ہزاروں روسی نوجوان بشارالاسد حکومت کیخلاف جنگ میں شریک

قفقاز کے ایک گاؤں کی ہر گلی میں شامی باغیوں کے حق میں نعرے درج ہیں

حلب میں باغیوں اور سرکاری فوج کی لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی فوٹو؛فائل

روس سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوان شام میں اسد حکومت کیخلاف جنگ کیلیے روانہ ہوگئے۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ایک طرف روسی حکومت شامی صدر بشار الاسد کی سب سے بڑی حامی ہے تو دوسری طرف شمالی روس کے علاقے قفقاز سے تعلق رکھنے والے اسلام پسند نوجوان شام میں باغیوں کی مدد کے لیے جنگ میںبراہ راست حصہ لے رہے ہیں۔ قفقاز صوبہ داغستان کے قریب واقع ہے، وہاں کے گاؤں نووسستلی کی ہر گلی میں شامی باغیوں کے حق میں نعرے درج ہیں۔




دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ یہاں سے تعلق رکھنے والے 2000 سے زائد نوجوان اسد حکومت کے خلاف باغیوں کا ساتھ دینے کیلیے شام لڑ رہے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد یہ جنگجو روس کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف دمشق کے نواحی علاقوں میں صدر اسد کی افواج کی پیش قدمی جاری ہے جبکہ حلب میں پچھلے 5 روز سے جاری باغیوں اور صدر اسد کی فوجوں کے درمیان لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی۔
Load Next Story