یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے

میری ڈاک میں ایک ایسا خط بھی پڑا ہے جس میں نہایت ہی مستند معلومات کے ساتھ ملک کے مستقبل کی معاشیات کی بربادی کے...

Abdulqhasan@hotmail.com

KARACHI:
میری ڈاک میں ایک ایسا خط بھی پڑا ہے جس میں نہایت ہی مستند معلومات کے ساتھ ملک کے مستقبل کی معاشیات کی بربادی کے سامان اور اثاثوں کی فروخت کی نشاندہی کی گئی ہے آج وہ خط چھاپنا تھا لیکن بیچ میں ایک غیر ضروری اور خواہ مخواہ کا قومی نوعیت اختیار کر جانے والا مسئلہ سامنے آ گیا ہے اس کا ذکر ملک بھر میں ہو رہا ہے میں بھی اس میں حصہ لے رہا ہوں جو اگرچہ ناقابل ذکر ہے لیکن اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے ضروری ہے۔ خطرناک حد تک زوال پذیر قوموں میں ایسے مسئلے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کیے جاتے ہیں کیونکہ قومی رہنمائوں کے ذہن بھی بڑی حد تک مائوف ہو جاتے ہیں۔ صدیاں گزریں کہ اسلامی قانون یعنی فقہ کی تشکیل کی گئی اور اس میں ہمارے بے مثل علماء نے حصہ لیا۔ تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ چار فقہی مکتب سامنے آئے، حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی یعنی امام ابو حنفیہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل۔ اس وقت اور اس کے بعد بھی ان چاروں مکاتیب فقہ کو تسلیم کیا گیا۔ ان ائمہ کرام تک عہد نبوی کی جو روایات پہنچیں ان کا جائزہ لے کر ان کی چھان پھٹک کر کے ان ائمہ نے اپنی اپنی رائے قائم کی اور مختلف دینی مسائل کے بارے میں اپنے اپنے فیصلے دیے۔

آج کی اسلامی دنیا میں یہی چار فقہی مسلک رائج ہیں۔ ان سب کے پیچھے مسلمانوں کی نیت کا خلوص اور ان کے عمل کی صداقت کارفرما ہے اور یہ سب مکاتب برابر کے اسلامی ہیں اور رائج چلے آ رہے ہیں۔ لیکن کوئی چودہ سو برس بعد نیا اجتہاد سامنے آ رہا ہے اور نئی فقہیں تشکیل پارہی ہیں چلیے شکر ہے کہ مسلمانوں کی سوچ اور فکر میں جمود نہیں ہے اور وہ تروتازہ ہے، اتنی کہ کسی کے خدا کی راہ میں جان دینے والے کو شہید یا صرف متوفی قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا جا رہا ہے حتی کہ کتے جیسے نجس جانور کو بھی 'شہادت' کا مرتبہ دیا جا رہا ہے۔ یوں غور کریں تو فقہ منوریہ' فقہ فضلیہ فقہ شریفہ اور فقہ فوجیہ کے چار نئے فقہی مکتب فکر سامنے آرہے ہیں اور فروغ پا رہے ہیں، ان میں اختلاف گو پرانا سلسلہ ہے اور اسی معمولی اختلاف نے شروع میں چار فقہیں بھی تشکیل کیں لیکن اب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان میں نئے جرات مندانہ اضافے ہو رہے ہیں۔ ملک اسلامی علوم و فنون کے فروغ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے وجود میں آیا تھا چنانچہ آج یہ ملک اپنا اساسی فرض ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ چودہ سو برسوں میں کیا نہیں ہوا اور امام ابن تیمیہ جیسے کتنے نامور عالم دین پیدا نہیں ہوئے جن کے فتوے تسلیم کیے گئے لیکن اس سے قبل کسی نے اپنی اپنی فقہ اور آراء پر مبنی کوئی نئی فقہ رائج نہیں کی بلکہ پہلے سے موجود کسی نہ کسی فقہ کی پیروی کی۔ مگر اب میڈیا کا دور بھی ہے اور ہمارا میڈیا بھی بڑے انقلابی کارنامے سر انجام دے رہا ہے۔ ان نئے فقہی مکاتیب میں اس کا بھی حصہ ہے جس کا اجر اسے ابھی سے اسی دنیا میں مل رہا ہے۔


اگلے دن میں کہیں پڑھ رہا تھا اور یہ بھی الیکٹرانک میڈیا کی مہربانی تھی کہ حضرت خالد بن ولیدؓ جب بستر مرگ پر تھے تو ایک دن بڑی حسرت سے فرمانے لگے کہ بدن زخموں سے بھرا ہوا ہے اور سو سے زیادہ جنگی معرکوں میں شریک رہا ہوں مگر خدا کو میری شہادت منظور نہ تھی اور یہ سپاہی اب بستر پر پڑا جان دے رہا ہے۔ اللہ کی تلوار کا مصطفوی لقب پانے والے کیا شہید تھے یا نہیں کسی نئی فقہہ کے مطابق اس پر غور ہو سکتا ہے اور کیوں نہیں جب چودہ سو برس سے متفق علیہ فتوے پر شک ہو سکتا ہے کہ کوئی پاکستانی فوجی شہید ہے یا نہیں تو خالد بن ولید کی وفات بھی زیر بحث آ سکتی ہے جس کا نام ہی کسی جنگ میں فتح کی ضمانت بن گیا تھا اور ان کی معزولی کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ جماعت اسلامی میں مولانا مودودی کے برابر کے دوسرے مرتبے کے عالم مولانا امین احسن اصلاحی کی زبان سے میں نے خود سنا تھا کہ جس نے فوجی وردی پہنی ہو اور اس کے کندھے پر فوج کے نشان لگے ہوں اس کی موت حتمی طور پر شہادت ہے۔فوجی نظم و ضبط اور حکم کا تابع ہمارا سپاہی اپنے کمانڈر کے حکم پر موت سے لڑ جاتا ہے کیا وہ یہ پوچھ سکتا ہے کہ اس کی فوج کے سربراہ امریکا کی امداد کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں یا ملک کے دفاع کے لیے۔

ہمارے آپ جیسے عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ ہماری کیا کمزوریاں ہیں اور کون اپنے کسی مقصد کے تحت ہماری مدد کر رہا ہے۔ روسی افغانستان کے راستے پاکستان پر چڑھ دوڑنے والے تھے کہ ہم نے اس سپر پاور کے مقابلے کے لیے امریکی مدد کی درخواست کی اور امریکی اسٹنگر میزائل نے اور ہمارے سپاہی نے مل کر یہ جنگ نہ صرف جیت لی بلکہ سوویت یونین کو ہی نابود کر دیا۔ دل کے بہلانے کو اب کہا جاتا ہے کہ مارکس اور لینن کا کمیونزم تو زندہ ہے جو عملی زندگی میں صرف نصف صدی سے کچھ زائد عرصہ تک زمین پر نافذ رہا اور پھر اسی زمین میں دفن ہو گیا۔ کیا افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے پاکستانی شہید نہیں تھے اور ظاہر ہے کہ آج کی فقہ منوریہ کے مطابق شہید نہیں تھے کیونکہ وہ امریکی مفادکی جنگ میں شریک تھے۔ خدا کے لیے اتنے بڑے اور غیر حقیقت پسندانہ فیصلے نہ کریں جن کو آپ سنبھال نہ سکیں اور جو آپ کے گلے پڑ جائیں۔

جماعت اسلامی کھیل کے کسی میدان کا نام نہیں یہ ایک عالمی تحریک ہے اور پوری اسلامی دنیا میں اس کے اثرات زندہ ہیں جو لوگ قومی اسمبلی کی ایک ممبری پر بک جائیں ان کے لیے تو جماعت کا نام لینا بھی جائز نہیں ہے۔ فوج نے بھی اس موقع پر جو کہا شاید وہ بھی مناسب نہیں تھا۔ مارشل لاء لگانا اور بات ہے اور روز مرہ کی سیاست میں براہ راست مداخلت دوسری بات ہے۔ پاکستان کی راہ میں جان دینے والے کسی سپاہی کو کسی آئی ایس پی آر کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے اور وزیراعظم کو تو حد سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ اس سے بڑا اور کوئی نہیں۔ بہر کیف بات جتنی بھی بڑھائیں بڑھ سکتی ہے اب قومی سطح پر بحث کی جا رہی ہے ہر پہلو واضح ہو رہا ہے۔ کیا ہم ان دنوں ایک بار پھر بھارت کے ایوانوں پر گھی سے جلنے والے چراغوں کو گھی کی سپلائی جاری رکھیں گے۔
Load Next Story