سعودی عرب میں 17 ہزار غیر قانونی تارکین وطن نے رضاکارانہ گرفتاری دے دی

پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہے اوراس سلسلے میں سعودی سفیر کے ساتھ رابطے میں ہیں، مشیر وزیراعظم انجینئرامیرمقام

غیرملکی تارکین وطن اپنا سامان اٹھائے پولیس کی بسوں کی طرف جارہے ہیں جن میں انھیں ڈیپورٹ کرنے سے پہلے اسمبلی سینٹر منتقل کیا جائے گا۔ فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب میں غیر قانونی قیام پذیرتارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، سعودی حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران 17 ہزار غیرملکیوں نے رضاکارانہ طورپرخود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

دریں اثنا ن لیگ کے مرکزی رہنما ووزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہے اور اس سلسلے میںصدر، وزیراعظم، وزیرخارجہ اور سعودی سفیرکے ساتھ رابطے میں ہیں۔ علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کیخلاف تحریک التوا سینیٹ میں جمع کرادی۔ تقصیلات کے مطابق ریاض پولیس کے ترجمان کرنل ناصرالقحطانی نے صحافیوں کو بتایا کہ بڑے شہروں میں غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں پکڑے گئے افرادکوپولیس کے زیرانتظام حفاظتی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ جہاں انھیں ان کے ملکوں میں واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ کرنل قحطانی نے بتایا کہ گرفتارافراد میں خواتین، بچے اور پورے پورے خاندان بھی شامل ہیں۔ حکومت انھیں ان کے ملکوں میں واپسی کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کررہی ہے۔




علاوہ ازیں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے ورثاکے سوات سے آئے ہوئے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیرانجینئرامیرمقام نے کہا ہے کہ سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو مزید مہلت دے تاکہ وہ اپنے مسائل کوحل کرسکیں۔دریں اثنامنگل کو سینیٹ سیکریٹریٹ میں عوامی نیشنل پارٹی نے تحریک التوا جمع کرائی ہے جس پر سینیٹر افراسیاب خٹک سینیٹرزاہد خان اور سینیٹر امرجیت کے دستخط ہیں تحریک التوا میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اخبارات میں خبریں چھپی ہیں کہ سعودی عرب میںکام کرنیوالے پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو ڈی پورٹ کیا جارہا ہے، بیرون ملک کام کرنیوالے پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں انھیں ڈی پورٹ کرنے سے ہزاروں خاندان متاثر ہونگے اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا اسلیے اس فوری نوعیت کے معاملے پرایجنڈے کی کارروائی معطل کرکے بحث کرائی جائے۔
Load Next Story