سرکاری کالجوں میں پوزیشن نہ آنے کا سخت نوٹس لے لیا گیا

معاملے کی تحقیقات کے لیے کالج پرنسپلز پر مشتمل 7رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم

معاملے کی تحقیقات کے لیے کالج پرنسپلز پر مشتمل 7رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم۔ فوٹو فائل

صوبائی محکمہ تعلیم نے انٹرپری میڈیکل کے امتحانی نتائج میں پہلی بار سرکاری کالجوں میں پوزیشن نہ آنے کے معاملے کا سخت نوٹس لے لیااور اس معاملے کی تحقیقات کیلیے کالج پرنسپلز پر مشتمل 7رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کراچی کے بعض بڑے سرکاری کالجوں کے پرنسپلزکی جانب سے انٹرپری میڈیکل کے نتائج پر عدم اعتماد کے تحریری اظہار کے بعد قائم کی گئی ہے، اس سلسلے میں بڑے سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کا اجلاس بھی ڈائریکٹرجنرل کالجزسندھ پروفیسر ڈاکٹر ناصرانصاری کی سربراہی میں ہواجس میں گورنمنٹ نیشنل کالج،آدم جی سائنس کالج، ڈی جے سائنس کالج، پی ای سی ایچ ایس کالج،سینٹ لارنس کالج، خورشیدگرلزکالج اورملیرکینٹ کالج کے پرنسپل نے شرکت کی۔


اجلاس کے دوران متعدد پرنسپلزکی جانب سے انٹرپری میڈیکل کے نتائج میں سرکاری کالجوں کو پوزیشن کی دوڑ سے باہر رکھنے کے معاملے پرسخت تحفظات کااظہارکیا اور مطالبہ کیاگیاکہ صوبائی محکمہ تعلیم اس معاملے کی تحقیقات کرائے اور کالجوں کے پرنسپلزکی موجودگی میں امتحانی کاپیوںکی اسکروٹنی کرائی جائے، ان مطالبات کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل کالجزپروفیسر ڈاکٹر ناصرانصاری کی جانب نوٹیفکیشن جاری کیاگیا ہے۔

جس کے تحت کالجز پرنسپلز پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کے کنوینر گورنمنٹ نیشنل کالج کے پرنسپل پروفیسروسیم عادل کو بنایاگیا ہے جبکہ مذکورہ کالجوںکے پرنسپلز بھی اس کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
Load Next Story