الیکشن نہ ہوئے تو سول نافرمانی شروع ہوسکتی ہے لیاقت بلوچ

اتفاق رائے سے عبوری حکومت قائم کی جائے، الیکشن کمیشن کو بااختیار بنایا جائے۔

نئے بلدیاتی نظام کی تشکیل کے سلسلے میں کراچی کی اسٹیک ہولڈرز جماعتوں کونظرانداز کیا جارہا ہے۔فوٹو: فائل

جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ' اگر انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کیا گیا تو سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوسکتی ہے۔

شفاف انتخابات کے لیے ناگزیر ہے کہ قومی اتفاق رائے سے عبوری حکومت قائم کی جائے ' الیکشن کمیشن کو بااختیار بنایا جائے' ٹھپہ کلچر کا خاتمہ کیا جائے اور پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کو روکا جائے ۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے مقامی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔


اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمد حسین محنتی'سیکریٹری نسیم صدیقی و دیگر بھی موجود تھے۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور اقتدار میں کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے 'گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا گیا ،نئے بلدیاتی نظام کی تشکیل کے سلسلے میں کراچی کی اسٹیک ہولڈرز جماعتوں کونظرانداز کیا جارہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات کی آڑ میں عام انتخابات کے التواء کا کوئی جواز نہیں۔انھوں نے کہاکہ نئے چیف الیکشن کمشنر کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور چونکہ وہ خود کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے سب سے بڑا چیلنج کراچی میں ووٹرلسٹوں کی درستی کا ہے ہر طرح نقائص سے پاک ووٹر لسٹوں کی تیاری شفاف انتخابات کے لیے ناگزیر ہے۔
Load Next Story