اسرائیلی فوج کی غزہ میں گولہ باری شہری زخمی فلسطینی مذاکراتی وفد مستعفی
گولہ باری سے 24 سالہ محمود عبداللہ زخمی ہوا، مغربی کنارے کے شہرجنین میں اسرائیلی فورسز نے 2 فلسطینیوں کوگرفتارکرلیا
اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکنے پرفلسطینی مذاکراتی وفد نے استعفیٰ دیا،صدرمحمود عباس کی گفتگو فوٹو: اے ایف پی
فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کے وسطی علاقے المصدر میں قابض صہیونی فوج کی بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں ایک شہری شدید زخمی ہو گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صہیونی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں المصدر کے مقام پر24 سالہ محمود عبداللہ المنیفی کے سینے میں ایک گولی لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ زخمی شہری کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ دریں اثنا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے چھاپہ مارکر جنین شہرسے 2 فلسطینیوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے شہری شمالی فلسطین کے شہرالعفولہ میںیہودی فوجی کوہلاک کرنے والے فلسطینی کا والد اورچچا بتائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی مذاکراتی وفد مستعفی ہوگیا۔
جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکنے پر اس کے مذاکراتی وفد نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فلسطینی اسرائیلی مذاکرات مشرقی بیت القمدس اور اردن کے متنازع علاقوں میں یہودی آباد کاری کی وجہ سے متاثرہورہے ہیں۔ تقریباً 5 برس کے بعد امریکی کوششوں سے جولائی میں بحال ہونے والے مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ محمود عباس کے بقول ان کے وفد کے ارکان کے مستعفی ہونے کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا گر وفد کے ارکان اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتے تو ایک نیا وفد بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صہیونی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں المصدر کے مقام پر24 سالہ محمود عبداللہ المنیفی کے سینے میں ایک گولی لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ زخمی شہری کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ دریں اثنا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے چھاپہ مارکر جنین شہرسے 2 فلسطینیوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے شہری شمالی فلسطین کے شہرالعفولہ میںیہودی فوجی کوہلاک کرنے والے فلسطینی کا والد اورچچا بتائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی مذاکراتی وفد مستعفی ہوگیا۔
جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکنے پر اس کے مذاکراتی وفد نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فلسطینی اسرائیلی مذاکرات مشرقی بیت القمدس اور اردن کے متنازع علاقوں میں یہودی آباد کاری کی وجہ سے متاثرہورہے ہیں۔ تقریباً 5 برس کے بعد امریکی کوششوں سے جولائی میں بحال ہونے والے مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ محمود عباس کے بقول ان کے وفد کے ارکان کے مستعفی ہونے کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا گر وفد کے ارکان اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتے تو ایک نیا وفد بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔