گرین ہاؤس گیسز کا بڑا منبع بحیرہ احمر ہے‘ نئی تحقیق
صنعتی علاقوں اور جہاز رانی کی وجہ سے خارج ہونے والی گیس نائٹرو آکسائیڈ کے ساتھ مل کر زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔
صنعتی علاقوں اور جہاز رانی کی وجہ سے خارج ہونے والی گیس نائٹرو آکسائیڈ کے ساتھ مل کر زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کو ذمے دار قرار دیا جاتا ہے تاہم تازہ تحقیق کے مطابق بحیرہ احمر کی تہہ سے بھی بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں جس کی ذمے داری بڑی مقدار میں فوصل فیول برآمد کرنے والے ممالک پر عائد ہوتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ بحیرہ احمر کی تہہ سے پھوٹنے والی گرین ہاؤس گیسیں زیرزمین تیل کے رسنے والے ذخائر کے ساتھ چلتے چلتے بحیرہ احمر کی تہہ تک پہنچ جاتی ہیں اور وہاں سے بڑی مقدار میں خارج ہوتی ہیں، اس کے علاوہ اس علاقے سے گزرنے والے تیل کے بڑے بڑے ٹینکروں سے لیک ہونے والا مواد بھی بحیرہ احمر سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ بن رہا ہے۔
معلومات کے مطابق دیگر ممالک کی اس علاقے میں جہاز رانی بھی گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ بنتی ہے۔ان مضر گیسوں کا اخراج انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کا نصف سے بھی زیادہ حصہ ہے علاوہ ازیں اس علاقے سے مزید تیل بھی نکالا جا رہا ہے جس سے فضا میں بہت بھاری مقدار میں زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔
2017 میں خلیج عرب کے گرد و نواح میں جو تیل نکالا گیا اس کے بارے میں پلینک انسٹی ٹیوٹ فار کیمسٹری کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر کے اوپر فضا میں گرین ہاؤس گیسز کی مقدار کے بارے میں پہلے سے جو اندازہ لگایا گیا تھا یہ گیس اس اندازے سے 40 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو کاربن کے جلنے سے فضا میں دو قسم کی گیسیں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں جو زیر زمین گیس اور تیل کے ذخائر سے خارج ہوتی ہیں جو کہ نائٹروجن آکسائیڈ میں شامل ہو کر اسے اور زیادہ مہلک بنا دیتی ہیں اور یہ گیس سمندر کی تہہ سے نکل نکل کر بتدریج پانی کے اوپر تک پہنچ جاتی ہیں، ان کو پھر پانی کی لہریں چاروں طرف لیے پھرتی ہیں جہاں وہ دیگر گیسوں کے ساتھ مل کر اپنی ہیت تبدیل کر لیتی ہیں۔
صنعتی علاقوں اور جہاز رانی کی وجہ سے خارج ہونے والی گیس نائٹرو آکسائیڈ کے ساتھ مل کر زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ ان گیسوں میں متحدہ عرب امارات اور کویت کی طرف سے برآمد کی جانے والی ہائیڈروجن گیسز بھی اپنا مہلک کردار ادا کرتی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ بحیرہ احمر کی تہہ سے پھوٹنے والی گرین ہاؤس گیسیں زیرزمین تیل کے رسنے والے ذخائر کے ساتھ چلتے چلتے بحیرہ احمر کی تہہ تک پہنچ جاتی ہیں اور وہاں سے بڑی مقدار میں خارج ہوتی ہیں، اس کے علاوہ اس علاقے سے گزرنے والے تیل کے بڑے بڑے ٹینکروں سے لیک ہونے والا مواد بھی بحیرہ احمر سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ بن رہا ہے۔
معلومات کے مطابق دیگر ممالک کی اس علاقے میں جہاز رانی بھی گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ بنتی ہے۔ان مضر گیسوں کا اخراج انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دنیا بھر کے تیل کے ذخائر کا نصف سے بھی زیادہ حصہ ہے علاوہ ازیں اس علاقے سے مزید تیل بھی نکالا جا رہا ہے جس سے فضا میں بہت بھاری مقدار میں زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔
2017 میں خلیج عرب کے گرد و نواح میں جو تیل نکالا گیا اس کے بارے میں پلینک انسٹی ٹیوٹ فار کیمسٹری کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر کے اوپر فضا میں گرین ہاؤس گیسز کی مقدار کے بارے میں پہلے سے جو اندازہ لگایا گیا تھا یہ گیس اس اندازے سے 40 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو کاربن کے جلنے سے فضا میں دو قسم کی گیسیں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں جو زیر زمین گیس اور تیل کے ذخائر سے خارج ہوتی ہیں جو کہ نائٹروجن آکسائیڈ میں شامل ہو کر اسے اور زیادہ مہلک بنا دیتی ہیں اور یہ گیس سمندر کی تہہ سے نکل نکل کر بتدریج پانی کے اوپر تک پہنچ جاتی ہیں، ان کو پھر پانی کی لہریں چاروں طرف لیے پھرتی ہیں جہاں وہ دیگر گیسوں کے ساتھ مل کر اپنی ہیت تبدیل کر لیتی ہیں۔
صنعتی علاقوں اور جہاز رانی کی وجہ سے خارج ہونے والی گیس نائٹرو آکسائیڈ کے ساتھ مل کر زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ ان گیسوں میں متحدہ عرب امارات اور کویت کی طرف سے برآمد کی جانے والی ہائیڈروجن گیسز بھی اپنا مہلک کردار ادا کرتی ہیں۔