اسد اشرف ملک کی تقرریدرخواست پرجواب داخل نہ ہوسکا
عدالت کی آئینی درخواست پر حکومت کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی
عدالت کی آئینی درخواست پر حکومت کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اسد اشرف ملک کی محتسب اعلیٰ سندھ کی حیثیت سے دوبارہ تقرری کے خلاف آئینی درخواست پر حکومت سندھ کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتے میں جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ،
درخواست گزار نے عدالت میں ایک متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ اسد اشرف ملک نے میڈیکل بلوں کی مد میں 35لاکھ روپے وصول کیے ہیں ، اس کے علاوہ انھوں نے گورنر سندھ کی منظوری سے 4سال کا ایڈوانس ہائوس رینٹ وصول کیا جوکہ فنانس رولز سے مطابقت نہیں رکھتا،
پیر کو سرکاری وکیل نے ایک بار پھر جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی تو فاضل بینچ نے آبزرو کیا کہ جواب داخل کرنے کے لیے پہلے بھی متعدد بار مہلت طلب کی جاچکی ہے لیکن جواب داخل نہیں کیا جارہا ،اسد اشرف ملک کی محتسب اعلیٰ سندھ کی حیثیت سے دوبارہ تقرری کے خلاف یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری رانا فیض الحسن نے درخواست دائر کی ہے۔
جس میں موقف اختیارکیا گیاہے کہ گورنر سندھ نے صوبائی محتسب اعلیٰ اسد اشرف ملک کو اپنی مقرر کردہ مدت پوری ہونے کے بعد اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مزید 4سال کی مدت کیلیے فائز کردیا جو کہ سندھ ایکٹ نمبر (1)1992کے آرٹیکل 4سے متصادم ہے، آرٹیکل 4 کے تحت اس عہدے کی مدت 4سال مقرر کی گئی ہے اور دوبارہ اس مدت میں اضافے کا حق نہیں اس لیے انھیں فوری طور پر کام سے روکا جائے، درخواست گزار کے مطابق اسد اشرف ملک صوبائی محتسب اعلیٰ کے عہدے پرفائز ہونے کے اہل نہیں، وہ سی سی پی او کراچی اورچیئرمین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے عہدوں پر فائز رہنے کے بعد سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر صوبائی محتسب اعلی کی حیثیت سے تعینات کیے گئے، یہ انصاف کا قتل اور دستور پاکستان کے آرٹیکل 2,2Aاور 25سے متصادم ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ محتسب اعلیٰ کا منصب ایک ایسے شخص کا متقاضی ہے جو کہ قانون اور انصاف کے تقاضوں پر پورا اترے نہ کہ سیاسی بنیادوں پر ایسے افراد کی تقرری کی جائے جن کا ماضی داغدار اور متنازع ہو۔
درخواست گزار نے عدالت میں ایک متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ اسد اشرف ملک نے میڈیکل بلوں کی مد میں 35لاکھ روپے وصول کیے ہیں ، اس کے علاوہ انھوں نے گورنر سندھ کی منظوری سے 4سال کا ایڈوانس ہائوس رینٹ وصول کیا جوکہ فنانس رولز سے مطابقت نہیں رکھتا،
پیر کو سرکاری وکیل نے ایک بار پھر جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی تو فاضل بینچ نے آبزرو کیا کہ جواب داخل کرنے کے لیے پہلے بھی متعدد بار مہلت طلب کی جاچکی ہے لیکن جواب داخل نہیں کیا جارہا ،اسد اشرف ملک کی محتسب اعلیٰ سندھ کی حیثیت سے دوبارہ تقرری کے خلاف یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری رانا فیض الحسن نے درخواست دائر کی ہے۔
جس میں موقف اختیارکیا گیاہے کہ گورنر سندھ نے صوبائی محتسب اعلیٰ اسد اشرف ملک کو اپنی مقرر کردہ مدت پوری ہونے کے بعد اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مزید 4سال کی مدت کیلیے فائز کردیا جو کہ سندھ ایکٹ نمبر (1)1992کے آرٹیکل 4سے متصادم ہے، آرٹیکل 4 کے تحت اس عہدے کی مدت 4سال مقرر کی گئی ہے اور دوبارہ اس مدت میں اضافے کا حق نہیں اس لیے انھیں فوری طور پر کام سے روکا جائے، درخواست گزار کے مطابق اسد اشرف ملک صوبائی محتسب اعلیٰ کے عہدے پرفائز ہونے کے اہل نہیں، وہ سی سی پی او کراچی اورچیئرمین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے عہدوں پر فائز رہنے کے بعد سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر صوبائی محتسب اعلی کی حیثیت سے تعینات کیے گئے، یہ انصاف کا قتل اور دستور پاکستان کے آرٹیکل 2,2Aاور 25سے متصادم ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ محتسب اعلیٰ کا منصب ایک ایسے شخص کا متقاضی ہے جو کہ قانون اور انصاف کے تقاضوں پر پورا اترے نہ کہ سیاسی بنیادوں پر ایسے افراد کی تقرری کی جائے جن کا ماضی داغدار اور متنازع ہو۔