ٹرمپ کی ثالثی کے لیے پھر پیشکش

کاش ٹرمپ عالمی امن کے لیے اورکشمیریوں کو بھارتی ظلم وجبرسے نجات دلانے کے لیے بھی کوئی نیک مشورہ دے دیتے۔

کاش ٹرمپ عالمی امن کے لیے اورکشمیریوں کو بھارتی ظلم وجبرسے نجات دلانے کے لیے بھی کوئی نیک مشورہ دے دیتے۔ فوٹو: فائل

ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائن پر وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات اور میڈیا سے مختصرگفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، ہم پاکستان کے اتنے قریب پہلے نہیں تھے جتنے اب ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ان کے دوست ہیں، دوبارہ ملاقات پر خوشی ہوئی۔

یہ قابل ذکر پیش رفت ہے کہ عالمی اقتصادی فورم کے باعث مسئلہ کشمیر پھر سے زیر بحث آیا اور سائیڈ لائن پر مختصر سی بات چیت بھی خطے کے تناؤ اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کے تناظر میں ایک مفید یاد دہانی اور تجدید تعلقات کا مفید بہانہ بن گئی۔

ملاقات میں اہم بریک تھرو متوقع بھی نہ تھی لیکن جب بڑے کہیں ملتے ہیں جہاں تقریباً تین ہزارسے زائد رہنما اور مندوبین کا عظیم اجتماع ہو تو عالمی معاملات پر تبادلہ خیال اور عالمی امن ، ترقی اور غربت وپسماندگی اور ماحولیات و موسمیات کے ایشوز لازماً مشترکہ مفادات کا عنوان ہوجاتے ہیں۔

اس حوالہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کشمیر میں جوکچھ ہورہا ہے وہ اسے دیکھ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کشمیرکی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کریں گے۔ پاکستان اور بھارت کی مسئلہ کے حل میں مدد کریں گے، ٹرمپ نے ایک بار پھرکہا کہ وہ ثالثی کو بھی تیار ہیں۔ تاہم یہ پیشکش قابل بحث ہے کہ ثالثی کے لیے کون سی اسٹرٹیجی ہونی چاہیے، اور امریکا ثالثی کے لیے نریندر مودی کو قائل کرنے کے لیے کون سی تدبیر یا فیصلہ کن اقدامات کے لیے کتنا اثر ڈالنے کے موڈ میں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالکل صائب نکتہ اٹھایا کہ پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ بھارت کے ساتھ تعلقات ہیں اورکوئی دوسرا ملک اس معاملہ میں امریکا سے بہتر کردار ادا نہیں کرسکتا ، عمران خان نے اسی امریکی کردارکی ادائیگی پر زور دینے کی کوشش کی جس کی ضرورت بھی ہے۔ عمران خان کے مطابق پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ٹرمپ سے کہا کہ امن واستحکام کے لیے پاکستان کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے ساتھ دوبارہ ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر امریکا اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کرانے کے لیے تیار ہیں، جب ان سے اس ماہ کے آخر تک متوقع دورہ بھارت کے دوران پاکستان جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں وفود بھی شریک ہوئے۔

پاکستانی وفد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاونین زلفی بخاری اور معید یوسف نے شرکت کی۔صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان یہ تیسری ملاقات تھی جس میں باہمی دلچسپی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈیووس میں وزیراعظم عمران خان سے سنگا پورکے ہم منصب ،آذربائیجان کے صدر ، ترک کمپنی کالک ہولڈنگزکے چیئرمین احمت کالک نے بھی ملاقات کی ۔کالک ہولڈنگز کمپنی توانائی، تعمیرات، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں کام کر رہی ہے۔


وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب بھی کریں گے۔ وزیراعظم دیگر عالمی اداروں کے رہنماؤں، کارپوریٹ بزنس اور ٹیکنالوجی کے ایگزیکٹوز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اس اہم عالمی اجلاس کے موقع پر مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر پاکستانی موقف پیش کریںگے جب کہ معیشت ، کاروبار اور سرمایہ کاری پر اپنا وژن دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

بلاشبہ پاکستان کو اس امر کا ادراک ہے کہ دنیا بڑے دلچسپ دورانیے سے گزر رہی ہے، صدر ٹرمپ ڈیووس میں موجود ہیں اور ادھر عالمی اقتصادی فورم کا اجلاس بھی منگل کو روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں شروع ہوا ہے، امسال ڈیووس فورم کا تھیم ''ایک مستقل اور پائیدار دنیا کے اسٹیک ہولڈرز'' ہے۔ فورم کے ایجنڈے میں سرفہرست ماحول کی تباہی ہے، ٹرمپ نے بنیادی طور پر ماحولیاتی ایشوکو اپنی ترجیحات سے دور رکھا تھا، وہ اس عالمی معاہدے کو بھی متنازع بناتے رہے ہیں ، چنانچہ اس موقع پر بھی وہ ماہرین ماحولیات پر برس پڑے اور انھیں تباہی کے پیامبر قرار دیا، امریکی صدرکا کہنا تھا کہ ماہرین ماحولیات کی پیش گوئیاں کئی دہائیوں سے غلط ثابت ہو رہی ہیں، یہ وقت خوش امیدی کا ہے نا کہ نا امیدی کا، اس وقت لوگوں کو خوابوں کی ضرورت ہے جب کہ ایک تخلیقی معیشت ایسے مسائل کو حل کر لے گی۔ انھوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بیوروکریسی کو کم کر کے امریکا میں ہونے والی معاشی ترقی کو رول ماڈل بنائیں۔

کاش ٹرمپ عالمی امن کے لیے اورکشمیریوں کو بھارتی ظلم وجبرسے نجات دلانے کے لیے بھی کوئی نیک مشورہ دے دیتے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آب وہوا میں تبدیلی کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، فورم کے اجلاس میں شریک نوبل انعام یافتہ سائنس دان جوزف سٹگلٹز نے صدر ٹرمپ کے خطاب پر تنقید کی۔ اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ کو خود اپنے ملک میں مواخذہ کا سامنا بھی ہے، ان کا ڈیموکریٹس نے ٹرائل کا بھی آغاز کیا ہے، اگرچہ ٹرمپ مواخذہ سے پریشان ہونے کا کوئی تاثر نہیں دیتے اور اس ساری کارروائی کو وہ مسخرہ بازی سے زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے مگر سیاسی مبصرین اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ امریکی سیاسی تاریخ کا ایک اور قابل ذکرمواخذہ ہے۔

ڈیموکریٹس نے دو کلیدی تبدیلیوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ ٹرائل کے ضوابط میں ان کامیابیوں کی بڑی اہمیت ہوگی۔ ٹرمپ کو اس بات کی بھی اطلاع مل چکی ہے کہ ان کے اچھے دنوں کے ساتھی اور سابق نیشنل سیکیورٹی مشیر جان بولٹن منتظر ہیں کہ مواخذہ ٹرائل میں انھیں بھی نوٹس پر بلایاجائے، تجزیہ کاروں کے مطابق جان بولٹن کو موقع دیا گیا تو وہ ٹرمپ کی حکمرانی اور ان کے اہم فیصلوں پر چونکا دینے والے انکشافات کرسکتے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات خاصی خوشگوار اور مثبت رہی۔ ادھر صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF کا سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہیے، صدر مملکت کے مطابق وزیر اعظم عمران خان عالمی اکنامک فورم میں شرکت کے موقعے پر صدر ٹرمپ سے بھی اس اندیشہ پرگفتگو کرچکے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اس اہم اجلاس کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں بھارت سے کسی بھی قسم کا گٹھ جوڑ کرسکتے ہیں۔ پاکستان نے امریکا کو اس سے خبردار کرنے کے لیے مناسب حکمت عملی کے مطابق صدر ٹرمپ کو پیشگی آگاہ کیا ہے۔

بھارت کے موقر اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں ورلڈ اکنامک فورم اجلاس میں بھارت کی فعال شمولیت کی کوئی نمایاں خبر نہیں دی تاہم اتنا ضرورکہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے عمران خان سے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا عندیہ ضرور دیا، تاہم بھارتی اخبار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ان الفاظ کو سمجھنا مشکل ثابت ہوا جس میں انھوں نے کہا working together on some borders ۔ تاہم رپورٹ میں ازخود یہ فرض کرلیا کہ ہوسکتا ہے امریکی حکام پاکستان کوکنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے اور بھارت کے خلاف انتہا پسند گروپوں کو روکنے کے لیے زور دینا چاہتے ہیں۔

بہرکیف پاکستان نے خطے میں بھارتی جارحیت کے خلاف دو ٹوک انداز میں ملکی سالمیت کے تحفظ اور بھارتی کشیدگی اور امن مخالف پالیسیوں کو یکسر مستردکردیا ہے۔ توقع ہے وزیراعظم عالمی اکنامک فورم میں خطے کے امن، پاک بھارت مذاکرات ، ماحولیات اورکشمیر کی اندوہناک صورتحال پر واضح اعلان کریں گے۔
Load Next Story