ٹھوس اقتصادی سمت کی ضرورت

معیشت کی طاقت اور ابھرتی معیشتوں میں پاکستانی معیشت کی شمولیت کے خواب خوش آئند ہیں۔

معیشت کی طاقت اور ابھرتی معیشتوں میں پاکستانی معیشت کی شمولیت کے خواب خوش آئند ہیں۔ فوٹو: فائل

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے شرح سود 13.25فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال ملک میں مہنگائی کی شرح11 سے 12 فیصد رہے گی ، تاہم سپلائی کا عمل بہتر ہونے سے مہنگائی کی شرح کم ہونے کی توقع ہے، زرعی پیداوار ہدف سے کم ہونے کا خدشہ ہے۔ پریس کانفرنس میں مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے اور13.25 فیصد پر قائم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کی معروضات میں بلاشبہ پیش رفت اور ٹریکل ڈاؤن کے اشارے ملتے ہیں لیکن عوام پر مہنگائی کا جو بوجھ آن پڑا ہے ، اسے شیئر کرنے والا کوئی نہیں جب کہ ملکی معیشت میں پیشرفت کے عوامی نقطہ نظر سے حکومتی ثمرات کی آمد بھی '' تخیلات سے پرے '' نظر آتی ہے۔

اقتصادی ماہرین اور اسٹیٹ بینک کی جائزہ رپورٹ کے پیشگی حوالوں کے برعکس صارفین اور عام آدمی کو مشکلات کا مسلسل سامنا تھا اور رہے گا، مہنگائی کا جن کسی صورت بوتل میں واپسی کے لیے آمادہ نہیں ہے اورکوئی اتھارٹی، ٹاسک فورس، کمیٹیاں ، وزارت تجارت و خزانہ اس عفریت سے نمٹنے میں کامیابی کے دعوے نہیں کرسکتیں۔

یوٹیلٹی اسٹورز کو 7 ارب کی سبسڈی ملنے پر بھی نہ تو مہنگائی کم ہوئی اور نہ اشیائے صرف کے معیار اوران میں ملاوٹ کے سدباب کے لیے دیرپا اقدام بروئے کار لائے گئے، ملک بھر میں مہنگائی پہلے دن سے ایک بے لگام رفتار سے آگے بڑھتی چلی جارہی ہے جس نے عوام کے لیے جینا مشکل بنا دیا ہے۔

اب تک تو طلب ورسد کے نظام میں معقولیت لانا ناگزیر تھا مگر مارکیٹ میں حکومت کی تجارتی اور کاروباری رٹ کہیں کام کرتے ہوئے نہیں ملتی ، ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ اشیائے صرف کی روز افزوں قیمتوں کو روکنے کے لیے لازم ہے کہ پی ٹی آئی حکام کچھ وقت عوام کی کسمپرسی اور مجبوریوں میں کمی لانے کے لیے بھی نکالیں۔ ان کے اندر محاذآرائی سیاسی مفاہمت کے لیے نقصان دہ ہے، رواداری کے فقدان سے کوئی حکومت اپنی معاشی ترجیحات اور اہداف کی تکمیل نہیں کرسکتی، اس کے لیے ٹھوس اقتصادی مائنڈ سیٹ کا ہونا ضروری ہے اور عوام کو جن نامساعد حالات کا سامنا ہے ان کے ازالے کے لیے ملکی معیشت ایک مربوط اور مستحکم قومی اقتصادی پالیسی اور سسٹم کا سنگ بنیاد اس عزم کے ساتھ رکھے جو قوم اور دنیا کی دیگر اقوام کو بھی نظر آجائے۔

معیشت کی طاقت اور ابھرتی معیشتوں میں پاکستانی معیشت کی شمولیت کے خواب خوش آئند ہیں مگر جب تک عوام کو جمہوری ثمرات نہیں ملتے اور دو وقت کی روٹی اور روزگار، رہائش، اور جرائم و بدانتظامی کا جن بھی بوتل میں بند نہیں کیا جاتا ، عوام کسی لارے لپے منسٹروں کے دام فریب میں نہیں آئیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کے خواب بے حد قابل تحسین ہیں لیکن انھیں سیاسی ، سماجی اور انتظامی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے چٹان جیسی آہنی قوت فیصلہ بھی چاہیے، وزرا اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کو کنٹرول کریں، ٹی وی ٹاکس کے ذریعے کوئی معاشی انقلاب برپا نہیں ہوگا ، اس کے لیے عوام کی تڑپتی روحوں کے اندر جھانکنا شرط ہے، ملک بھر کی سبزی منڈیوں اور بچت بازاروں میں پرائس کنٹرولنگ میکنزم کو فعال کرکے ہی عوام کو گراں فروشی کے عذاب سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔


سوال یہ ہے کہ جس نظام کے تحت صارفین کو افراط زر، شرح سود ، زرعی پالیسی ، مہنگائی اور مانیٹری پالیسی سمیت دیگر زرعی، صنعتی اور معاشی سرگرمیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا جاتا ہے اسی ترتیب اور توجہ سے مہنگائی کے خاتمے کے لیے ایک فیصلہ کن کریک ڈاؤن اب تک ممکن کیوں نہیں ہوسکا؟ کب اور کہاں سبزی و غلہ منڈیوں، چینی اور گندم کی فراہمی اور اسٹوریج یا گوداموں پر چھاپے پڑتے کسی نے دیکھے، یہ بے حسی اور کیموفلاج کیوں ہے۔

کم از کم فوڈ سیکیورٹی ادارے ، ملاوٹ کی روک تھام کے محکمے اور ہر وقت تیار مجسٹریسی سسٹم میں عوام کی داد رسی کے لیے دستیاب ہو جہاں عوام مہنگائی کا رونا روئیں اور منافع خوروںاور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی لب کشائی کریں۔ حقیقت اس لیے عوام کے دل دکھاتی ہے کہ ارباب اختیارغریب طبقات کو اوپر لانے کے صرف زبانی دعوؤں کے شوق کی اداکاری کر رہے ہیں، انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ بیروزگاری نے تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی طاقت اور سفید پوش طبقے کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق عوامل ایسے ہیں، جن کے نتیجے میں مہنگائی پر دباؤ بتدریج کم ہونے کی توقع ہے۔ ملک کے معاشی حالات اور افراط زرکی شرح کو دیکھتے ہوئے موجودہ شرح سود کو ٹھیک کہا جاسکتا ہے۔ جولائی سے اب تک مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، رواں سال شرح گیارہ سے بارہ فیصد رہے گی، مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجائے گی۔ رواں سال زرعی پیداوار ہدف سے کم ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کے مقابلے میں دیگر شعبوں میں پیداوار بڑھ رہی ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے اچھے اشاریئے سامنے آرہے ہیں جب کہ سیمنٹ کی پروڈکشن بھی بڑھ رہی ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے برآمدی صنعتوں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی مرکزی بینک کی ترجیح ہے، اس لیے برآمدی شعبے کے لیے قرضوں کی حد 200 ارب روپے کی جا رہی ہے۔ اس رقم سے وہ کارخانے لگیں گے جس سے روزگارکے مواقعے پیدا ہونگے۔ پاکستان کا دوسرے ممالک سے موازنہ کریں تو شرح سود اتنی زیادہ نہیں ہے۔ ایکسپورٹ اور اس کے دیگر سیکٹر پر فارم کررہے ہیں۔ انڈسٹریل سیکٹر میں پیداوار بڑھ رہی ہے اوراس کے اثرات بھی جلد نظر آنا شروع ہونگے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ایل ٹی ایف ایف اسکیم کی سہولت اب تمام ایکسپورٹرز کو ملے گی، ایل ٹی ایف ایف کی حد ڈھائی ارب سے بڑھا کر5 ارب کر رہے ہیں، اگلے کچھ ہفتوں میں چھوٹے برآمد کنندگان کو بھی سہولت دینے کے لیے اسکیم متعارف کروا رہے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ریفارمز کررہے ہیں، ساکرا اکاؤنٹ کے ذریعے اب ٹریژری بلزکی خریداری سرمایہ کار کر رہے ہیں، بانڈز اور بلز کی ڈیمانڈ بڑھنے سے ہمارے ریزرو میں اضافہ ہوگا۔ کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ 7ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر اب 11ارب ڈالر پر موجود ہیں، ایکسٹرنل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی کم ہوا ہے، اسٹیٹ بینک ہر قسم کے رسک کو بہت باریکی سے مانیٹر کررہا ہے، ٹریژری بلز کی بھی مکمل طور پر اسٹیٹ بینک نگرانی کر رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کا اقتصادی ، مالیاتی اور معاشی منظرنامہ دلکش ہے، خدا کرے سارے اہداف خوش اسلوبی سے پورے ہوں، ملکی معیشت کاغذوں سے نکل کر زمینی حقیقت بن جائے، لوگوں کو آسودگی ملے، ایک ایٹمی ملک کو آٹے اور چینی کے بحران سے نجات ملے، انتظامی شفافیت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو ، اداروں میں ہم آہنگی مثالی ہو، ریاست کے اندر ریاست کے مافیائی جنون کو شکست ہو، جمہوریت فتح یاب ہو۔

ان خوابوں کی عوام تعبیر چاہتے ہیں، مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عدم مساوات بڑھ گئی ہے، غریبی اور امیری کا فرق ریاست اور حکومتی بنیادوں کو ہلادینے کی دہلیز پر پہنچ رہا ہے، ایک خاموش اضطراب دروازے پر دستک دے رہا ہے، حکومت اور ان کے معاشی مسیحا عوام کو ڈرامہ بازی سے نہ بہلائیں، مژگاں کھولیں کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ کو استحصالی قراردے رہی ہے۔ ریلوے قومی یکجہتی اور تمدنی تسلسل کے لیے ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے اس پر چیف جسٹس کے ریمارکس چشم کشا ہیں۔
Load Next Story