یوم عاشور کا پیغام
آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان یوم عاشور کو عقیدت و احترام اور غم و سوگ کی فضا میں منا رہے ہیں...
8 محرم الحرام کا مرکزی جلوس ابوالحسن اسکائوٹس کی قیادت میں ایم اے جناح روڈ سے گزررہا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس
آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان یوم عاشور کو عقیدت و احترام اور غم و سوگ کی فضا میں منا رہے ہیں۔ واقعہ کربلا انسانی تاریخ میں قربانی کی وہ عظیم الشان مثال ہے جب حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں نے اسلام کی سربلندی کی خاطر یزیدی قوتوں سے ٹکراتے ہوئے حق کی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اورآج کے دن دنیا بھر کے مسلمان کربلا کے تپتے صحرا میں باطل کے آگے سر نہ جھکانے والوں کی یاد میں مجالس عزا برپا کر کے انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ امام عالی مقامؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کی جرات و شجاعت کی مثال ظلم کے سامنے ڈٹ جانے والے مسلمانوں کے حوصلے ہمیشہ بلند کرتی رہے گی۔ یہ آئین فطرت ہے کہ حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے والے مظلوم مسلمان طاقتور ظالم کے ہاتھوں شہادت کا جام نوش کرنے کے باوجود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں اور ان کی لازوال قربانیاں آنے والوں کے لیے تاریکی کی راہ میں مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں۔
سانحہ کربلا جہاں آج مسلمانوں کو دلگیر کرتا ہے وہاں ظلم کے خلاف جرات و ہمت کا مظاہرہ کرنے کا درس بھی دیتا ہے۔ محرم الحرام کے ابتدائی عشرے میں پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں سید الشہداء کی یاد میں مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں جہاں ان کی حق کی راہ میں دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں دہشت گردی کا خوف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آج کا مقدس دن پورے امت مسلمہ سے اس امر کا متقاضی ہے کہ ظلم اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکجا ہو کر کوششیں کی جائیں اور اس کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے۔حکومت نے دہشت گردی کے کسی ممکنہ سانحہ سے بچنے اور مجالس عزا کے پرامن اور پر سکون ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کر رکھے ہیں۔کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے صوبہ سندھ اور پنجاب میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے اور متعدد شہروں میں موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔تمام تر سیکیورٹی انتظامات کے باوجود کراچی میں دہشت گردوں نے دو امام بارگاہوں کے قریب تین دھماکے کر دیے جس سے پولیس اہلکاروں،صحافیوں سمیت بائیس افراد زخمی ہو گئے۔
چند روز قبل گوجرانوالہ میں دو امام بار گاہوں میں ہونے والا سانحہ اس امر کی وارننگ تھی کہ دہشت گرد سرگرم ہیں اور کسی بھی وقت اپنی مذموم کارروائی کر کے خوف و ہراس پھیلا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال 8 محرم الحرام کو ملک کے آٹھ مختلف مقامات پر امام بار گاہوں اور تعزیہ کے جلسوں میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں پچاس کے قریب بے گناہ افراد شہید ہوگئے اور اتنے ہی زخمی ہو گئے تھے' اس سانحے کے بعد سیکیورٹی ادارے چوکنا ہو گئے اور حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے مگر اس سب کے باوجود 9 محرم الحرام کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ماتمی جلوس میں خود کش دھماکے کے باعث سات افراد جاں بحق اور درجن کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔ محرم الحرام میں کسی ممکنہ دہشت گردی کے واقعے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ادارے اپنی جانب سے بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر دہشت گردی کا عفریت اس قدر پھیل چکا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔
وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے تھا کہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی اور مخدوش صورتحال کے باعث اتحاد بین المسلمین اور بھائی چارے کی فضا ہموار کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی خدمات حاصل کرتی اور انھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے مذہبی رواداری کو فروغ دیتی۔ تمام علمائے کرام پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں انتشار کے خاتمے اور دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد کی فضا پیدا کریں تاکہ تمام مسلمانوں میں بلا تفریق مسلک و فرقہ تحفظ کا احساس پیدا ہو جو ملک و قوم کی سالمیت اور ترقی و خوشحالی کے لیے بنیادی اساس ہے۔ امن و امان کی زبوں حالت کے باعث فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پہلے کی بہ نسبت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عاشورہ محرم کو پوری دنیا کے سامنے مذہبی یک جہتی اور رواداری کے لیے بطور مثال پیش کیا جانا چاہیے۔ تمام علمائے کرام وقت کی نزاکت و اہمیت کا پوری طرح ادراک کرتے ہوئے اپنے تمام مسلکی اختلافات' فرقہ وارانہ جھگڑوں اور تنازعات کو بالائے طاق رکھ کر مکمل اتحاد و یک جہتی کو فروغ دیں اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو مسلمانوں میں فرقہ وارانہ اختلافات کو جنم دینے کے لیے سرگرم ہیں۔
علمائے کرام ہی وہ قوت ہیں جو انتشار اور افتراق کا شکار امہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر سکتے ہیں۔ یہ امام عالی مقامؓ کی قربانی ہی کا فیض ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے اپنے اوپر مسلط آمرانہ حکومتوں کے خاتمے اور اسلامی اصولوں کے مطابق منتخب حکومتوں کے قیام کے لیے قربانیاں دیں۔ آج دہشت گرد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کھلم کھلا اپنے ناپاک عزائم کا اظہارکر رہے ہیں۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں پر لازم آتا ہے کہ وہ ایسے موقع پر دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کریں اور کوئی ایسا بیان جاری نہ کریں جسے سے قوم میں مزید تقسیم کا عمل جنم لے اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور انتشار کی خلیج روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جائے۔
اگر حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر ذاتی نظریات کی ترویج کی بنا پر قوم میں اختلافات کو فروغ دیا گیا تو اس کے مستقبل میں خطرناک نتائج جنم لے سکتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی کا مقصد ہی ظلم کا خاتمہ تھا، آج پھر وقت آ گیا ہے کہ تمام علمائے کرام ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں اور رسم شبیری ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیں۔ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کے تمام مسائل کا حل ہے۔ قربانی حسین کا درس بھی یہی ہے۔ قربانی حسین کی شمع جتنی فروزاں ہوتی چلی جائے گی' نفرت اور اختلافات کی تاریکیاں اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی چلی جائیں گی اورمسلمان اس ظلم سے نجات پا لیں گے جس کی چکی میں آج وہ بری طرح پستے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام علمائے کرام اتحاد کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
سانحہ کربلا جہاں آج مسلمانوں کو دلگیر کرتا ہے وہاں ظلم کے خلاف جرات و ہمت کا مظاہرہ کرنے کا درس بھی دیتا ہے۔ محرم الحرام کے ابتدائی عشرے میں پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں سید الشہداء کی یاد میں مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں جہاں ان کی حق کی راہ میں دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں دہشت گردی کا خوف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آج کا مقدس دن پورے امت مسلمہ سے اس امر کا متقاضی ہے کہ ظلم اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکجا ہو کر کوششیں کی جائیں اور اس کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے۔حکومت نے دہشت گردی کے کسی ممکنہ سانحہ سے بچنے اور مجالس عزا کے پرامن اور پر سکون ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کر رکھے ہیں۔کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے صوبہ سندھ اور پنجاب میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے اور متعدد شہروں میں موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔تمام تر سیکیورٹی انتظامات کے باوجود کراچی میں دہشت گردوں نے دو امام بارگاہوں کے قریب تین دھماکے کر دیے جس سے پولیس اہلکاروں،صحافیوں سمیت بائیس افراد زخمی ہو گئے۔
چند روز قبل گوجرانوالہ میں دو امام بار گاہوں میں ہونے والا سانحہ اس امر کی وارننگ تھی کہ دہشت گرد سرگرم ہیں اور کسی بھی وقت اپنی مذموم کارروائی کر کے خوف و ہراس پھیلا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال 8 محرم الحرام کو ملک کے آٹھ مختلف مقامات پر امام بار گاہوں اور تعزیہ کے جلسوں میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں پچاس کے قریب بے گناہ افراد شہید ہوگئے اور اتنے ہی زخمی ہو گئے تھے' اس سانحے کے بعد سیکیورٹی ادارے چوکنا ہو گئے اور حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے مگر اس سب کے باوجود 9 محرم الحرام کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ماتمی جلوس میں خود کش دھماکے کے باعث سات افراد جاں بحق اور درجن کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔ محرم الحرام میں کسی ممکنہ دہشت گردی کے واقعے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ادارے اپنی جانب سے بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر دہشت گردی کا عفریت اس قدر پھیل چکا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔
وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے تھا کہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی اور مخدوش صورتحال کے باعث اتحاد بین المسلمین اور بھائی چارے کی فضا ہموار کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی خدمات حاصل کرتی اور انھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے مذہبی رواداری کو فروغ دیتی۔ تمام علمائے کرام پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں انتشار کے خاتمے اور دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد کی فضا پیدا کریں تاکہ تمام مسلمانوں میں بلا تفریق مسلک و فرقہ تحفظ کا احساس پیدا ہو جو ملک و قوم کی سالمیت اور ترقی و خوشحالی کے لیے بنیادی اساس ہے۔ امن و امان کی زبوں حالت کے باعث فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پہلے کی بہ نسبت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عاشورہ محرم کو پوری دنیا کے سامنے مذہبی یک جہتی اور رواداری کے لیے بطور مثال پیش کیا جانا چاہیے۔ تمام علمائے کرام وقت کی نزاکت و اہمیت کا پوری طرح ادراک کرتے ہوئے اپنے تمام مسلکی اختلافات' فرقہ وارانہ جھگڑوں اور تنازعات کو بالائے طاق رکھ کر مکمل اتحاد و یک جہتی کو فروغ دیں اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو مسلمانوں میں فرقہ وارانہ اختلافات کو جنم دینے کے لیے سرگرم ہیں۔
علمائے کرام ہی وہ قوت ہیں جو انتشار اور افتراق کا شکار امہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر سکتے ہیں۔ یہ امام عالی مقامؓ کی قربانی ہی کا فیض ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے اپنے اوپر مسلط آمرانہ حکومتوں کے خاتمے اور اسلامی اصولوں کے مطابق منتخب حکومتوں کے قیام کے لیے قربانیاں دیں۔ آج دہشت گرد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کھلم کھلا اپنے ناپاک عزائم کا اظہارکر رہے ہیں۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں پر لازم آتا ہے کہ وہ ایسے موقع پر دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کریں اور کوئی ایسا بیان جاری نہ کریں جسے سے قوم میں مزید تقسیم کا عمل جنم لے اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور انتشار کی خلیج روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جائے۔
اگر حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر ذاتی نظریات کی ترویج کی بنا پر قوم میں اختلافات کو فروغ دیا گیا تو اس کے مستقبل میں خطرناک نتائج جنم لے سکتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی کا مقصد ہی ظلم کا خاتمہ تھا، آج پھر وقت آ گیا ہے کہ تمام علمائے کرام ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں اور رسم شبیری ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیں۔ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کے تمام مسائل کا حل ہے۔ قربانی حسین کا درس بھی یہی ہے۔ قربانی حسین کی شمع جتنی فروزاں ہوتی چلی جائے گی' نفرت اور اختلافات کی تاریکیاں اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی چلی جائیں گی اورمسلمان اس ظلم سے نجات پا لیں گے جس کی چکی میں آج وہ بری طرح پستے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام علمائے کرام اتحاد کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔