پاکستان سے کھیلتے ہوئے ٹنڈولکر کا جوش 200 فیصد تک بڑھ جاتا تھا رائنا

ورلڈ کپ2011 کے سیمی فائنل سے قبل پلیئرز دبائو میں تھے،سینئر ساتھی نے حوصلہ بڑھایا

ورلڈ کپ2011 کے سیمی فائنل سے قبل پلیئرز دبائو میں تھے،سینئر ساتھی نے حوصلہ بڑھایا۔ فوٹو: بی سی سی آئی/فائل

پاکستان کیخلاف کھیلتے ہوئے سچن ٹنڈولکر کا جوش و جذبہ 200 فیصد تک بڑھ جاتا تھا، یہ انکشاف ساتھی کھلاڑی سریش رائنا نے کیا۔

ایک تقریب میں انھوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ موہالی میں ورلڈکپ2011 کے سیمی فائنل سے قبل تمام بھارتی کرکٹرز تنائو میں تھے، ہائی وولٹیج میچ کو دیکھنے کیلیے دونوں ممالک کے وزرا ئے اعظم بھی آئے ہوئے تھے، ٹیموں کی باڈی لینگوئج بیحد جارحانہ نظر آئی۔




اس کے بعد پا جی (ٹنڈولکر) نے ہر ساتھی کھلاڑی سے کہا کہ اپنی ذمہ داری پر توجہ مرکوز رکھو، وکٹ اچھی اور پاکستان کیخلاف ورلڈکپ میں ہمارا ریکارڈ شاندار ہے، انھوں نے پلیئرز کو مشورہ دیا کہ پاکستانی کرکٹرز پر جب دبائو ڈالا جائے تو اچھا پرفارم نہیں کر پاتے، لہٰذا انھیں مشکل کا شکار کرو۔ رائنا نے ماسٹر بیٹسمین کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مستقبل کیلیے نیک خواہشات ظاہر کیں۔
Load Next Story