بھارتی جنگی جنون کو کرارا جواب

بھارتی حکمراں وژن، عقل پرستی اور تعقل پسندی کی راہ سے گمراہ ہوگئے ہیں۔

بھارتی حکمراں وژن، عقل پرستی اور تعقل پسندی کی راہ سے گمراہ ہوگئے ہیں۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر اس نے جنگ شروع کی تو پھر اسے ختم ہم کریں گے، بھارتی حکومت اور فوجی قیادت غیر ذمے دارانہ بیانات دے رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی سْپیریئر فوجی حکمت عملی نے جنوبی ایشیا کو بہت بڑی تباہی سے بچایا ہے۔ میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ جنگ میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی، انسانیت ہارتی ہے، بھارت نے جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپورجواب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جو بھارتی فوج71سال میں 80 لاکھ کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکی وہ20 کروڑ70 لاکھ پاکستانیوں کوکیسے شکست دے سکتی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے بھارت کی جنگجویانہ اور مذموم وجارحانہ وارداتوں کو خاک میں ملانے کے لیے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ قومی امنگوں کی حقیقی ترجمانی ہے اور ساتھ ہی عسکری قیادت کی ہر قسم کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے ناقابل تسخیر جوش وجذبہ اور اولوالعزمی کی عکاس ہے۔

بھارت پر خطے کے امن کو خراب کرنے کی دیوانگی طاری ہے،اس کیفیت میں آنے کے لیے انھیں جن در پردہ قوتوں کی طرف سے شہ مل رہی ہے، پاکستان کو اس کا مکمل ادراک ہے، سیاسی وعسکری قیادت بھارتی عزائم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کرحائل ہے، اسے دشمن کی گیدڑبھبکیاں اپنے مقاصد ، منزل اور نصب العین سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں ، بھارتی غرور سرابوں اور سایوں کے تعاقب میں ہے، وہ پاکستان کی دشمنی میں انسانیت کے خلاف گھناؤنے اور بہیمانہ جرائم کا مجرم ہے،کشمیر پر اس کے غاصبانہ قبضے ، اقلیتوں کے خلاف شہریت قانون کے نفاذ ، مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل غیر انسانی کرفیو اور غیر قانونی اقدامات نے مودی کو رسوا کر دیا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار بھارتی جمہوریت اور سیکولر ازم کو اس کے کروڑوں شہریوں ، اپوزیشن جماعتوں اور سوسائٹی نے فسطائیت اور آر ایس ایس کے علمبردار کے طور پر بے نقاب کردیا ہے۔ بھارت کے اندر علیحدگی ، نفرت ، بیزاری ، انتقام اور ظلم وبربریت کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور مودی سرکارکی سمجھ میںنہیں آرہا کہ وہ اس تہذیبی دراڑ، سیاسی انتشار، معاشی بحران اور سفارتی رسوائی کا کیا حل تلاش کرے، مودی نے درحقیقت ہندوتوا کے دلدل میں بھارت کوکمر تک دھنسا دیا ہے جو پاکستان کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

ایک تازہ افواہ کی تفصیلی تردید ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کی ہے، انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آزاد کشمیر یا گلگت وبلتستان کو پاکستان میں شامل نہیں کیا جارہا، یہ جھوٹ اور افواہ ہے۔

بلاشبہ بھارتی اپوزیشن جماعتیں خوفزدہ ہیں کہ مودی کو مزید موقع دیا گیا تو بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کروانے کا خواب ہی ان ہی کے ہاتھوں شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ غیرملکی میڈیا اور موقر جرائد بھارت میں تقسیم در تقسیم کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں، امن پسند قوتیں بی جے پی کے طرز حکمرانی سے خائف ہی نہیں بلکہ انھیں اندیشوں نے گھیر لیا ہے، ان کے مشاہیر، فنکار، دانشور، سیاسی مدبر اور سماجی رہنما اس دھارے کے ساتھ ہیں جو شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کی ایک زنجیر تھام چکے ہیں، بھارت میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس کے بانیان جمہوریت و سیکولر ازم نے اس کا کبھی تصور نہ کیا ہوگا۔


ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فروری 2019ء میں پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی، افواج پاکستان کی تیاری، موثر جواب نے امن کا راستہ ہموارکیا، تینوں مسلح افواج نے اپنے آپ کو قابل فورسز کے طور پر منوایا، پاکستانی قیادت نے اس خطرے کو احسن طریقے سے نمٹا۔ بھارتی قیادت کہتی ہے7سے 10دن میں پاکستان کو ختم کر دیں گے،انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اوراس کی افواجِ ہمیشہ بھارت کو سرپرائزدیں گی۔ پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے، انڈین سول ملٹری لیڈر شپ کو بھی خطے میں امن کی اہمیت کا اندازہ ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جنرل باجوہ کی ملٹری ڈپلومیسی نے اقوامِ عالم میں پاکستان کا مقام بلند کیا ہے ، پاکستان اب مشکل وقت سے نکل کر بہتری کی طرف جا رہا ہے، 20 سال پہلے پاکستان Negative Relevance میں تھا اوراب Positive Relevance میں جا چْکاہے، اس مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنا اور متحد ہو کر مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے۔کوئی دْنیاوی طاقت ایک متحد قوم کو شکست نہیں دے سکتی، افواج اسلحے کے زور پر نہیں، جذبہ ایمانی اور عوام کی حمایت سے لڑتی ہیں۔

انھوں نے مزیدکہا کہ آرمی چیف نے آپریشن شیر دل سے ضرب عضب تک کی کامیابیوں کو رد الفساد کے ذریعے مستحکم کیا۔ رد الفساد سب سے مشکل آپریشن اور دائمی امن کے لیے اہم ترین مرحلہ ہے،آرمی چیف نے مذہبی ہم آہنگی و مدرسہ ریفارمز میں اہم کردار ادا کیا، پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو مضبوط و محفوظ کیا۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا مقصد ملکی سلامتی پر کوئی بھی سمجھوتہ کیے بغیر ملک اور خطے میں امن لانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی دنیا کی مانی ہوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے،آئی ایس آئی اور آئی بی ایم آئی نے مل کر بہت سے دہشت گردی کے واقعات کو روکا، ہمیں اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر فخر ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بطور ترجمان کوئی بات ذاتی رائے نہیں ہوتی، ملٹری ترجمان پالیسی سے مبرا کوئی بات نہیں کر سکتا، اگر بھارتی میرے جانے پر خوش ہیں تو میرے لیے یہ اعزاز ہے۔

ادھر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ عام آدمی تک یہ پیغام جاچکا کہ مودی حکومت آئین و قانون کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے، اور خطے میں جنگ کا ہوا کھڑا کرکے اور پاکستان کے خلاف کسی نہ کسی بہانے سے جعلی سرجیکل اسٹرائیک کا ڈھونگ رچاکر اپنی خفت مٹانے کے جھوٹے سہارے ڈھونڈ رہی ہے مگر پاک فوج اس کی راہ کی سب سے بڑی دیوار بنے گی۔

مودی کو اندازہ کرنا چاہیے کہ وہ ریت پر جنگی پلان کی بے کار لکیریں کھینچ کر تاریخ کے سب سے بڑے ''عسکری بلنڈر'' کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ خطے کو اپنی دیوانگی ، نااہلیت ، تنگ نظری، منافرت اور عاقبت نا اندیشی سے ناقابل تلافی نقصان سے دوچارکرنے کے درپے ہیں۔

بھارتی حکمراں وژن، عقل پرستی اور تعقل پسندیrationality کی راہ سے گمراہ ہوگئے ہیں، بھارت کے عوام کو بھوک ، بیماری ، بیروزگاری ، نسل در نسل غربت، خانماں بربادی ، ناخواندگی اور پسماندگی کے خلاف جدوجہد کی روشن قندیل درکار ہے لیکن مودی ان کے نصیب میں وقت کے اندھیرے لکھتے چلے جا رہے ہیں اور کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سیاسی و معاشی دورانیے میں ایسا برا وقت کبھی نہیں آیا ۔

بھارتی عوام کو ایک جنگجو اور مہم جو وزیراعظمٕ اپنی الٹی تدبیروں کے گورکھ دھندوں میں الجھا رہا ہے۔ مودی اور ان کے رفقا خطے کا امن وسکون برباد کرنے اور بھارتی عوام کو درپیش معاشی اور سیاسی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے خطے میں آگ سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ عالمی برادری صورتحال کی تماشائی نہ بنے، اس دیوانگی کو روکے، یہی عمل کا وقت ہے ۔
Load Next Story