پاکستان میں بڑھتے ہوئے الم ناک ٹریفک حادثات

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سب سے فالتو چیز انسان ہیں، اگرکچھ ہلاک بھی ہوجائیں توکوئی بات نہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سب سے فالتو چیز انسان ہیں، اگرکچھ ہلاک بھی ہوجائیں توکوئی بات نہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹریفک حادثات میں ایشیاء میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں انسان کی بالکل قدر ہی نہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سب سے فالتو چیز انسان ہیں، اگرکچھ ہلاک بھی ہوجائیں توکوئی بات نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں ناقص سی این جی سلنڈرز دراصل چلتے پھرتے بم ہیں،جب پھٹتے ہیں تو آگ بھڑک اٹھتی ہے اور سب کچھ جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ گزشتہ روز بھیرہ کے علاقے بھلوال روڈ پر موٹر وے فلائی اوورکے ساتھ مسافر ویگن میں آگ لگنے سے گیارہ مسافر جاں بحق ہوگئے، ابھی اس المناک حادثے کی خبرکوایک دن بھی نہ گزرا تھا کہ گوجر خان جی ٹی روڈ پر ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 3 سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ تیز رفتارکار سڑک کنارے کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی، جس سے کار میں سوار چار افراد جان کی بازی ہارگئے۔


پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال پچیس سے تیس ہزار افراد ٹریفک حادثات میں اپنی جان کھو دیتے ہیں اور ہزاروں افراد شدید زخمی اور مستقل طور پر معذور ہوجاتے ہیں۔

صرف صوبہ پنجاب کی سڑکوں پر روزانہ اوسطاً 700 ٹریفک حادثات ہوتے ہیں ، جن میں ہر روز اوسطاً آٹھ لوگ جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی،گاڑی میں خرابی، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، نوعمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلد باز رویہ ہے۔

اس طرح ٹریفک قوانین سے لاعلمی کے باعث وہ نا صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پاکستان میں روڈ سیفٹی کے چند قوانین موجود ہیں لیکن ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ اگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کی روش اختیار کی جائے تو ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی ممکن ہوسکتی ہے۔
Load Next Story