لاپتہ نوجوان کیس میں خفیہ اداروںجی ایچ کیو سے رپورٹ طلب

وضاحت کی جائے کس قانون کے تحت غیرقانونی حراست میں رکھاگیا؟عدالت کااستفسار

سپریم کورٹ کا 2 لڑکیاں بازیاب کرانے کا حکم، پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری دفاع کونوٹس۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے مردان سے لاپتہ یاسین شاہ کے بارے میں رپورٹ مستردکرتے ہوئے وزارت دفاع کوہدایت کی کہ ملک کے کسی بھی حراستی مرکزمیں ان کی موجودگی یاعدم موجودگی کی رپورٹ دی جائے۔

عدالت نے پاکپتن سے اغوالڑکی رضیہ کی بازیابی کیلیے پولیس کو3ہفتے جبکہ کرک کی مغوی لڑکی محمودہ کی بازیابی اورملزمان کی گرفتاری کیلیے 2ہفتے کی مہلت دیدی۔ چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے سماعت کی۔




آن لائن کے مطابق عدالت نے لاپتہ نوجوان کی بازیابی کیلیے ڈی جی ایم آئی، آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو سے24گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔پشاور ہائیکورٹ نے25 لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز اور آئی جی خیبرپختونخوا کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ ان افرادکوکس قانون کے تحت سالوں سے غیرقانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس دوست محمدخان نے اگلی سماعت پرانھیں پیش کرنے کاحکم دیاہے۔
Load Next Story