شام کی بگڑتی ہوئی صورتحال

صوبے الیپو اور ادلب میں سفارتی کوششوں کے باوجود تشدد کی وارداتوں میں کوئی کمی نہ ہو سکی

صوبے الیپو اور ادلب میں سفارتی کوششوں کے باوجود تشدد کی وارداتوں میں کوئی کمی نہ ہو سکی۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
شمال مشرقی شام میں روس کے ایک ہوائی حملے سے 23 افراد مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر میں بعض افراد کو اپنے اہل خانہ کی ہلاکت پر روتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ادھر ملک کے دگرگوں حالات کے باعث کئی شہروں میں پرتشدد ہنگامے بھی ہورہے ہیں جس کے باعث انسانیت کے بحران میں اضافہ ہو گیا ہے۔سرکاری اعلان کے مطابق باغیوں اور جہادیوں کی طرف سے راکٹ حملوں میں الیپو صوبے میں تین مزید شہری لقمہ اجل بن گئے۔

صوبے الیپو اور ادلب میں سفارتی کوششوں کے باوجود تشدد کی وارداتوں میں کوئی کمی نہ ہو سکی اور دو ہفتوں سے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں میں کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ اطلاعات کے مطابق ادلب اور الیپو کے بیشتر علاقوں پر بشار الاسد حکومت کی مخالف قوتوں کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ ان مخالفین میں القاعدہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ البتہ شام کے 70 فیصد علاقے پر اب بھی بشار حکومت کا کنٹرول ہے جب کہ بدقسمت ملک میں گزشتہ 9 سال سے خانہ جنگی بدستور جاری ہے۔


ادلب میں کم از کم 30 لاکھ لوگ موجود ہیں جو ملک کے مختلف علاقوں میں حالات بگڑنے پر ہجرت کر کے وہاں پہنچے ہیں، ان سب مہاجر لوگوں کو فوری طور پر انسانی ضروریات کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔

منگل کو روز حکومت کی حمایت میں روسی ایئرفورس کے طیاروں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری کی جس میں کئی افراد مارے گئے ۔ یہ اطلاعات بھی ہیںکہ روس کے فضائی حملے میں سویلین افراد بھی مارے گئے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یہ انکشاف برطانیہ میں موجود مانیٹرنگ گروپ نے کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین یوم کی مسلسل بمباری سے اس علاقے میں بھاری جانی نقصانات ہوئے ہیں۔ ان ہوائی حملوں کے ذریعے باغیوں کو الیپو سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں روس کی طرف سے شام کے اس علاقے میں فائربندی کی کوشش کی گئی جس میں اب تک کوئی کامیابی نہیں ہو سکی بلکہ الٹا تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ روس کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ انھوں نے فائر بندی کے معاہدے کے بعد شام پر کوئی تازہ حملہ نہیں کیا، یہ امر قابل ذکر ہے کہ شام کے اطراف میں ہزاروں کی تعداد میں روسی فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں جن کا مقصد شامی سرکاری فوج کی مدد کرنا بتایا گیا ہے۔

روس کی شام میں فوجی مداخلت 2015ء میں شروع ہوئی تھی جب صدر بشار کے خلاف باغیوں کی سرگرمیاں تیز ہوئیں۔ روس نے بشار حکومت کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کہا جارہا ہے کہ ہوائی حملوں کے آخر میں روسی فوج مغربی الیپو کے صوبے میں داخل ہو جائے گی۔ بشار حکومت اور اس کے حامی ان علاقوں پر اپنا قبضہ قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں اورروس ان کی مدد کررہا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق حالیہ بدامنی کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، شام سے بے دخل ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔
Load Next Story