وزارت فوڈسیکیورٹی کافیصلہروس کوبرآمدات خطرے میں پڑگئیں

پاکستانی چاولوں کے لئے روس ایک بڑی منڈی ہے جہاں اری 6اور باسمتی چاولوں کی بڑی ڈیمانڈ موجود ہے،برآمدکنندگان

وزارت کے مبہم خطوط پر روسی وفد نے رواں ماہ شیڈول دورہ بھی منسوخ کردیا، ذرائع فوٹو : فائل

وفاقی وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی کے یکطرفہ فیصلے کے باعث روس کے لیے پاکستان سے 5 ارب روپے مالیت کی ایگرو پراڈکٹس کی برآمدات خطرے میں پڑگئیں۔

جبکہ وزارت کی جانب سے غیرضروری اور مبہم خطوط بھیجے جانے کے بعد نومبر2013 میں پاکستان کا دورہ کرنے والا روسی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے وفد نے اپنا دورہ بھی منسوخ کردیا ہے جنہوں نے پاکستانی پراسیسنگ کمپنیوں، فیکٹریوں اور باغات کی انسپیکشن کی غرض سے دورے کا شیڈول طے کیا ہوا تھا۔ باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وفاقی سیکریٹری نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے اس لیبارٹری پر بلاجواز اعتراض کیا ہے جس کی ٹیسٹنگ رپورٹس کو نہ صرف روسی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ قبول کر رہا ہے بلکہ اسے حکومت پاکستان نے بھی گزشتہ سال ایک معاہدے کے تحت منظورکیا ہوا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی ہٹ دھرمی کے سبب پھلوں، سبزیوں اور چاول کی برآمدی سرگرمیوں بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے بانی و ترجمان عبدالواحد نے بتایا کہ ایک سال قبل ہی پاکستان اور روس کے درمیان برآمدی اشیا کی ٹیسنگ کے لیے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت گزشتہ سال پاکستان سے وسیع پیمانے پر پھل سبزی اور چاولوں کی برآمدات ہوئی تھیں اور پاکستانی برآمدکنندگان نے رواں سال بھی سیزن کے دوران اسی منظور شدہ لیبارٹری سے جانچ پڑتال کی سند کے ساتھ روس کے لیے اپنی مصنوعات برآمد کرنے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے لیکن غیرمتوقع طور پر وفاقی سیکریٹری نیشنل فوڈسیکیورٹی نے یکطرفہ طور پر فیصلہ صادر کرکے ان برآمدکنندگان کو اضطراب سے دوچار کردیا ہے جنہوں نے ایک سال قبل فصلوں، باغات وانڈسٹری پر کروڑوں روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی۔




عبدالواحد نے بتایا کہ فی الوقت پاکستانی برآمدکنندگان کے پاس روس سے کینو اور آلو کے8000 کنٹینرز کے آرڈرز موجود ہیں لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں انکی تکمیل رک گئی ہے، وفاقی وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی نے اگر اپنی ہٹ دھرم پالیسی برقرار رکھی تو پھل وسبزیوں کے بیشتر برآمدکنندگان کا دیوالیہ نکل جائے گا اور وہ آئندہ اپنے کاروباری شعبے کوتبدیل کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

چاولوں کے ایک سرفہرست برآمدکنندہ محمد جاوید غوری نے بتایا کہ پاکستانی چاولوں کے لیے روس ایک بڑی منڈی ہے جہاں پاکستان کے اری 6اور باسمتی چاولوں کی بڑی ڈیمانڈ موجود ہے اور ہرسال40 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا چاول برآمدکیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزارتوں اور نوکر شاہی کا کام تجارتی وصنعتی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کرنا ہے تاکہ وہ خوش دلی اور قومی جذبے کے ساتھ ملکی برآمدات کا حجم بڑھائیں لیکن حقائق سے آگہی کے باوجود بیوروکریسی بھی ان شعبوں کو سہولتیں بہم پہنچانے کے بجائے منفی نوعیت کی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس پر نواز حکومت کو اپنا موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story