حکومت مائی باپ ہوتی ہے سوتیلی ماں نہیں بجلی پر سبسڈی واپس نہیں لی جاسکتی چیف جسٹس
سی این جی کی قیمتوں پر آج فیصلہ دینگے، بجلی کے نرخوں میں اضافہ نے عوام کو پیس کر رکھ دیا، چیف جسٹس
سبسڈی344ارب روپے تک پہنچ چکی تھی، رقم تعلیم و صحت کیلیے مختص کر دی، اٹارنی جنرل، سبسڈی دیکر واپس لینا عوام دوستی نہیں، ریاست کو شہریوں کا خادم بننا چاہیے،عدالت۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت عوام کیساتھ مائی باپ جیسا سلوک کرے، سوتیلی ماں جیسا نہیں، سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے مقدمے کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سی این جی کے معاملے پر آج سماعت مکمل کر کے فیصلہ دے گی۔ کنڈا مافیا کو حکومت پکڑ نہیں رہی اور بجلی چوری کا سارا الزام غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، کنڈا مافیا مضبوط ہو رہا ہے اور چوری دن بدن بڑھتی جاری ہے۔ عدالت نے کبھی حکومتی اختیار میں مداخلت نہیں کی، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بجلی پر سبسڈی کم کر کے اسے تعلیم و صحت کے شعبوں کیلیے مختص کر دیا گیا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے ،سبسڈی واپس لینے کا مقصد لائن لاسز کم کرنا ہے۔ آن لائن کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے2006-07 میں بجلی پر 59ارب کی سبسڈی دی، اس کے بعد سبسڈی میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا گیا۔2011-12 میں 151ارب روپے اور2012-13 میں بڑھ کر 220ارب روپے ہوگئی، اب یہ 344ارب روپے ہوگئی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت مائی باپ ہوتی ہے، سوتیلی ماں نہیں۔ بجلی پر دی گئی سبسڈی واپس نہیں لی جاسکتی۔ ریاست عوام کی خادم ہے، جو رعایت دے چکی وہ واپس نہیں لے سکتی، عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمے داری ہے، سبسڈی دے کر واپس لینا عوام دوستی نہیں، ایک بلب جلانے والے کو کیا ملا؟ کئی گھروں میں بلب بھی نہیں جلتے مگر ان کی مہینے بھر کی جمع پونجی اس مد میں خرچ ہوجاتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو پیس کر رکھ دیا، مزید بوجھ ڈال کر ان کی زندگی کو مزید مشکل نہ بنایا جائے۔ عوام کیا جینا چھوڑ دیں؟ قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آجاتا ہے۔ کھاد بنانے والی کمپنیوں کے وکیل خالد انور نے بتایا کہ حکومت کھاد بنانے والی کمپنیوں کو سبسڈائزڈ ریٹ پر گیس فراہم نہیں کر رہی، گیس سی این جی سیکٹر اور بجلی بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی تشویش یہ ہے کہ کسان کو فائدہ نہیں پہنچ رہا، سماعت آج بھی ہوگی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سی این جی کے معاملے پر آج سماعت مکمل کر کے فیصلہ دے گی۔ کنڈا مافیا کو حکومت پکڑ نہیں رہی اور بجلی چوری کا سارا الزام غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، کنڈا مافیا مضبوط ہو رہا ہے اور چوری دن بدن بڑھتی جاری ہے۔ عدالت نے کبھی حکومتی اختیار میں مداخلت نہیں کی، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بجلی پر سبسڈی کم کر کے اسے تعلیم و صحت کے شعبوں کیلیے مختص کر دیا گیا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے ،سبسڈی واپس لینے کا مقصد لائن لاسز کم کرنا ہے۔ آن لائن کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے2006-07 میں بجلی پر 59ارب کی سبسڈی دی، اس کے بعد سبسڈی میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا گیا۔2011-12 میں 151ارب روپے اور2012-13 میں بڑھ کر 220ارب روپے ہوگئی، اب یہ 344ارب روپے ہوگئی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت مائی باپ ہوتی ہے، سوتیلی ماں نہیں۔ بجلی پر دی گئی سبسڈی واپس نہیں لی جاسکتی۔ ریاست عوام کی خادم ہے، جو رعایت دے چکی وہ واپس نہیں لے سکتی، عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمے داری ہے، سبسڈی دے کر واپس لینا عوام دوستی نہیں، ایک بلب جلانے والے کو کیا ملا؟ کئی گھروں میں بلب بھی نہیں جلتے مگر ان کی مہینے بھر کی جمع پونجی اس مد میں خرچ ہوجاتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو پیس کر رکھ دیا، مزید بوجھ ڈال کر ان کی زندگی کو مزید مشکل نہ بنایا جائے۔ عوام کیا جینا چھوڑ دیں؟ قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آجاتا ہے۔ کھاد بنانے والی کمپنیوں کے وکیل خالد انور نے بتایا کہ حکومت کھاد بنانے والی کمپنیوں کو سبسڈائزڈ ریٹ پر گیس فراہم نہیں کر رہی، گیس سی این جی سیکٹر اور بجلی بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی تشویش یہ ہے کہ کسان کو فائدہ نہیں پہنچ رہا، سماعت آج بھی ہوگی۔