آٹا بحران ذمہ داروں کا تعین کیا جائے

حکومت تاحال آٹے کے بحران پرقابو نہ پاسکی، کراچی ،لاہورسمیت ملک بھرکے اکثرشہروں میں شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

حکومت تاحال آٹے کے بحران پر قابو نہ پا سکی، کراچی ،لاہور سمیت ملک بھرکے اکثر شہروں میں شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ فوٹو: فائل

ملک بھر میں کراچی تا خیبر تک گندم اورآٹے کا بحران مزید شدت اختیارکرگیا، مارکیٹ میں آٹا سترروپے فی کلو میں بھی نایاب ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آٹے اور گندم کا بحران مصنوعی ہے جس کی بنیادی وجہ سپلائی چین کا ڈسٹرب ہونا ہے، اس وقت ملک کی ضرورت کے مطابق گندم موجود ہے، معاملہ اگلے تین چاردن میں ٹھیک ہوجائے گا۔

حکومت تاحال آٹے کے بحران پر قابو نہ پا سکی، کراچی ،لاہور سمیت ملک بھرکے اکثر شہروں میں شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ سفیدآٹا چالیس روپے جب کہ چکی کا آٹا ستر روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، بیس کلوکے تھیلے کی قیمت 805 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ آٹے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔

ادھر وفاقی وزیر غذائی تحفظ وتحقیق مخدوم خسرو بختیارنے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آٹے اورگندم کے بحران کا تاثر دیا جا رہا ہے، میں پورے اعتماد سے حقائق سامنا رکھنا چاہتا ہوںکہ اس وقت ملکی ضرورت کے مطابق گندم موجود ہے، سیزن کے اختتام تک بھی ساڑھے آٹھ لاکھ ٹن گندم اگلے سال کے اسٹاک میں جائے گی، اس وقت ملک میں چالیس لاکھ ٹن گندم پبلک سیکٹرمیں حکومت کے پاس ہے۔

وفاقی حکومت کے دعوے کے مطابق اگر ملک میں گندم کا اسٹاک وافر مقدار میں موجود اور یہ بحران مصنوعی طور پر پیدا ہوا ہے تو پھر وفاقی حکومت تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری کیوں دے رہی ہے؟ بعض حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ حکومت نے گندم برآمد بھی کی ہے۔ آٹا بحران کی وجوہات اور اسباب تلاش کرنا جہاں ناگزیر ہے وہاں اس کے ذمے داروں کا تعین کرکے ان کا احتساب بھی معاشی استحکام کے لیے لازم ہے۔


کیا اس کو حکومت کی بدانتظامی اور نااہلی تصور کیا جائے کہ گندم کا وافر اسٹاک ہونے کے باوجود ملک بھر میں آٹے کا بحران پیدا ہوا۔ حکومت کے پاس ایک مکمل انتظامی سیٹ اپ موجود ہے جو سارا سال گندم کی پیداوار اور سپلائی کے انتظامات کا حساب کتاب رکھتا اور کسی بھی متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت منصوبہ سازی کرتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی بحران یکدم پیدا نہیں ہوتا اس کے پس منظر میں حکومتی مشینری کی نااہلی،کرپشن یا غلط فیصلوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ شاید موجودہ آٹے کے بحران میں بھی کچھ اسی قسم کی صورت حال نظر آتی ہے۔ ماضی میں آٹے کے بحران کی ایک وجہ افغانستان کو اسمگلنگ کا عنصر بھی شامل رہا جس پر قابو پانے سے معاملات میں کافی بہتری آئی۔

اس وقت موجودہ آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لیے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اپنی اپنی بولی بول رہے ہیں ' سندھ حکومت وفاقی حکومت پر الزام لگا رہی جب کہ وفاق آٹے کی مہنگائی اور قلت کی ذمے داری سندھ کی صوبائی حکومت پر عائد کررہاہے۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی دعوے کررہے ہیں کہ گندم کا کوئی بحران نہیں ہے۔جب کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تو میدان عمل میں نکل آئے اور انھوں نے اتوار کو روز جڑانوالہ اور سمندری میں آٹے کے سیل پوائنٹس پر چھاپے مارے اور عوام کو آٹے کی فراہمی کا جائزہ لیا، صوبائی انتظامیہ نے بھی تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو محکمہ خوراک اور صنعت کے ساتھ ساتھ فلور ملز مالکان سے مستقل رابطہ رکھنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ آٹے کے مصنوعی بحران میں سپلائی چین ڈسٹرب ہوئی' 9ہزار ٹن گندم اگلے روز کراچی کے لیے سندھ روانہ کر دی گئی' ٹرانسپورٹرز احتجاج کی وجہ سے گندم بروقت نہ بھیجی جا سکی۔ عوام پہلے ہی پٹرول گیس اور روز مرہ کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان تھے اب آٹے کے بحران نے ان کی تشویش اور مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے، آٹا' گھی اور سبزی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اگر ان کے حصول ہی میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو لامحالہ حکومت کے خلاف اس کے غم و غصے میں اضافہ ہوگا جب کہ حکومت کے پاس ماسوائے خوشنما اور دلفریب وعدوں کے کچھ نہیں۔ مارکیٹ کی صورت حال یہ ہے کہ منافع خوری حد سے زیادہ بڑھتی چلی جا رہی ہے' روز مرہ اشیا' سبزیوں' پھلوں سے لے کر ملبوسات' کاسمیٹکس' ادویات' تعلیم اور صحت کے اخراجات میں اضافے نے عوام کو ذہنی دبائو کا شکار کر دیا ہے۔

ملک کے بعض علاقوں میں نان بائیوں نے آٹا مہنگا ہونے کے بعد ازخود روٹی' چپاتی اور نان کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا ہے' کوئٹہ میں فلور ملز مالکان اور دکانداروں نے بھی آٹے کے دام بڑھا دیے' بیس کلو آٹے کا تھیلا 1150روپے اور 50کلو کا تھیلا 28سو روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے' پشاور میں وفاقی حکومت کی ہدایت کے باوجود آٹا سستا نہ ہو سکا جب کہ نان بائیوں اور انتظامیہ کے درمیان روٹی کی قیمت بڑھانے کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہو گئے اور نان بائیوں نے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ زیریں سندھ کے علاقوں ٹھٹھہ' ٹنڈو محمد خان' ڈگری اور میر پور خاص میں بھی آٹے کا بحران جاری ہے' قصور اور سانگلہ ہل میں بھی نان بائیوں نے نان اور روٹی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ وفاق اور سندھ حکومت میں آٹے کے بحران پر لفظی جنگ تیز ہوتی جا رہی اور دونوں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔

سب سے زیادہ حیرت انگیز امر صدر مملکت عارف علوی کا آٹا بحران سے لا علمی کا اظہار ہے۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ پنجاب کی آٹے کی سپلائی بڑھا کر 25ہزار 390ٹن کر دی گئی ہے۔ حکومت جو چاہے دعوے کرے لیکن اس کی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں سے عوام میں جو اضطراب اور بے چینی پیدا ہوئی ہے اس کے ازالے کی فوری ضرورت ہے اور احتیاط کی جائے کہ دوبارہ ایسا بحران پیدا نہ ہو اور جو افراد بھی اس کے ذمے دار ہیں ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور عوام کو آٹا سمیت بنیادی ضروریات کی تمام اشیا کی فراہمی کو ملک گیر سطح پر یقینی بنایا جائے۔
Load Next Story