جسٹس مقبول باقر کیس کا نیا چالان عدالت نے منظور کرلیا

3 رکنی کمیٹی نے4ملزم مفرورقراردیدیے،عدالت کا مفروروں کی گرفتاری کاحکم

حتمی چالان میں71 گواہوں کا اندراج،چشم دید گواہ نے ملزم کو شناخت کرلیا فوٹو فائل

جسٹس مقبول باقر حملہ کیس کی ارسر نو تحقیقات مکمل کرکے3 رکنی کمیٹی نے چالان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع کرادیا،رپورٹ میں قاری خلیل اور گل حسن بلوچ کو بے گناہ قرار دیکر حافظ بشیر لغاری کی ہلاکت ظاہر کی گئی ہے۔

جبکہ 4 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے،منگل کو تفتیشی افسر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر ملزمان ابوبکر عرف معصوم باﷲ اور معاویہ لغاری کو عدالت میں پیش کیا گیا،تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں ایس ایس پی نیاز کھوسو اور ایس ایس پی چوہدری اسلم پر مشتمل کمیٹی نے مقدمے کی ازسر نو تحقیقات کی جس میں قاری خلیل اور گل حسن بلوچ کے خلاف شواہد نہیں ملے جبکہ ملزم حافظ بشیر لغاری پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا تھا ۔




جس پر ان تینوں کا چالان نہیں کیا گیا، مقدمے میں ملوث مفرور ملزمان رضوان عرف آصف ، عطاالرحمن عرف نعیم بخاری ، ساجد اور یاسر موسیٰ کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے تاہم وہ علاقہ غیر میں روپوش ہیں جنھیں مفرور قراد دیا گیا ہے ،دوران تحقیق چشم دید گواہ مختار نے ملزمان کی موجودگی میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو بیان قلمبند کرایا تھا،گواہ نے ابوبکرعرف معصوم باﷲ کو شناخت کیا، سی سی ٹی وی فوٹیج کے مشاہدے میں ایک شخص جائے وقوع کے قریب موبائل فون پر بات کرتے ہوئے اور دھماکے کے بعد موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے گواہ کے بیان اور حلیے کے مطابق ملزم عدالت میں موجود ہے۔

موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے جو ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے،دھماکے میں لیاری میں موجود کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، چالان میں71 گواہوں کا اندراج ہے، فاضل عدالت نے چالان منظور کرتے ہوئے مفرور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا اور سماعت 26نومبر تک ملتوی کردی ہے،استغاثہ کے مطابق26 جون کو ملزمان نے جسٹس مقبول باقر کے کانوائے پر بم دھماکا کرکے رینجر کے2 اور7پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا تھا جبکہ جسٹس مقبول باقر سمیت 12افراد دھماکے میں زخمی ہوئے تھے۔
Load Next Story