سانحہ راولپنڈی ذمے داروں کیخلاف کارروائی کی جائے
عبادت گاہوں میں خود کش حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں ایک عرصے سے ہوتی چلی آ رہی ہیں
کسی بھی سانحے کے بعد حکومتی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اس میں بیرونی ہاتھ کو ملوث قرار دے کر اصل حقائق اور اسباب سے اغماض برتتی رہی ہے۔فوٹو ایکسپریس/فائل
سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مامون رشید شیخ کی سربراہی میں جیوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے۔ یوم عاشور پر راولپنڈی میں دو گروپوں میں تصادم کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نصف شہر کو فوج کے حوالے کرنے کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو اور فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا' ملتان اور چشتیاں میں بھی دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد فوج نے حساس علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سانحہ راولپنڈی کے بعد ملک بھر میں امن و امان کے حوالے سے مذہبی رہنمائوں سے رابطہ کر کے ان سے تعاون کی درخواست کی ہے جب کہ کولمبو دورے پر گئے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کو فون کر کے صورت حال سے آگاہی حاصل کی اور واقعے میں ملوث شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔
پاکستان میں اس طرح کے فرقہ وارانہ فسادات کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ عبادت گاہوں میں خود کش حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں ایک عرصے سے ہوتی چلی آ رہی ہیں اس قسم کی وارداتوں سے عوام میں خوف و ہراس کے علاوہ امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ہر سانحے کے بعد حکمرانوں کی جانب سے روایتی بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ سانحے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مگر آج تک جتنے بھی سانحات رونما ہوئے ہیں ان کے ذمے دار کبھی سامنے نہیں آئے اور نہ عبادت گاہوں اور درگاہوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں اور شرپسندوں ہی کا کوئی سراغ لگایا جا سکا ہے۔ دہشت گرد ہر کارروائی کے بعد آزاد پھرتے رہتے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انتظامیہ ان کے سامنے بے بس ہے لہٰذا وہ بے خوف ہو کر ایک کے بعد دوسری کارروائی کرتے چلے جاتے ہیں اور انتظامیہ روایتی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
کسی بھی سانحے کے بعد پولیس مقدمہ درج کر کے ملزموں کی جلد گرفتاری کا اعلان کر دیتی ہے، وقتی طور پر سیکیورٹی اقدامات بڑھا دیے جاتے اور جگہ جگہ ناکے لگا کر شہریوں کی چیکنگ کی جاتی اور حکومت کی طرف سے فوری تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سانحہ زیادہ سنگین ہو تو کمیشن بنا دیا جاتا ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ کسی بھی سانحے کے وقت عوام میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت شدید ہوتی ہے، اس لیے عوام کا غصہ وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لیے وہ مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کرتے نہیں تھکتی۔ پھر چند دن بعد زندگی معمول پر آنے لگتی اور حکومت کے تمام دعوے اور بیانات بھی کسی فائل میں دب کر رہ جاتے ہیں اور یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
انتظامی ادارے بھی سب کچھ بھول جاتے ہیں اور کبھی ایسی منصوبہ بندی نہیں کرتے جس سے ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں یا کسی سانحے کے دوبارہ رونما ہونے کی صورت میں اس سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا جاتا ہے۔ پولیس روایتی تربیت کے بل بوتے پر شدید نوعیت کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی،اس کی تربیت جدید خطوط پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بھی سانحے کے رونما ہونے پر حالات کو جلداز جلد قابو پا سکے۔ کسی بھی سانحے کے بعد حکومت کی جانب سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹس کبھی منظر عام پر نہ آ سکیں۔ اگر تحقیقاتی رپورٹ کے کچھ مندرجات سامنے بھی آئے تو اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔حکومتی اداروں کے پاس ایسی فائلیں ضرور موجود ہوں گی جس میں دہشت گردوں کے پشت پناہوں کے نام درج ہوں گے اور کون سے ممالک پاکستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے پراکسی وار لڑ رہے ہیں' یہ بھی حکومتی اداروں کے علم میں ہو گا۔
کسی بھی سانحے کے بعد حکومتی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اس میں بیرونی ہاتھ کو ملوث قرار دے کر اصل حقائق اور اسباب سے اغماض برتتی رہی ہے، ملک میں کوئی بھی لسانی' فرقہ وارانہ یا دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو، اس کا الزام عموماً بھارتی ایجنسیوں پر تھوپ کر حکومت ہر ذمے داری سے بری ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان میں حالات خراب کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہو' سی آئی اے بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہو مگر ان تمام معاملات سے نمٹنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان تمام داخلی اور خارجی قوتوں کو بے نقاب کرے جو آستین کا سانپ بن کر پاکستان کو ڈس رہی ہیں۔ ان دوست نما دشمنوں کو عوام کے سامنے لایا اور ان کا احتساب کیا جائے۔
پاکستان میں مذہبی منافرت' مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت کے عفریت کو پالنے پوسنے میں ہماری بعض ریاستی پالیسیوں کا بھی حصہ رہا ہے۔ اس قسم کی باتیں بھی عام ہیں کہ بعض اسلامی ممالک پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر قائم تنظیموں اور شخصیات کی مالی امداد کرتے ہیں اور یہ تنظیمیں ان ممالک کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بنا کوئی چارہ نہیں کہ ریاستی سطح پر مذہبی تنظیموں' شخصیات اور فرقہ پرستوں کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ بعض مذہبی تنظیموں کو سیاسی سطح پر بھی سپورٹ کرکے حکومت میں شریک کیا گیا۔ دانش مندی اور تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے پہلے ریاست پاکستان اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، ملک کی سالمیت اور عوام کے تحفظ کی خاطر فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس معاملے میں کسی مصلحت کو آڑے نہ آنے دے۔ اگر حکومت نے اپنی روایتی پالیسیوں کو جاری رکھا اور فرقہ پرست تنظیموں کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا رہا تو ایسے سانحات کو مستقبل میں رونما ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔ سانحہ راولپنڈی موجودہ حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔ قتل و غارت کرنے والوں' عوام کی املاک کو نذر آتش کرنے والوں اور پولیس سے اسلحہ چھیننے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شرپسندوں کے پشت پناہوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔
پاکستان میں اس طرح کے فرقہ وارانہ فسادات کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ عبادت گاہوں میں خود کش حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں ایک عرصے سے ہوتی چلی آ رہی ہیں اس قسم کی وارداتوں سے عوام میں خوف و ہراس کے علاوہ امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ہر سانحے کے بعد حکمرانوں کی جانب سے روایتی بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ سانحے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مگر آج تک جتنے بھی سانحات رونما ہوئے ہیں ان کے ذمے دار کبھی سامنے نہیں آئے اور نہ عبادت گاہوں اور درگاہوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں اور شرپسندوں ہی کا کوئی سراغ لگایا جا سکا ہے۔ دہشت گرد ہر کارروائی کے بعد آزاد پھرتے رہتے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انتظامیہ ان کے سامنے بے بس ہے لہٰذا وہ بے خوف ہو کر ایک کے بعد دوسری کارروائی کرتے چلے جاتے ہیں اور انتظامیہ روایتی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
کسی بھی سانحے کے بعد پولیس مقدمہ درج کر کے ملزموں کی جلد گرفتاری کا اعلان کر دیتی ہے، وقتی طور پر سیکیورٹی اقدامات بڑھا دیے جاتے اور جگہ جگہ ناکے لگا کر شہریوں کی چیکنگ کی جاتی اور حکومت کی طرف سے فوری تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سانحہ زیادہ سنگین ہو تو کمیشن بنا دیا جاتا ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ کسی بھی سانحے کے وقت عوام میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت شدید ہوتی ہے، اس لیے عوام کا غصہ وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لیے وہ مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کرتے نہیں تھکتی۔ پھر چند دن بعد زندگی معمول پر آنے لگتی اور حکومت کے تمام دعوے اور بیانات بھی کسی فائل میں دب کر رہ جاتے ہیں اور یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
انتظامی ادارے بھی سب کچھ بھول جاتے ہیں اور کبھی ایسی منصوبہ بندی نہیں کرتے جس سے ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں یا کسی سانحے کے دوبارہ رونما ہونے کی صورت میں اس سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا جاتا ہے۔ پولیس روایتی تربیت کے بل بوتے پر شدید نوعیت کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی،اس کی تربیت جدید خطوط پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بھی سانحے کے رونما ہونے پر حالات کو جلداز جلد قابو پا سکے۔ کسی بھی سانحے کے بعد حکومت کی جانب سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹس کبھی منظر عام پر نہ آ سکیں۔ اگر تحقیقاتی رپورٹ کے کچھ مندرجات سامنے بھی آئے تو اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔حکومتی اداروں کے پاس ایسی فائلیں ضرور موجود ہوں گی جس میں دہشت گردوں کے پشت پناہوں کے نام درج ہوں گے اور کون سے ممالک پاکستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے پراکسی وار لڑ رہے ہیں' یہ بھی حکومتی اداروں کے علم میں ہو گا۔
کسی بھی سانحے کے بعد حکومتی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اس میں بیرونی ہاتھ کو ملوث قرار دے کر اصل حقائق اور اسباب سے اغماض برتتی رہی ہے، ملک میں کوئی بھی لسانی' فرقہ وارانہ یا دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو، اس کا الزام عموماً بھارتی ایجنسیوں پر تھوپ کر حکومت ہر ذمے داری سے بری ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان میں حالات خراب کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہو' سی آئی اے بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہو مگر ان تمام معاملات سے نمٹنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان تمام داخلی اور خارجی قوتوں کو بے نقاب کرے جو آستین کا سانپ بن کر پاکستان کو ڈس رہی ہیں۔ ان دوست نما دشمنوں کو عوام کے سامنے لایا اور ان کا احتساب کیا جائے۔
پاکستان میں مذہبی منافرت' مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت کے عفریت کو پالنے پوسنے میں ہماری بعض ریاستی پالیسیوں کا بھی حصہ رہا ہے۔ اس قسم کی باتیں بھی عام ہیں کہ بعض اسلامی ممالک پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر قائم تنظیموں اور شخصیات کی مالی امداد کرتے ہیں اور یہ تنظیمیں ان ممالک کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بنا کوئی چارہ نہیں کہ ریاستی سطح پر مذہبی تنظیموں' شخصیات اور فرقہ پرستوں کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ بعض مذہبی تنظیموں کو سیاسی سطح پر بھی سپورٹ کرکے حکومت میں شریک کیا گیا۔ دانش مندی اور تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے پہلے ریاست پاکستان اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، ملک کی سالمیت اور عوام کے تحفظ کی خاطر فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس معاملے میں کسی مصلحت کو آڑے نہ آنے دے۔ اگر حکومت نے اپنی روایتی پالیسیوں کو جاری رکھا اور فرقہ پرست تنظیموں کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا رہا تو ایسے سانحات کو مستقبل میں رونما ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔ سانحہ راولپنڈی موجودہ حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔ قتل و غارت کرنے والوں' عوام کی املاک کو نذر آتش کرنے والوں اور پولیس سے اسلحہ چھیننے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شرپسندوں کے پشت پناہوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔