ارباب رحیم کوگرفتار نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل مسترد
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کافیصلہ برقراررکھا،ارباب رحیم پرکوئی مقدمہ نہیں ہے، رشید رضوی۔
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کافیصلہ برقراررکھا،ارباب رحیم پرکوئی مقدمہ نہیں ہے، رشید رضوی فوٹو :فائل
SINGAPORE:
سپریم کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سابق وزیراعلی سندھ اورمسلم لیگ ہم خیال کے صدرارباب غلام رحیم کی وطن واپسی کے موقع پر حکومت کو ان کی گرفتاری سے روکنے کے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور اس فیصلے کیخلاف حکومت سندھ کی اپیل نمٹادی ۔
سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے گزشتہ دنوں سینیٹ انتخابات کے موقع پر ارباب غلام رحیم کی ممکنہ آمد کے موقع پر حکومت کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ارباب غلام رحیم کیخلاف کوئی مقدمہ نہیں لیکن اندیشہ ہے کہ سیاسی دشمنی کی بنا پر انھیں گرفتار کرلیا جائیگا۔
اس لیے حکومت سندھ کو ہدایت کی جائے کہ ارباب غلام رحیم کو گرفتار نہ کیا جائے،اس درخواست پر ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں حکومت سندھ نے موقف اختیارکیا کہ ہائیکورٹ کا یہ حکم صرف سینیٹ کے انتخابات کے لیے تھا اس لیے سپریم کورٹ قراردے کہ یہ حکم سینیٹ کے انتخابات کے بعد غیر موثرہوگیا۔
ارباب غلام رحیم کی جانب سے رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ سندھ ہائیکورٹ کا یہ حکم اب بھی موثر ہے کیونکہ ارباب رحیم کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ نہیں اسلیے وطن واپسی پر انھیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا، ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے بینچ کو یقین دہانی کرائی کہ وطن واپسی پر حکومت سندھ ارباب غلام رحیم کو گرفتار نہیں کریگی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سابق وزیراعلی سندھ اورمسلم لیگ ہم خیال کے صدرارباب غلام رحیم کی وطن واپسی کے موقع پر حکومت کو ان کی گرفتاری سے روکنے کے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور اس فیصلے کیخلاف حکومت سندھ کی اپیل نمٹادی ۔
سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے گزشتہ دنوں سینیٹ انتخابات کے موقع پر ارباب غلام رحیم کی ممکنہ آمد کے موقع پر حکومت کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ارباب غلام رحیم کیخلاف کوئی مقدمہ نہیں لیکن اندیشہ ہے کہ سیاسی دشمنی کی بنا پر انھیں گرفتار کرلیا جائیگا۔
اس لیے حکومت سندھ کو ہدایت کی جائے کہ ارباب غلام رحیم کو گرفتار نہ کیا جائے،اس درخواست پر ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں حکومت سندھ نے موقف اختیارکیا کہ ہائیکورٹ کا یہ حکم صرف سینیٹ کے انتخابات کے لیے تھا اس لیے سپریم کورٹ قراردے کہ یہ حکم سینیٹ کے انتخابات کے بعد غیر موثرہوگیا۔
ارباب غلام رحیم کی جانب سے رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ سندھ ہائیکورٹ کا یہ حکم اب بھی موثر ہے کیونکہ ارباب رحیم کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ نہیں اسلیے وطن واپسی پر انھیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا، ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے بینچ کو یقین دہانی کرائی کہ وطن واپسی پر حکومت سندھ ارباب غلام رحیم کو گرفتار نہیں کریگی۔