مغوی سے ڈیڑھ کروڑ تاوان لیکر داعش کو دینے والے 4 دہشتگروں کو دو بار عمر قید
ملزمان نے فروری 2018 میں شہری کو گلستان جوہر سے اغوا کیا اور ڈیڑھ کروڑ تاوان وصول کرکے افغانستان میں داعش کو بھیجا
ملزمان نے 7 فروری 2018 کو 25سالہ راحیل کو گلستان جوہر سے اغواء کیا تھا۔ فوٹو: فائل
دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں عدالت نے 4 مجرموں کو مجموعی طور پر 2 بار عمر قید کی سزا کا حکم دے دیا۔
کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں قائم خصوصی عدالت نمبر 16 نے 25 سالہ نوجوان کے اغواء برائے تاوان اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 4 مجرموں کو مجموعی طور پر 2 بار عمر قید کا حکم دے دیا۔
مجرموں میں مختیار احمد، نعیم، روح اللہ اور علی اکبر شامل ہیں۔ عدالت نے محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ کو بھی میکینزم بنانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایک لائحہ عمل بنایا جائے جس میں مغویوں کی بازیابی کے لیے ایڈوانس فنڈ موجود ہو۔ کسی کی جان تاوان کی عدم ادائیگی پر نہ جاسکے اور مغویوں کی زندگی کو بچایا جاسکے۔
تفتیشی افسر انسپکٹر سید محمد سرفراز کے مطابق ملزمان نے 7 فروری 2018ء کو 25سالہ راحیل کو گلستان جوہر سے اغوا کیا۔ مغوی کی رہائی کے لیے افغانستان سے فون کرکے 35 کروڑ تاوان طلب کیا تاہم مغوی کے والد نور عالم نے ڈیڑھ کروڑ تاوان کی رقم ادا کی اور یہ رقم حوالہ کے ذریعے افغانستان منتقل کی گئی۔
اغوا کاروں نے رقم ملنے کے تین ماہ 25 دن بعد مغوی کو رہا کیا مذکورہ رقم کالعدم داعش کو دی گئی جس کے بعد رقم ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال کی گئی۔ عدالت نے مجرموں کو معالی معاونت اور حبس بے جا میں رکھنے کے الزام میں بھی مجرموں کو مزید 9 سال قید کا حکم دیا ہے۔
کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں قائم خصوصی عدالت نمبر 16 نے 25 سالہ نوجوان کے اغواء برائے تاوان اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 4 مجرموں کو مجموعی طور پر 2 بار عمر قید کا حکم دے دیا۔
مجرموں میں مختیار احمد، نعیم، روح اللہ اور علی اکبر شامل ہیں۔ عدالت نے محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ کو بھی میکینزم بنانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایک لائحہ عمل بنایا جائے جس میں مغویوں کی بازیابی کے لیے ایڈوانس فنڈ موجود ہو۔ کسی کی جان تاوان کی عدم ادائیگی پر نہ جاسکے اور مغویوں کی زندگی کو بچایا جاسکے۔
تفتیشی افسر انسپکٹر سید محمد سرفراز کے مطابق ملزمان نے 7 فروری 2018ء کو 25سالہ راحیل کو گلستان جوہر سے اغوا کیا۔ مغوی کی رہائی کے لیے افغانستان سے فون کرکے 35 کروڑ تاوان طلب کیا تاہم مغوی کے والد نور عالم نے ڈیڑھ کروڑ تاوان کی رقم ادا کی اور یہ رقم حوالہ کے ذریعے افغانستان منتقل کی گئی۔
اغوا کاروں نے رقم ملنے کے تین ماہ 25 دن بعد مغوی کو رہا کیا مذکورہ رقم کالعدم داعش کو دی گئی جس کے بعد رقم ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال کی گئی۔ عدالت نے مجرموں کو معالی معاونت اور حبس بے جا میں رکھنے کے الزام میں بھی مجرموں کو مزید 9 سال قید کا حکم دیا ہے۔