معاشی و سماجی بریک تھرو اور WEF

عمران خان کا یہ کہنا صائب ہے کہا کہ پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

عمران خان کا یہ کہنا صائب ہے کہا کہ پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان صرف امن کا شراکت دار ہے، ہم کبھی بھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، امن واستحکام کے بغیر پاکستان کی معیشت ترقی نہیں کرسکتی، پاکستان امریکا ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ کے لیے ذمے دارانہ اور ہمسایہ ملک افغانستان میں قیام امن میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایران، امریکا جنگ نہیں ہونی چاہیے، اس سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچے گا اور وہ خطے سمیت پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگی، جنگ شروع کرنا آسان، ختم کرنا مشکل ہے، امن و استحکام کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔

ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا جب میں حکومت میں آیا تو یہ طے کیا کہ ہم کسی جنگ کا نہیں بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہوں گے۔ حکومت میں آنے کے بعد معاشی لحاظ سے سخت فیصلے کرنے پڑے، سخت فیصلوں کی وجہ سے ہمیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ورلڈ اکنامک فورم کے ذریعے وزیراعظم کا خطاب دنیا کے لیے ایک بسیط پیغام تھا، انھوں نے خطے کی صورت حال،امن کے امکانات،اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے اقدامات اور اپنے انقلابی پروگرام کی چیدہ چیدہ باتوں سے دنیاکے معاشی ماہرین کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ روپے کی قدر میں بھی استحکام آ رہا ہے، ہم ملک میں سرمایہ کاری لا رہے ہیں تا کہ روزگارکے مواقعے پیدا کیے جائیں۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے کثیر سرمایہ لگا رہے ہیں۔

تاہم وزیراعظم کا اصل اپنے ملک کو ایک مستحکم معاشی نظام دینے کے لیے کیے گئے وعدؤں کا پاس کرنا ہوگا، حکومت کے سوا ڈیڑھ سال کے موجودہ ٹریک ریکارڈ کو اعلانات اور اخباری بیانات کے تسلسل کے حوالے سے زمینی حقائق سے مکمل ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم نے نظری ، تزویراتی اور اقتصادی تبدیلیوں کے سیاق سباق میں ایک سیر حاصل گفتگو کی ہے لیکن داخلی صورت حال جس تیزی سے تنزلی کا شکار ہوئی ہے اور زندگی کے مختلف شعبے جس ہولناک طریقے سے افراتفری ، بے سمتی، غلط فیصلوں اور غیر حقیقت پسندانہ اقدامات اور کارروائیوں کے باعث سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

وزیراعظم نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیا ہے مگر شبر زیدی اور ڈاکٹر شاہد حسن نے سسٹم میں انحطاط اور اداروں کی کمزوری کا شکوہ کیا ہے، اسی طرح اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ چشم کشا ہے جس میںانکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت سمیت 70 فیصد آبادی والے ممالک میں معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، عدم مساوات پر قابو نہ پایا گیا تو ترقی کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔

ان کے ازالے کے لیے وزیراعظم کو اپنی حکومت کی گرتی ہوئی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمہ جہتی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا، خارجی امور ، خطے کی صورتحال، پاکستان کے عالمی سطح پر امیج میں بہتری اور امریکا ، پاکستان تعلقات میں پیش رفت نمایاں کامیابی ہے، بھارت سے مذاکرات اور بہتر تعلقات کے لیے امید افزا اقدامات کے ضمن میں ٹرمپ سے مثبت توقعات کلیدی سفارتی پیش قدمی سے مربوط ہیں مگر بنیادی اہداف کی تکمیل ناگزیر ہے، ملک میں مفاہمت کے آثار خوش آیند ہیں، الیکشن کمیشن فعال ہوچکا، اداروں میں ہم آہنگی اور ورکنگ ریلیشن شپ کا احیا، اہمیت کے حامل اقدامات ہیں، حکومت نے اپوزیشن سے افہام وتفہیم کا مناسب اور بر وقت فیصلہ کیا ہے ،لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے ورلڈ اکنامک فورم سے حاصل ہونے والی سیاسی، سفارتی اور معاشی اخلاقی حمایت اور ملکی سیاسی ، سماجی اور معاشی بریک تھرو پر نظر رکھنا ہوگی۔


عمران خان کا یہ کہنا صائب ہے کہا کہ پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم نے پاکستان میں10ارب پودے لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ ہم امریکا اور ایران میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، پاکستان میں طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمہ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور یکساں نصاب وضع کر رہے ہیں، تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ افغان بحران کا کوئی فوجی حل نہیں، اسے صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ طالبان اور افغان حکومت مذاکرات شروع کرے، افغانستان میں قیام امن کا یہی واحد راستہ ہے۔

پاکستان اسٹرٹیجی ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا جن وجوہ سے ملک تباہ ہوا اس ماضی کی طرف نہیں جائیں گے، اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آ کر سب سے زیادہ توجہ معیشت پر دی، افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان میں کلاشنکوف، منشیات کا کلچر آیا، پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں70ہزار جانوں کی قربانی دی۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کے ساتھ مل کرکام کر رہے ہیں، افغانستان میں جنگ بندی سے پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک اقتصادی راہداری کا دروازہ کھل جائے گا۔کوشش ہے سعودی عرب اورایران میں تعلقات بہترہوں۔ ہم نے ایران، سعودی عرب محاذ آرائی روکنے کی کوشش کی اور افغانستان ، ایران اور سعودی عرب سے کہا کہ جنگ خطے کے امن کے مفاد میں نہیں۔ وزیراعظم نے عالمی فورم کا بتایا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے ملکی معیشت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں کے روزگارکے لیے غیرملکی سرمایہ کاری لائیں گے۔

عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر انٹرنیشنل میڈیا کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا پاکستان اور بھارت میں فوری جنگ کا خطرہ نہیں، بھارت پلوامہ طرز کا حملہ کرکے پاکستان کو ذمے دار ٹھہرا سکتا ہے، بھارت کے ساتھ تمام تنازعات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں ۔بھارت کے اندر شہریت کے قانون سے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں، کنٹرول لائن پر کشیدگی کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، امریکا اور اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے، اقوام متحدہ کنٹرول لائن پر مبصرین بھیجے۔

وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم (WEF)میں سابقہ حکومتوں پرشدید تنقید کی، انھوں نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے ذاتی مفاد کے لیے اداروں کو تباہ کیا، انھوں نے ملک سے باہر قومی دولت لے جانے کے لیے ادارے کمزور کیے، بڑے بڑے منصوبوں میں حکمرانوں نے کمیشن لیا، ماضی میں ملکی معیشت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا گیا۔ اس وقت سول اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے، ماضی کے حکمرانوں کے پیسہ بنانے سے سول اور عسکری قیادت میں اختلافات ہوئے، حکومت کو عسکری سمیت تمام اداروں کو حمایت حاصل ہے۔ حکومت اور فوج کے درمیان مکمل تعاون اور ایک دوسرے پر اعتماد ہے جب کہ ماضی میں حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے مابین کشیدگی کی وجہ لیڈر شپ کی کرپشن تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میری داخلی اور خارجہ پالیسی کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ میں نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کی مخالفت کی، میرے موقف کی وجہ سے مجھے طالبان کا حامی کہا گیا، امریکا کو بھی آخر کار امن مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ماضی کی حکومتوں نے امریکا سے وعدے کر کے غلطی کی، امریکا کو افغانستان میں ناکامی ہوئی تو اس نے پاکستان کو ذمے دار ٹھہرایا، امریکا اور پاکستان کے تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں، اب امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔

ڈیووس میں عمران خان سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نومنتخب صدر ماسا تسوگو اساکاوا نے ملاقات کی۔ ضرورت اب اس امر کی ہے حکومت ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاسوں کو ایک بینچ مارک کے طور پر اپنے آیندہ کے اقتصادی اورسماجی اقدمات کی نتیجہ خیزی سے مشروط و مربوط کرے، کیونکہ ایک مستحکم معیشت آٹے،چینی، اور دیگر اجناس اور اشیائے خورونوش کی قلت یا بحران کی ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی ایسی بحرانی کیفیات کا ملکی اقتصادیات کے حوالہ سے دنیا کو غلط پیغام جاسکتا ہے۔
Load Next Story