پریس آف پاکستان کرسکتا ہے ، جس نے مذکورہ شیڈول میں بیلٹ پیپرزکی اشاعت کے لیے معذوری ظاہر کردی ہے۔کسی نجی پرنٹنگ پریس سے بیپلٹ پیپرزکی چھپائی قابل قبول نہیں ہوگی اوراس سے انتخابی عمل اورشفافیت سوالیہ نشان بن جائیں گی۔اس ایوان کا سیاسی عزم یہ ہے کہ انتخابات کاجمہوری عمل مکمل ہولیکن انتخابات شفاف ، آزادانہ اورمنصفانہ ہوں ۔ یہ قرارداد الیکشن کمیشن کوارسال کی جائے۔ قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیرنثاراحمدکھوڑو نے الیکشن کمیشن سے کہاکہ وہ اپنے شیڈول پرنظرثانی کرے۔حد بندیوں کے نوٹیفکیشن کے بعد 90 دن کا شیڈول دیا جائے اور 3 ماہ بعد الیکشن کرائے جائیں۔ حکومت ، امیدواروں اور لوگوں کو مناسب وقت ملنا چاہیے ۔ وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جمہوری حکومت کوایک ایسی ڈیڈ لائن دی گئی جس پرالیکشن کرانا انسانی طور پر ممکن نہیں۔




اگرہم عدلیہ کوایک ہفتے میں تمام مقدمات نمٹانے کی ڈیڈ لائن دے دیں توکیا یہ ممکن ہے کہ وہ سارے مقدمات نمٹا دے۔ انھوںنے کہا کہ بد انتظامی سے بچنے اور شفاف انتخابات کے لیے سب سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے تاریخ مقررکی جائے۔ اپوزیشن لیڈر سید فیصل علی سبزواری نے کہا کہ 23 نومبرکو بلدیاتی انتخابات سے عوام کواپنی آزادانہ رائے کے اظہارکا موقع نہیں ملے گا ۔یہ انتخابات صرف خانہ پوری ہوں گے ۔ حکومت کوغیر معینہ مدت تک انتخابات ملتوی کرنے بھی اختیار نہیں ہونا چاہیے ۔پیپلز پارٹی کے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کو ضد اور انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور تاریخ مزید آگے بڑھائی جائے۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ انتخابات قانون کے مطابق ہونے چاہئیں ۔

وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ قانون نے ہر صوبے کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے حالات کے مطابق انتخابات کی تاریخ دے اور وہ انتخابات ملتوی بھی کراسکتی ہے۔ ن لیگ کے عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ انتخابات کے شیڈول میں مارچ تک توسیع کی جائے ۔ قرار داد پر ڈاکٹر سہراب سرکی ، خواجہ اظہار الحسن ، مہتاب اکبر راشدی ، شہلا رضا ، عامر معین پیر زادہ ، شرمیلا فاروقی ، خورشید جونیجو اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ حلقہ بندیاں مکمل نہیں ہیں ۔ ووٹرز لسٹوں کی درستی ہونی ہے ، یہ کام جلد بازی میں نہیں ہوسکتے لہذا قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story