یونان میں پہلی خاتون صدر کا انتخاب
63 سالہ مس کاٹیرینا ساکیلاروپولو ملک کی سینئر جج رہی ہیں تاہم ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
63 سالہ مس کاٹیرینا ساکیلاروپولو ملک کی سینئر جج رہی ہیں تاہم ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فوٹو : فائل
یونان کی پارلیمنٹ نے گزشتہ روز ملک کی تاریخ کی اولین خاتون صدر کو منتخب کر لیا۔ 63 سالہ مس کاٹیرینا ساکیلاروپولو ملک کی سینئر جج رہی ہیں تاہم ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں 294 اراکین پارلیمنٹ نے مس کاٹیرینا ساکیلاروپولو کے حق میں ووٹ دیا۔ پارلیمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ری پبلکن کی خاتون صدر کا انتخاب ملک کا تاریخی فیصلہ ہے اور مملکت کے لیے یہ نہایت ہی اہم دن ہے۔
یورپی یونین کمیشن کی صدرنے یونان کی نو منتخب خاتون صدر کو مبارکباد دی۔ اپنے انتخاب کے بعد نو منتخب صدر نے ایک مختصر پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی ترجیحات پر روشنی ڈالی اور کہا ملک کے اقتصادی بحران کے حل کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بھاری تعداد میں ہجرت کرنے والوں کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن اس کے لیے یونان کو بین الاقوامی امداد و حمایت درکار ہو گی۔ نومنتخب یونانی صدر سپریم کورٹ کے جج کی صاحبزادی ہیں جب کہ وہ خود بھی یونان کی انتظامی عدالت کی سربراہ رہی ہیں۔
نئی صدر 13مارچ کو ملک کی صدارت کا حلف اٹھائیں گی۔ نئی خاتون صدر نے پیرس کی سوبورن یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ایک ماہر قانون کی حیثیت سے ماحولیاتی معاملات اور آئینی قوانین پر ان کو خصوصی مہارت حاصل ہے۔
صدر یونانی ریاست کے سربراہ ہونے کے ساتھ ملک کے کمانڈر اِن چیف کا عہدہ بھی ان کے پاس ہوتا ہے۔ یونانی صدور حکومتوں کی تصدیق کرتے ہیں، قوانین کی توثیق بھی ان کی ذمے داری ہوتی ہے نیز جنگ کا اعلان کرنا بھی انھی کا اختیار ہوتا ہے لیکن اس کے لیے انھیں حکومت کے ساتھ مفاہمت کرنا پڑتی ہے۔
اپوزیشن پارٹیوں نے بھی نومنتخب صدر کی حمایت کی ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں ملک کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بھرپور مینڈیٹ ملا ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی خاتون صدر کو کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہ رکھنے کی بنیاد پر زیادہ تعداد میں حمایت حاصل ہوئی ہے۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں 294 اراکین پارلیمنٹ نے مس کاٹیرینا ساکیلاروپولو کے حق میں ووٹ دیا۔ پارلیمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ری پبلکن کی خاتون صدر کا انتخاب ملک کا تاریخی فیصلہ ہے اور مملکت کے لیے یہ نہایت ہی اہم دن ہے۔
یورپی یونین کمیشن کی صدرنے یونان کی نو منتخب خاتون صدر کو مبارکباد دی۔ اپنے انتخاب کے بعد نو منتخب صدر نے ایک مختصر پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی ترجیحات پر روشنی ڈالی اور کہا ملک کے اقتصادی بحران کے حل کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بھاری تعداد میں ہجرت کرنے والوں کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن اس کے لیے یونان کو بین الاقوامی امداد و حمایت درکار ہو گی۔ نومنتخب یونانی صدر سپریم کورٹ کے جج کی صاحبزادی ہیں جب کہ وہ خود بھی یونان کی انتظامی عدالت کی سربراہ رہی ہیں۔
نئی صدر 13مارچ کو ملک کی صدارت کا حلف اٹھائیں گی۔ نئی خاتون صدر نے پیرس کی سوبورن یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ایک ماہر قانون کی حیثیت سے ماحولیاتی معاملات اور آئینی قوانین پر ان کو خصوصی مہارت حاصل ہے۔
صدر یونانی ریاست کے سربراہ ہونے کے ساتھ ملک کے کمانڈر اِن چیف کا عہدہ بھی ان کے پاس ہوتا ہے۔ یونانی صدور حکومتوں کی تصدیق کرتے ہیں، قوانین کی توثیق بھی ان کی ذمے داری ہوتی ہے نیز جنگ کا اعلان کرنا بھی انھی کا اختیار ہوتا ہے لیکن اس کے لیے انھیں حکومت کے ساتھ مفاہمت کرنا پڑتی ہے۔
اپوزیشن پارٹیوں نے بھی نومنتخب صدر کی حمایت کی ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں ملک کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بھرپور مینڈیٹ ملا ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی خاتون صدر کو کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہ رکھنے کی بنیاد پر زیادہ تعداد میں حمایت حاصل ہوئی ہے۔