دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی

یوم عاشورمجموعی طورپردہشتگردی،تخریب کاری،ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکوں کےممکنہ خطرات کےبرعکس مذہبی جوش وخروش کےساتھ منایاگیا

راجہ بازار سے گزرنے والے عاشورہ کے جلوس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد مسلح تصادم ہوا جس میں 8 افراد جاں بحق اورمتعددزخمی ہوئے۔ فوٹو: فائل

یوم عاشور مجموعی طور پردہشت گردی،تخریب کاری ، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے ممکنہ خطرات کے برعکس مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا اور ملک کے انتہائی حساس شہروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر حکمت عملی ، مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی کی ہمہ جہت اسٹریٹجی کے باعث لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور کوٹ ادو میں یوم عاشور کے موقع پر ماتمی جلوسوں پر حملوں کے منصوبے ناکام بنا دیے گئے ۔تاہم دہشت گردوں ،کالعدم تنظیموں اور امن دشمن عناصر نے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس میں انھیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوسکی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلے میں6 دہشتگرد ہلاک جب کہ9 ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا۔ادھر جمعہ کو راولپنڈی میں راجہ بازار سے گزرنے والے عاشورہ کے جلوس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد مسلح تصادم ہوا جس میں 8 افراد جاں بحق اور متعدد افراد بھگدڑ اور فائرنگ سے زخمی ہوئے جب کہ مشتعل افراد کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں کی روک تھام کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ،متاثرہ علاقوں میں فوج اور پولیس کا گشت جاری ہے تاکہ مکمل امن بحال ہوسکے ۔

پنجاب حکومت نے افسوسناک واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے سانحہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے، بادی النظر میں اگرچہ یہ خود کش حملہ ،بم دھماکا یا دہشت گردی کی کارروائی نہیں کہی جارہی لیکن اس سے شہیدان کربلا کی پاک روحوں کو ناروا تکلیف پہنچانے کا جو ناخوشگوار اور افسوسناک واقعہ پیش آیا اس کے محرکات تحقیقات کے بعد ہی منظر عام پر آسکتے ہیں ۔ ہفتہ کو ملتان میں بھی دو گروپوں میں کشیدگی کے بعد فوج طلب کر لی گئی، مزید براں اسلام آباد کے علاقے ترنول میں حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسزنے فائرنگ کے تبادلے کے بعدخودکش بمبار 25سالہ مطیع اللہ اور ماسٹر مائنڈ عبداللہ کوگرفتارکرکے خودکش جیکٹ اوراسلحہ برآمدکر لیا۔ مطیع اللہ نے انکشاف کیا کہ اس نے جی سکس کی ایک امام بارگاہ سے برآمدہونے والے جلوس پرحملہ کرنا تھا ۔ لاہور میں شاہدرہ امامیہ کالونی میں حساس اداروں اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 5دہشتگردوں کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کر لیا ، ملزموں سے مختلف مجالس، جلوسوں اور اہم عمارات کے نقشے اور پمفلٹ بھی ملے ۔


کراچی کے علاقے ماڑی پور میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں کالعدم لشکر جھنگوی کے6 دہشتگرد ہلاک ہوگئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں سی آئی ڈی پولیس کے3 اہلکار بھی زخمی ہوئے ، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں کالعدم تنظیم کا مقامی امیر اورجسٹس مقبول باقر خود کش حملہ، امام بارگاہ علی رضا، حیدری اور سپارکو روڈ بس حملوں کا ماسٹر مائنڈ گل حسن بلوچ بھی شامل ہے، ملزموں کے قبضے سے اسلحہ بھری گاڑی برآمد کی گئی جس میں 2خود کش جیکٹ، 4کلاشنکوف،2 نائن ایم ایم پستول ، ڈیٹونیٹرز، ریموٹ کنٹرول، دستی بم اور سیکڑوں گولیاں شامل ہیں۔ ایس ایس پی سی آئی ڈی اسلم خان نے بتایا کہ ملزم وکیل اور دو بیٹوں سمیت 50 سے زائد افراد کے قتل میں براہ راست ملوث تھے۔ انھوں نے جمعہ کو کھارادر میں حسینیہ ایرانیاں امام بار گاہ پر2 خودکش حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔ پشاور کے تھانہ پشتہ خرہ کی حدود میں اچینی بالا کے مقام پر رنگ روڈ کے کنارے نصب 20 کلو وزنی بم ناکارہ اور کوٹ ادو میں مرکزی ماتمی جلوس کے راستے سے 10 کلو وزنی دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم برآمد کر لیا گیا ۔ اسی مقام پر گزشتہ روز ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکا بھی کیا گیا تھا۔

بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں ایف سی نے2 دہشتگردوں کو گرفتار کرکے بھاری اسلحہ اوردھماکا خیز مواد برآمد کر لیا ۔ بلوچستان میں بم دھماکے سے3 افراد زخمی جب کہ 2چمن سے 2 لاشیں ملیں۔ہنگو میں ایک بار پھرشام 5 بجے تک کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا، دہشت گردی کی ایک کارروائی بنوں میں بھی ہوئی جس میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ان تمام دلگداز اور درد انگیز غیر انسانی واقعات کی اگر کڑیاں ملائی جائیں تو ملک میں داخلی بدامنی،خونریزی ، فرقہ وارانہ کشیدگی ، اور ریاستی رٹ کو مسلسل چیلنج کرنے کی دیوانگی کا ہولناک منظر نامہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے جو اس ضرورت کا احساس دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں تجاہل عارفانہ،تساہل، مصلحت، تذبذب اور لیت ولعل کی اب تک کی حکمت عملی زہر قاتل ثابت ہوئی ، اس لیے یوم عاشور پر سیکیورٹی فورسز کو جس دور اندیشی،تدبر اور حکمت و دانائی کے ساتھ ملک کے حساس علاقوں اور اہم شہروں میں تعینات کیا گیا اور چوکسی کی جو نظیر قائم کی گئی اسی طرح کا مستقل سیکیورٹی میکنزم ہمہ وقت روبہ عمل لایا جانا اشد ضروری ہے۔ فوج سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موثر انتظامات و اقدامات کے باعث ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے فورسز میں اشتراک عمل، غیر معمولی مستعدی، اطلاعات اور رابطہ کے بین ا لصوبائی نظام کی برق رفتاری سے بہترین نتائج حاصل کیے گئے۔یہ بڑی کامیابی ہے۔اس کا تسلسل جاری رکھا جائے۔
Load Next Story